1

2024ء کا الیکشن ہمارے ملک کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی تھی، اگر اس کو سمجھا جاتا، شاہد خاقان عباسی میں نے 10،11 الیکشن لڑے ہیں، کبھی نہیں دیکھا کہ نہ کیمپین ہو، نہ امیدوار کا پتہ ہو، نہ نشان ہو، نہ جلسہ ہو، نہ جلوس ہو، نہ پولنگ ایجنٹ ہو، اس کے باوجود کسی کو لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل ہوجائے؛ سابق وزیراعظم کی گفتگو

2024ء کا الیکشن ہمارے ملک کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی تھی، اگر اس کو سمجھا ..

اسلام آباد (ڈیلی پریس کانفرنس اخبارتازہ ترین۔ 31 اگست 2026ء) عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ 2024ء کا الیکشن پولنگ اسٹیشن پر ایک انقلاب تھا۔ اوریا مقبول جان کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں اپنے سیاسی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں 10 سے 11 انتخابات لڑے ہیں لیکن میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ نہ انتخابی مہم ہو، نہ امیدوار کا پتہ ہو، نہ الیکشن کا نشان ہو، نہ جلسے جلوس ہوں اور نہ ہی پولنگ ایجنٹ موجود ہوں اور اس سب کے باوجود کوئی پارٹی لینڈ سلائیڈ وکٹری یعنی بھاری اکثریت حاصل کر جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کی سیاست میں ایک بہت بڑی اور انقلابی تبدیلی تھی، کاش ہمارے فیصلے ساز اس کی گہرائی کو سمجھتے، میری یہ بات نوٹ کرلیں کہ آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کیے بغیر اگر آپ ملک میں ایک ہزار صوبے بھی بنا لیں تو بھی یہ ملک نہیں چل سکے گا۔
انہوں نے عدالتی و انتظامی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پمز ہسپتال سے متعلق حالیہ معاملے کو بھی روایتی انداز میں دبا دیا جائے گا، جب کہ ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں اتحادی و اپوزیشن تحرک پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور ان کا حکمتِ عملی کا انداز اس ملک کی موجودہ صورتحال اور جمہوریت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں