
اسلام آباد(ڈیلی پریس کانفرنس اخبارتازہ ترین- انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 2 ستمبر ۔2026 ) این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے لیے جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے این ڈی ایم اے الرٹ کے مطابق جاری مون سون بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث تیزی سے پگھلتے گلیشئرز کے پیش نظر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا .
رپورٹ میں غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، سکردو، گانچھے، خرمنگ اور وادی نیلم کے علاقے حساس قرار دیئے گئے ہیں چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ، بونیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی اچانک سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے.
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو حساس گلیشیئرز، جھیلوں، دریاں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی ہے، عوام گلیشیئر سے آنے والے دریاں، ندی نالوں اور دیگر خطرناک علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں.
این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا کہ اچانک پانی کی سطح بڑھنے، پانی میں غیر معمولی مٹی کے رنگ یا گلیشیئرز کے قریب غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا کے لیے بھی گرج چمک کے ساتھ شدید اور موسلا دھار بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، مری، گلیات اور ملحقہ علاقوں میں 2 سے 5 ستمبر کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے، دیر، سوات، بونیر، ملاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، نوشہرہ، صوابی، مردان اور پشاور میں بھی شدید بارش کا امکان ہے.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید بارش کے دوران شہری علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، پہاڑی علاقوں میں بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، عوام نشیبی علاقوں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں. این ڈی ایم اے کی عوام کو موسمی صورتحال، ابتدائی انتباہات اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سے باخبر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے مقامی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے اور شہریوں کو موسمی صورتحال سے باخبر رہنے، مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاﺅ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں، سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں.
این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سیلابی پانی یا تیز بہاﺅ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں، تیز بہاﺅ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے.
حکام کا کہنا ہے کہ تیز بہاو انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے، مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہا ﺅمیں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے، ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاﺅ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں.










