27

ہراسانی کیس؛ عینی شاہد نے علی ظفر پر میشا شفیع کے الزام کو جھوٹ قرار دے دیا


لاہور:(ڈیلی پریس کانفرنس) سیشن عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوی پر سماعت کے دوران علی ظفرکی گواہ اور عینی شاہد ماڈل کنزہ منیر نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹ قراردے دیا۔

لاہور کی سیشن عدالت میں گلوکارعلی ظفر کی جانب سے میشاشفیع کےخلاف ہتک عزت کے دعوی پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں ادکار علی ظفر کی جانب سے ماڈل کنزہ منیر کی شہادت قلمبند کی گئی۔

کنزہ منیر نے بیان دیتے ہوئے کہا میں نجی اسٹوڈیو میں موجود تھی جہاں میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا، اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی، 10 سے 11 لوگ ریہرسل میں موجود تھے، 45 منٹ تک ریہرسل اسٹوڈیو میں جاری رہی، میشا شفیع جب اسٹوڈیو پہچی تو علی ظفر کو گلے سے لگا کر سلام کیا، ریہرسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اس طرح کہا۔ کنزہ منیر نے کہا ریہرسل کے درمیان ویڈیو بھی بن رہی تھی، دونوں گانے کے دوران 4 سے 5 فٹ دور کھڑے تھے میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے وہ جھوٹ ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: میشا شفیع کا جج پرجانبداری کا الزام

درخواست گزار علی ظفر کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے جنسی ہراساں کرنے سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیے لہٰذا عدالت میشا شفیع کو سو کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کرے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو شہادت کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: میشا شفیع کی جج تبدیل کرنے کی درخواست منظور

واضح رہے کہ میشا شفیع نے 4 مئی کو علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی پر سماعت کرنے والے جج پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کیس کو دوسرے جج کے پاس ٹرانسفر کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر سیشن عدالت نے میشا شفیع کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہتک عزت کے دعوی کو ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ کی عدالت میں ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا تھا۔

کیس کا پس منظر
گلوکارہ میشا شفیع نے گزشتہ برس علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا جس کے جواب میں علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان پر ہتک عزت کا دعویٰ دائرکرتے ہوئے انہیں 100 کروڑ کا لیگل نوٹس بھجوایاتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں