25

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر12


(ڈیلی پریس کانفرنس)

ہر سال عرس کے موقع پر پشتینی رنڈیاں حضرت قاسم شاہؒ کے مزار پر حاضر ہوتیں اور مجرا کرتی ہیں۔ انہی حضرت قاسم شاہ ؒ کے برادرزادے حضرت علامہ میر حسن سیالکوٹیؒ ۔ علامہ اقبال کے اُستاد تھے۔ علامہ حسن ؒ کے دو بیٹے تھے نقی شاہ اور تقی شاہ ۔ نقی شاہ سے علامہ اقبال کے دو ستانہ مراسم تھے۔ ’’امروز ‘‘ کے ’’اقبال‘‘ میں نقی شاہ کے نام علامہ اقبال کے جس خط کا عکس چھپاتھا اُس میں امیر کا ذکر تھا، امیر ایک نامور طوائف ہوتی ہے۔ !

ٹبی میں کوئی دو سو کے لگ بھگ دوکانیں ، مکانیں یاڈیرے ہیں جہاں کوئی چار ساڑھے چار سو کے قریب عورتیں بیٹھتی تھیں ان کا کام صرف جسم فروشی کا تھا کیونکہ عصمت نام کی کوئی چیز بھی وہاں نہ تھی۔ ان کی دوکانیں صبح بارہ بجے کھلتیں اور رات بارہ بجے بند ہوجاتیں۔ چونکہ یہ عورتیں بیگاری مال تھیں اس لئے ان کے ٹھیکیدار ان ٹھیکیداروں کے گماشتے سر پر کھڑے رہتے۔ نرخ اور ہوس با قی سب موقوف۔ عورتیں کیا ؟ تاش کے پتے ، چوسر کی نردیں ، آم کی گٹھلیاں ، کیلے کا چھلکا ، خربوزے کے پھانک ، گنے کی پوریں ، سگریٹ کا دھواں ، عورت نہیں شارع عام ان کا وجود ایک خوفناک قہقہہ تھا ، ایک عریاں گالی ، ایک سنگین احتجاج ایک اوپن ایر تھیٹر ، ۔۔علماء سے معذرت کے ساتھ ایک عوامی شاہکار ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں