62

فاٹا انضمام کی تکمیل

طویل اور تھکا دینے والی کشمکش کے بعد بالآخر قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا کا حصہ بنانے کا آئینی عمل تکمیل کو پہنچا،اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن داور کنڈی کے سوا کسی بھی ممبر نے فاٹا انضمام کی 31ویں ترمیم کی مخالفت نہیں کی،قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 247 ،جس کے تحت قبائلی جرگہ نے صدر مملکت کو فاٹا انضمام کا حق تفویض کرنا تھا،کو ختم کر کے آرٹیکل 155.106.62.59.51.1اور 246 میں آٹھ ترامیم کر کے قبائلی علاقوں کو آئینی مملکت کا حصہ بنا لیا۔

جے یو آئی اور پختون خوا میپ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا،سوئے اتفاق سے فاٹا کے دو ممبران قومی اسمبلی،شاہ جی گل آفریدی اور بلال الرحمٰن کے سوا دس اراکین اس تاریخی اجلاس سے غیر حاضر رہے۔اتوار کے دن خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی نے دوتہائی اکثریت سے ترمیمی بل کی منظوری دی،جس کے بعد صدر مملکت نے بل پر دستخط کر کے ٹرائیبل ایریا کو خیبر پختون خوا کا جُز بنا دیا۔
اگرچہ فاٹا انضمام کے حامیوں سے پُرجوش خیرمقدم کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن قبائلیوں کی اکثریت نے نہایت افسردہ دل کے ساتھ ادغام کے فیصلہ کو قبول کیا،ہرچند کہ انضمام کے خلاف کوئی بڑا ردعمل بھی سامنے نہیں آیا ،تاہم اس وقت قبائلی پٹی میں مہیب سناٹا اور مجموعی طور پر فضا بوجھل دکھائی دیتی ہے،اسکی ایک وجہ تو اس توانا تہذیب سے قبائلیوں کی رضاکارانہ دستبرداری ہو گی جو صدیوں تک انہیں سامان غرور فراہم کرتی رہی، دوسرا اپنے ماضی سے فطری مانوسیت بھی اس غم آمیز خوشی کا سبب بنی ہو گی۔

مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی نے البتہ صوبائی اسمبلی کے گھیراو کی کال دیکر انضمام کے خلاف پُر تشدد مظاہرہ کیا، لیکن ہمیں امید ہے کہ مولانا جیسے عملیت پسند سیاست دان، لکیر پیٹنے کی بجائے،اب اکثریت کے فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کر کے اپنی توجہ انتخابی مہم پر مرتکز کر لیں گے۔اس بحث سے قطع نظر کہ فاٹا کو الگ صوبہ ہونا چاہیے تھا یا قومی دھارے میں شمولیت کے باوجود قبائلی علاقوں کی جداگانہ شناخت کو برقرار رکھا جاتا،نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں بیٹھی قومی قیادت اور پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش نے اب فاٹا کے خیبر پختون خوا میں ادغام کا تاریخی فیصلہ کر کے ایک منجمد تہذیب کو پاکستانی کلچر کے بہتے دھارے میں ضم کرکے صدیوں پر محیط اس تمدن کو زندگی کی وسعتوں میں جذب کر لیا،نسلی عصبیتوں کی قوت سے مزّین قبائلی تہذیب اب بہت جلد سماجی زندگی کی ہمہ گیری میں ڈوب کے بندوبستی اضلاع کی بوقلمونی میں تحلیل ہو جائے گی۔
قبائلیت انسان کے عہد طفلیت کی ضرورت تھی جب طاقت کی حکمرانی کا ناقوس بجتا تھا،اس وقت قبائلی عصبیت ہی کمزور انسانوں کی بقاء کا مضبوط حصار ہوا کرتی تھی،لیکن انسانی زندگی کا ارتقاء کبھی رکتا نہیں،اسلئے رفتہ رفتہ انسانی سماج قبائلیت سے ایک قدم آگے بڑھ کے بادشاہیت تک جا پہنچا،سات ہزار سال قبل حمورابی نے سینکڑوں قبیلوں کو مسخر کر کے نینوا کی سرزمین پر پہلی سلطنت کی بنیاد رکھی،حمورابی نے ہی عالم انسانیت کو حرمت جاں کا قانون عطا کیا،جس میں ہاتھ کے بدلے ہاتھ،آنکھ کے بدلے آنکھ اور سر کے بدلے سر لینے کا اصول تسلیم کر کے اجتماعی حیات کو تحفظ دیا گیا،حمورابی کے بعد صدیوں کا سفر طے کر کے انسانیت آئینی بادشاہت تک پہنچی،اس کے بعد انبوہی جمہوریت اور آئینی جمہوریت کا دور گزرا اور اب عہد جدید کا انسان ادارہ جاتی جمہوریت کے کمپلیکس سسٹم سے استفادہ کر رہا ہے،چنانچہ اکیسویں صدی میں پچاس لاکھ انسان افسردہ کن قبائلیت کے گنبدِ بے در سے نکل کے بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے بہرور ہوں گے۔ہمارے سیاسی ماحول میں شدیدترین کشیدگی کے باوجود حیرت انگیز طور پر پہلی بار قومی قیادت کا ایک بڑے سیاسی ایشو پر متفق ہونا کسی کرشمے سے کم نہیں، تاہم اس پورے عمل میں مرکزی کردار پاک فوج کی لیڈر شپ کا تھا جنہوں نے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے سیاست دانوں کو قومی اتفاق رائے تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

منتخب لیڈرشپ سمیت پورا سماج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے اور قبائلی علاقوں میں اصلاحات متعارف 36کرانے کا حامی تھا، لیکن اس تصور کو روبعمل لانے بارے ایک سے زیادہ آراء پائی جاتی تھیں،مولانا36اور اچکزئی سمیت قبائلیوں کی روایتی لیڈرشپ اصلاحات کے نفاذ سے قبل ریفرنڈم کے ذریعے قبائلیوں کی رائے لینے پر اصرار کرتی رہی،ان کے برعکس مسلم لیگ،پیپلزپارٹی،اے این پی اور تحریک انصاف سمیت مقتدر قوتیں منتخب آئینی اداروں کی وساطت سے اصلاحات کے جلد نفاذ کی حامی تھیں، بالآخر ہوا وہی جس کی اکثریت نے حمایت کی۔

حساس اداروں کی اطلاعات یہ تھیں کی عالمی طاقتیں قبائلی علاقوں کو کشمکش کا میدان کار زار بنانے کی خاطر مغربی سرحدات پر نئے تنازعات پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں،اس لئے فاٹا کے انضمام سے ایک تو مملکت کی مغربی سرحدات کا حتمی تعین کر لیا گیا دوسرا انتظامی اکائیوں میں منقسم پٹھان دوبارہ یکجا ہو گئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ فوجی قیادت نے افغانستان سے ملحقہ سترہ سو کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کے علاوہ بہترین حکمت عملی سے قبائلی معاشرے کو اس کولٹرل ڈیمج سے بچایا جو جنگی حربوں کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے،پچھلے ایک سال سے فوج نے قبائلی علاقوں میں کہیں بھی ہوائی حملے نہیں کئے جن میں دہشت گردوں کے ساتھ کئی بے گناہ شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے،سماجی وظائف کی بجاآوری میں رکاوٹ بننے والی چیک پوسٹوں کی تعداد گھٹا دی گئی،اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان سے وانا تک صرف دو چیک پوسٹیں باقی رہ گئی ہیں،جس طرح فوجی قیادت نے ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کی خاطر عام معافی کا اعلان کیا اسی طرح پشتو بولنے والے طالبان جنگجووں کو بھی دہشت گردی ترک کر کے پر امن زندگی کی طرف لوٹنے کی راہ دی گئی۔اس وقت قبائلی معاشرہ جنگ کی تباہ کاریوں اور ایف سی آر جیسے کالے قانون کی جکڑ بندیوں سے نکل کے زندگی کے خوبصورت امکانات کی طرف بڑھ رہا ہے،بلاشبہ ہر تہذیب ہمیشہ ابتری اور بدنظمی کے خاتمہ سے شروع ہوئی، جب خوف پر قابو پا لیا جائے تو تجسّس اور تعمیری اپچ آزاد ہو جاتے ہیں اور انسان قدرتی طور پر زندگی کی تزائین و آرائیش کی طرف مائل ہوتا ہے۔

تاریخ کے طالب علموں کی جانکاری کے لئے یہاں ایف سی آر کے اس قانون کا تاریخی پس منظر بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا،جس نے ڈیڑھ صدی تک قبائلی نظام کو برقرار رکھا۔اجتماعی ذمہ داری کے اصول پر مبنی ایف سی آر کے تحت فرد کے حقوق و فرائض اور جزا وسزا کے نظام کو پورے قبیلہ سے وابستہ رکھاگیا،یہی قوانین چونکہ قبائلیوں کے گروہی مفاد اور علاقائی رواجات کو ریگولیٹ کرتے رہے۔ اس لئے قبائلی سماج نہ صرف اسے بسر وچشم قبول کرتا،بلکہ تمام تر قباحتوں کے باوجود اس سے دامن چھڑانے سے ہچکچاتا رہا۔
1849ء میں جب انگریزوں نے سکھوں سے اقتدار وصول کیا تو اس وقت قبائلی پٹی پنجاب کا جز تھی،چنانچہ ابتداء میں انگریز نے سرحدی قبائل کے ساتھ مقامی رسم و رواج میں عدم مداخلت اورعدم جارحیت کے معاہدات کر کے انہیں مطیع بنا لیا، ایف سی آر کا قانون 1867ء میں بنا،اس میں جزوی ترامیم کے بعد 1872ء میں پہلی بار اسے میانوالی، کیمبل پور (اٹک) اور ملحقہ اضلاع میں نافذ کیا گیا،1879ء میں خیبر ایجنسی کے قیام کے ساتھ ہی ایف سی آر کو افغانستان کے سرحدی علاقوں تک وسعت ملی، 1892ء میں کرم ایجنسی بنی اورڈیورنڈ لائن معاہدہ کے دو سال بعد 1897ء میں نارتھ اور ساوتھ وزیرستان ایجنسیوں کے قیام کے ساتھ ہی قبائلی علاقوں میں اجتماعی ذمہ داری کے اصول پر مبنی ایف سی آر کا نفاذ مکمل ہوگیا۔قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں مہمند ایجنسی اور 1973ء میں باجوڑ و اورکزئی ایجنسیاں بنائی گئیں،قبائلیت کے اجتماعی مفادات (نکات)کو قائم رکھنے کی خاطر 52 سال تک ایف سی آر میں ترمیم و تنسیخ سے گریز کیا گیا۔

1997ء میں پہلی بار قبائلی علاقوں کے مکینوں کو ووٹ کا حق ملا، لیکن فاٹا کے پارلیمنٹرین کو قانون سازی کا حق نہیں دیا گیا، 2011ء میں صدر زرداری نے ایف سی آر میں 18جزوی ترامیم کر کے قبائلی عوام کو کچھ بنیادی سہولیات دیں،جس میں اجتماعی ذمہ داری کے قوانین میں ترمیم کر کے 16 سال سے کم عمر بچوں اور 65 سال سے بڑی عمر کے بوڑھوں کو گرفتاری سے استثنیٰ اور فرد کے جرم میں پورے قبیلہ کی پکڑدھکڑ ممنوع قرار دی، ایف سی آر مقدمات کو معینہ مدت میں نمٹانے کی پابندی عائد کی اوراپیلوں کی سماعت کرنے والے ٹربیونل کو بااختیار بنانے کے علاوہ مقدمات کی سماعت کو آزادانہ بنایا،جیلوں میں بند ایف سی آر قیدیوں کے طبی معائنہ اور فوجداری مقدمات میں گرفتار ملزمان کے لئے ضمانت کی سہولت متعارف کرائی، قبائلیوں پر جھوٹے مقدمات بنانے کی صورت میں مواخذہ اور پولیٹیکل انتظامیہ کے فنڈ کی آڈٹ کا نظام بھی رائج کیا گیا،ان اٹھارہ ترامیم نے ایف سی آر جیسے کالے قوانین کی شدت کم تو کی، لیکن ایسی ترامیم مکمل شہری آزادیوں کا نعم البدل نہیں تھیں۔اب انضمام کے بعد یہاں سیاسی و معاشی اصلاحات میں اولین ترجیح اجتماعی ملکیت میں پڑی اراضی کی سٹّلمنٹ کو دینا ہو گی، مشترکہ ملکیت میں رکھی وسیع اراضی کی منصفانہ تقسیم اگر جلد ممکن نہ بنائی گئی تو قبائیلیوں کی آئندہ نسلیں کبھی نہ ختم ہونے والی خون ریزی میں الجھ سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں