20

جوہری معاہدے سے انخلاء اور ایران کے خلاف امریکی اعلانِ جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 2015ء میں کئے گئے جوہری معاہدے سے بیک جنبشِ قلم علیحدگی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ایک غلطی تھی جسے درست کرنا ضروری تھا۔ امریکہ گزشتہ پانچ ماہ سے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو نئی اضافی شرائط کے ساتھ معاہدہ جاری رکھنے کے لئے معاملات طے کر رہا تھا،جن کا بنیادی مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا تھا،لیکن امریکی صدر کے بقول ایرانی رویہ درست نہیں تھا۔

اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی زیر نگرانی برطانیہ، فرانس، جرمنی،چین اور روس نے تقریباً دس برس تک ایران کے ساتھ منظم بات چیت کی۔ ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کئے، ماہرین نے رپورٹیں تیار کیں۔ مذاکرات کئے، تفصیلات طے کیں اور بالآخر 2015ء میں امریکہ اور اس کے ساتھ پانچ عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کہا گیا اور اس کے مطابق ایران کی ایسی تمام صلاحیتوں کو محدود کر دیا گیا، جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے ضروری ہو سکتی ہیں۔ اس طرح ایران پر طول عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی سبیل پیدا ہوئی۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اسے اقوام عالم کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
امریکہ میں اسرائیلی لابی خاصی موثر اور منظم ہے،ایران فلسطینی کاز کا چمپئن ہے القدس کی آزادی اس کی اعلان کردہ پالیسیوں میں شامل ہے۔ ایران انقلابی حکومت اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی جہادی گروپوں کے ساتھ موافقانہ اور ہمدردانہ رویہ رکھتی ہے یہ سارے گروپ اسرائیلی مظالم کے خلاف سینہ سپر ہیں۔
دوسری طرف لبنانی حزب اللہ بھی اسرائیل کے لئے ایک بڑی مصیبت ہے۔ حزب اللہ کے فدائین اسرائیلی مفادات پر حملے کرتے ہیں انہوں نے عراق میں بھی امریکی مفادات کے خلاف ایرانی مفادات کا تحفظ کیا۔

یہی حزب اللہ شام میں اس کی افواج کے ساتھ مل کر شامی باغیوں کو کچلنے میں مصروف ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرات عرب شیوخ بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے پریشان کن ہیں۔
سعودی عرب یمن میں شیعہ حوثیوں کے خلاف مورچہ زن ہے، جنہیں ایرانیوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایران حوثیوں کو نہ صرف تربیت اور اسلحہ فراہم کرتا ہے،بلکہ اطلاعات کے مطابق یہاں ایرانی مشیر باغی حوثیوں کی پیشہ ورانہ رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ سارے معاملات خطے میں ایران کو ناقابلِ قبول بناتے ہیں۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے چیف بوکیا امانو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی نیو کلیئر معاہدے سے دستبردار ہونے کے اعلان (بروز منگل 8-5-2018) کے اگلے دن کہا کہ ایران، اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن) پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔ 2015ء میں معاہدے پر دستخطوں کے بعد عالمی ادارہ، اس معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہا ہے۔ ایران معاہدے میں درج شرائط پر عمل پیرا ہے اور عالمی ایجنسی(IAEA) اس کی نگرانی کر رہی ہے۔
2015ء میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی نے مل جل کر ایران کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا،جس کا مقصد ایران کی ان کاوشوں کو روکنا تھا جو وہ ایٹم بم بنانے کے لئے کر رہا تھا۔امریکی صدر باراک اوباما کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے ایسے تمام عناصر اور عوامل کا خاتمہ ہو جائے گا، جو ایرانی ایٹم بم بنانے کے لئے ضروری ہیں۔

امریکی ماہرین کے مطابق جولائی2015ء سے پہلے ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے بڑے ڈھیر موجود تھے،20ہزار سے زائد سینٹری فیوج مشینیں کام کر رہی تھیں، جو آٹھ دس بم بنانے کے لئے کافی ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسی صورتِ حال میں ایران اگر فیصلہ کر لے کہ اس نے بم بنانا ہے تو وہ دو تین مہینے کے اندر اندر90فیصد تک افزودہ یورینیم تیار کر کے ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔عالمی ایٹمی ادارے کی نگرانی میں ایران کے ساتھ کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے کے لئے چھ عالمی طاقتوں کی بات چیت دس سال تک جاری رہی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اسے اقوام عالم کی فتح قرار دیا تھا،لیکن امریکہ کی صیہونی لابی اِس معاملے سے خوش نہیں تھی،کیونکہ اس معاہدے کے بعد ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہوا اور ایران تیل کی عالمی منڈی میں ایک موثر کھلاڑی کے طور پر آ گیا اس کی تیل کی دولت لبنانی حزب اللہ، عراقی شیعہ حکومت، شامی اسد حکومت اور ھوشی باغیوں کی مدد کے لئے استعمال ہونا شروع ہوئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرات نہ صرف اسرائیل کے لئے ، بلکہ سُنی عرب شیوخ کے لئے بھی پریشان کن تھے۔

شہزادہ سلمان بن محمد نے سعودی عرب کو ماڈرن اور موثر مملکت بنانے کا فیصلہ کیا۔ یمن میں فوج کشی، قطر کی ناکہ بندی اور اسلامک ملٹری الائنس کے ذریعے اپنی قیادت و سیادت کو مستحکم بنانے کی کاوشیں شروع کیں، کیونکہ خلیج میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات، سعودی مفادات کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔عرب و عجم اور شیعہ سُنی معاملات اور اختلافات کے علاوہ بھی جاری علاقائی صورتِ حال میں ایران ایک چیلنجر کی حیثیت رکھتا ہے۔

عیسائی مغربی طاقتیں، گریٹر اسرائیل کے قیام کی حامی ہیں۔

صہیونی یہودی اور صہیونی عیسائی گریٹر اسرائیل کے قیام کو بائبل کی ایک پیش گوئی کے مطابق خدائی وعدہ سمجھتے ہیں۔2500 سال بعد1948ء میں اسرائیل کا سرزمین فلسطین پر قیام خدائی وعدہ ہے جسے برطانوی عیسائی حکمرانوں نے پورا کیا۔ امریکی اسے اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں کہ اسرائیل کی تعمیر و ترقی کے لئے مدد فراہم کی جائے۔ 9/11 کے بعد امریکی حکمرانوں نے مسلمانوں کا بھرکس نکال دیا ہے اور شام میں ہنوز یہ عمل جاری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ عیسائی حکمرانوں کا میدانِ جنگ ہے،جہاں وہ گریٹر اسرائیل کی تعمیر کے راستے میں آنے والی ہر ممکنہ رکاوٹ کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صہیونی عیسائی ہیں،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی پر ایمان رکھتے ہیں ۔

بائبل کے مطابق مسیح کی آمد ثانی، سے پہلے اسرائیل کا قیام، ہیکل سلیمانی کی تیسری مرتبہ تعمیر اور یروشلم کو اسرائیل کے مرکز کی حیثیت دینا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے یروشلم کو نہ صرف اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے، بلکہ امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے وہ اسے خدائی وعدہ اور یہودیوں کا حق قرار دیتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے 15ممالک نے امریکہ کے اس فیصلے کی مخالفت کی۔

اقوام متحدہ کے 128ممالک نے امریکہ کے اس فیصلے کے خلاف قرارداد پاس کی، لیکن ٹرمپ اپنے فیصلے پر قائم رہے اور ریاستی اداروں کو حکم دیا کہ وہ امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے انتظامات کریں۔

اب ایران کو سبق سکھانے کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کا جوہری معاہدے سے انخلاء اور ایران پر سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان اس کی ابتداء ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو پہلے ہی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ایرانی مسئلے پر سعودی عرب اور اسرائیل ہی نہیں، بلکہ سب سُنی خلیجی حکمران متفق ہیں کہ اسے سبق سکھانا چاہئے۔

حالات اسی سمت میں جا رہے ہیں، ایسے لگ رہا ہے کہ ایک نیا فرنٹ کھلنے کو ہے،جس میں ایران کو خاک و خون میں نہلایا جائے گا۔ اسرائیل نے شام میں ایرانی ٹھکانوں پر بمباری کے ذریعے اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے۔

سعودی عرب یمن میں ایرانی ٹھکانوں پر پہلے ہی نشانہ بازی کر رہا ہے۔ جنگ کی بھٹی دھکائی جا چکی ہے، جس میں عالمِ اسلام کے مفادات جل کر بھسم ہو رہے ہیں۔ اللہ خیر کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں