302

کیا ہم سدھر رہے ہیں؟

نواز شریف کے متنازعہ انٹرویو نے جہاں سول ملٹری تعلقات کی پیچیدگیوں کو عریاں کرکے سیاسی نظام میں توازن کی اہمیت کو دو چند کر دیا وہاں اس بیانیہ کے استرداد کی لہروں نے سیاست کے تالاب میں تلاطم برپا کر کے کشیدگی بڑھ جانے کے تاثر کو بھی گہرا کیا،چنانچہ بظاہر اس مشق ستم کیش نے ادارہ جاتی تصادم کے خطرات بڑھا دیئے ہیں، سیاست کے ہنگامہ پرور ماحول میں سیکیورٹی اداروں کے بارے میں جس قسم کا پرسپشن اُبھر کے سامنے آ رہا ہے،کیا یہ قومی پالیسی کے روایتی تصور کو بدلنے کا وسیلہ ثابت ہو گا؟ اس امر میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ریاست کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہی،بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس وقت ہماری مملکت کے اندر تقسیم اختیارات کی کوئی حدود و قیود باقی رہیں نہ خارجہ پالیسی کے اصول موجود ہیں،ہم ہر سمت،ہر جگہ،ہر حال میں اور ہر فساد میں کھپ جانے والے پرزے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں،چنانچہ عالمی طاقتیں خوف و ترغیب کے ہتھکنڈے استعمال کر کے ہمیں ہر کام میں بروئے کار لانا چاہتی ہیں،گویا ہم ایک ایسا کارواں ہیں، جس کی کوئی منزل نہیں۔

شائد اب وقت آگیا ہے کہ مملکت کی داخلی تقسیم اختیارات، خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے تصور کی از سر نو تدوین کی جائے۔ہرچند کہ یہ کام اب اتنا آسان نہیں رہا،لیکن ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ منتخب قیادت اور دفاعی اداروں کی لیڈر شپ اس کشمکش کی چادر تلے بھی قومی سلامتی پالیسی کو نئے سرے سے مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے ریاستی ڈھانچہ میں کسی بڑے تغیر کو سہنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی وفاداریوں کو قوم کی بقاء کے مرکزی نقطہ پہ مرتکز رکھنے کی سکت موجود ہے؟بدقسمتی سے یہاں ابتداء ہی سے ایسی کوئی روایت قائم نہیں ہو سکی جو متنوع سماجی ارتقاء اور ملکی نظام کی تدوین کے عمل میں عقل اجتماعی کو بروئے کار لاتی اور منظم اصلاحات کے تسلسل کو یقینی بناتی،اکثر یوں دکھائی دیتا ہے کہ مارشل لاوں کے ذریعے حاصل شدہ فوائد و اثرات اس کے بغیر بھی حاصل ہو سکتے تھے لیکن ہم بار بار اسی نسخۂ کیمیا کو آزماتے رہے،منجمد سوچ کے اسی آشوب نے مہیب فکری جمود پیدا کر کے زندگی کی صحت مند افزائش کو روک لیا،اب ان فرسودہ اور غیرلچکدار روایات کے خاتمہ کے لئے تشدد کی ضرورت پڑے گی جو کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ میں بھی بدل سکتا ہے۔
تاریخی شعور سے عاری نواز شریف کی سرگرانی سے لگتا ہے کہ اب ہم اسی مرحلہ میں داخل ہو رہے ہیں۔شومئی قسمت کہ ماضی اور آج کی لیڈر شپ یکساں طور پر وقت کے تقاضوں کا درست ادراک نہیں کر سکی، اب بھی اگر وقت کے تقاضوں کو سمجھنے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی خاطر جامع منصوبہ بندی پہ اتفاق رائے پیدا نہ کیا گیا تو فطرت کی جراحی ہمارے ریاستی وجودکو چیرپھاڑ سکتی ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں بالعموم اور مسلم ممالک میں بالخصوص جس قسم کی ناخوشگوار تبدیلیوں کے لہریں زور پکڑ رہی ہیں،ان میں ریاستوں کو اپنی جغرافیائی وحدت کو قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،اِس لئے سیاستدان اور مقتدرہ ایک دوسرے کو باہم تسخیر کرنے کی رسم کو بدل کے ان حادثات سے بچنے کی راہ نکالیں،جو ہمارے مقدر پہ منڈلاتے نظر آتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان دنوں سیاسی کشمکش نے اجتماعی حیات کی جزیات پہ قابو پا کے نظام زندگی کی پیش قدمی روک لی ہے،گھٹن کے اس ماحول میں سماج کا ایک حصہ کنفیوژ ہو کے اجتماعی دھارے سے نجات کی راہیں تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہی رجحان مرکز گریز تحریکوں کو خام مواد فراہم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اس حقیقت سے صرف نظر ممکن نہیں کہ وقت بدل چکاہے،سیاستدان اب زیادہ دیر تک اپنی حقیر حیثیت پر قناعت نہیں کر پائیں گے،چنانچہ منتخب لیدر شپ کے لئے مناسب گنجائش چھوڑے بغیر کسی کو بھی راہ عمل نہیں مل پائے گی۔

بلاشبہ مغربی سرحدات پہ واقع قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں اُٹھنے والی مرکز گریز تحریکوں کے عزائم کو طاقت کے ذریعے روکنے کے لئے فورسز کے استعمال کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لیکن اس غبار کو ریگولیٹ کرنے کے لئے صرف منتخب لیڈر شپ اور جائز سیاسی فورم ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں،مقتدرہ نے اگر پردوں کے پیچھے بیٹھ کے غیرنمائندہ افراد سے جرگہ داری کے ذریعے تنازعات کو سلجھانے کی مشق جاری رکھی تو اس سے سیاسی قیادت اور آئینی ادارے بے معنی اور فورس اپنا ڈیٹرنٹ کھو بیٹھے گی،ان جرگوں کی قانونی حدود ہیں نہ جرگہ دار عدل و انصاف کا ادراک رکھتے ہیں یہ خیر آمیز فریب فقط صداقت کا نقاب ابہام بنتا ہے،ہماری مراد بلوچ علیحدگی پسندوں اور پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ سے باہر غیر متعلقہ افراد کے ذریعے بات چیت یا جرگوں کا انعقاد ہے،یہ ایک غلط روایت ہے جو خطرناک نتائج کو جنم دے گی۔اگرچہ فیصلہ سازی کے عمل پر قادر طاقتور حلقوں کو اِس امر پر قائل کرنا دشوار ہو گا، لیکن سیاسی لیدر شپ کو اس پہ آواز اٹھانی چاہئے۔
دفاعی ادارے اگر خود کو مذاکراتی عمل سے الگ کر لیں اور صوبائی و قومی اسمبلی کی منتخب قیادت ہی آئینی فورم پر ان تنازعات کو نمٹانے کی کوشش کرے تو ہم بہت جلد مصائب سے نجات پا لیں گے، ان مسائل کو سلجھانے کی خاطر پی ٹی آئی،جے یو آئی اورمسلم لیگ(ن) سمیت قومی قیادت پی ٹی ایم کی نوزائیدہ لیڈرشپ سے براہِ راست بات چیت کرنے کی بجائے فاٹا کی منتخب قیادت کے علاوہ مولانا فضل الرحمن ،محمود خان اچکزئی اور اسفند یار ولی خان سے مذاکرات کر کے مسائل کا حل نکالے، کیونکہ پشتونوں کی منتخب قیادت ہی انہیں اجتماعی قومی دھارے سے مربوط رکھ سکتی ہے،پہلے ہی اگر قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک،ٹارگٹ کلنگ کے خاتمہ، لاپتہ افراد کی بازیابی،لینڈ مائنز کی صفائی اور دیگر مسائل ان بالغ النظر پشتون رہنماؤں کے ذریعے حل کئے جاتے تو آج مشروم کی طرح ابھرنے والی تنظیمیں درد سر نہ بنتیں،عوام کے ووٹوں سے منتخب سیاست دانوں کی ملک کے ساتھ وفاداری ہر شک و شبہ سے بالا تر رہتی ہے کیونکہ معاشرے کی اجتماعی خواہش کا مظاہر ہونے کے ناطے ان کی سوچ وطن سواد اعظم سے جڑی رہتی ہے،وہ عوامی دباو کی وجہ سے قومی سلامتی کے برعکس کچھ کر نہیں سکتے،لیکن غیر منتخب گروہ ملت کے کارواں سے بچھڑ جانے میں دیر نہیں کرتے،کہنہ مشق سیاست دان زندگی کے سرد و گرم سے واقف اور پختہ کار ہونے کے ناطے اک گوناں توازن ذہنی کے حامل بھی ہوتے ہیں، ہمارے خیال میں اگر ناتجربہ کار اور نوخیز لوگوں کو وقعت دے کر پشتونوں کی منتخب اورجائز لیڈر شپ کو نظرانداز کیا گیا تو یہ عمل بگاڑ کے دائرے مزید وسیع کر دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں