192

جہانِ تصوف

مغرب نواز دانشوروں پر عقل کل بننے کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے، اِسی جنون میں ایسے نام نہاد دانشور تصوف پر بھی ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتے کسی چیز کو سمجھے جانے بغیر، حقیقت میں اُترے بغیر رائے دینا حماقت کا آخری درجہ ہے یہ لو گ یہی حماقت کر تے نظر آتے ہیں، اہل حق پر سب سے بڑا الزام یہ لگاتے ہیں کہ تصوف جاہلوں ناخواندہ لوگوں کا مسلک ہے، فہم و آگہی بصیرت علمی شعور رکھنے والے لوگ تصوف کے قریب بھی نہیں پھٹکتے، ایسا الزام لگا نے سے پہلے عقل سے عاری ایسے معترضین کو تاریخ تصوف کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاریخ تصوف کے آسمان پر ہر دور میں ایک سے بڑھ کر ایک علمی شخصیت طلوع ہوتی رہی ہے، بلکہ ہمیں بے شمار ایسے صوفیا کرام نظر آتے ہیں جو کوچہ تصوف میں آنے سے پہلے علوم و فنون کے بہت سارے علمی دھاروں سے شرابور ہوچکے تھے، امام قشیریؒ ، ابو طالب مکیؒ ، ابن عربیؒ ، امام رازیؒ ، امام غزالیؒ ، ابنِ خلدونؒ ، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ ، شہاب الدین سہروردیؒ ، حضرت زکریا ملتانیؒ ، حضرت مجدد الف ثانیؒ ، حضرت علی ہجویریؒ یہ تمام نہ صرف تعلیم درویشی کے شہنشاہ تھے، بلکہ کشور علم و فصل کے بھی تاجدار تھے،کسی میں ہمت ہے جو اِن جلیل القدر علمی شخصیات پر جہالت کا الزام لگا سکے، صدیوں سے تصوف کے اِن آفتابوں کی تصانیف جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کا کام کر رہی ہیں، بلکہ شہنشاہِ پاک پتنؒ تو اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جاہل مسخرہ شیطان ہوتا ہے، اس کی نگاہ حقیقت اور سراب میں فرق کرنے سے قاصر رہتی ہے، وہ دل و روح کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج نہیں کرسکتا ۔
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کسی بھی ایسے شخص کو خلافت عطا نہیں کرتے تھے جو عالم نہ ہو، کشف المحجوب میں بیان ہے، تین قسم کے آدمیوں کی صحبت سے پرہیز کرو، ایسے عالموں سے جو غافل ہوں، ایسے فقیروں سے جو دھوکے باز ہوں اور ایسے صوفیوں سے جو جاہل ہوں، علامہ ابن جوزی جو تصوف اور اولیاء کرام پر تنقید کرنے والوں کے سر خیل سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ صوفیا علوم قرآن، فقہ، حدیث اور تفسیر کے امام ہوا کرتے تھے، وطن عزیز کے منکرین اور اہل مغرب یہ بھول گئے ہیں کہ جب سارا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہو ا تھا تو اُس وقت تاریخ عالم میں ایک سے بڑھ کر ایک صوفی عالم پیدا ہوئے، جنہوں نے جہالت میں ڈوبی انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا، ایسا ہی ایک ستارہ ابن خلدون تھا، جنہیں فلسفہ تاریخ کا امام کہا جاتا ہے۔
مغرب کے موجودہ دور کے سب سے بڑے فلاسفر ٹائن بی اپنی کتاب فلسفہ تاریخ میں ابن خلدون کے لئے سات صفحات مخصوص کرتے ہیں، ابن خلدون کی خدمات کا کھل کر اقرار کرتے ہیں، یورپ کے سارے فلاسفر ابن خلدونؒ کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں، ابن خلدونؒ کی مقدمہ ابن خلدون ایسی کتاب ہے، جسے پڑھ کر اہل یورپ آج تک عش عش کرتے ہیں، جس میں ابن خلدون نے قوموں کے عروج و زوال پر لاثانی بحث کی ہے۔

اِسی ابن خلدونؒ نے تصوف کی حالت استغراق پر خوب لکھا ہے، استغراق پر وہی اہل قلم اظہار کرسکتا ہے، جو استغراقی حالت سے گزرا ہو، جہالت کے اُسی دور میں آسمان تصوف پر ایک اور ستارہ چمکا حضرت امام فخر الدین رازیؒ جو پچیس رمضان 544ء میں ’’رے‘‘ شہر میں پیدا ہوئے، دنیاوی علوم کو مکمل طور پر سیکھنے کے بعد انہوں نے یہ علم دوسروں تک بھی پہنچایا۔ آپؒ نے تمام علوم پر کتابیں لکھیں، لیکن اُن کا اصلی سرما یہ فلسفہ و علم وکلام تھے، آپ نے عقلی علوم میں غیر معمولی شہرت پائی، آپ سے پہلے علم کلام اور فلسفے پر کتابیں بہت مبہم اور پیچیدہ تھیں، اُن کے خیالات و نظریات انتشار پیدا کرتے تھے، امام غزالیؒ اور امام رازیؒ نے علوم فلسفہ کی الجھنوں کو بہت آسانی سے حل کر دیا، آپؒ نے فلسفہ کی گرہیں اِس طرح کھولیں کہ بصیرت و آگہی کے پھول کھلتے نظر آتے ہیں، جن سے علم کے پیاسوں کی روحیں معطر ہوتی چلی جاتی ہیں امام رازیؒ فرمایا کرتے تھے، عالم اور جاہل کے درمیان سونے اور مٹی جتنا فرق ہے، علوم ظاہری کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پنا ہ شہرت سے نواز ا، پو ری دنیا میں آپ کے علم کا چرچہ تھا، آپ جس شہر یا ملک بھی جاتے پورا شہر با دشاہ سمیت آپ کے استقبال کو آجا تا دولت کی دیوی اِس قدر مہربان تھی کہ چالیس غلام سنہری کمر بند با ندھے منقش پو شاک پہنے ہر وقت آپ کے اطراف میں رہتے تھے ‘آپ امیر غریب سب میں مقبو ل تھے ہر کو ئی آپ کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتا ایک دفعہ آپ کی ہرات میں جب آمد ہو ئی توسارا شہر علما وصلحا سلا طین آپ کی زیارت کو آئے شہر میں ایک بھی شخص با قی نہ بچا سوائے ایک درویش بے نیاز کے جو دنیا سے دور معرفت الٰہی عشق الٰہی میں مستغرق تھا،امام رازی ؒ کو جب اس بات کا پتہ چلا تو کہا میں مسلمانوں کا امام ہوں قابل تعظیم ہو ں پو رے شہر میں صرف ایک شخص ایسا ہے جو میری ملا قات کو نہیں آیا تو اِس کی بھی کو ئی خا ص وجہ ہو گی، تجسس سے مجبو ر ہو کر آپ ؒ نے اپنے خدام کو اُس مر دِ بے نیاز کے پاس بھیجا اور نہ آنے کی وجہ پو چھی، لیکن خدا مست درویش نے جواب دینا منا سب نہ سمجھا اور گو شہ نشینی کا لطف اٹھانے میں مصروف رہے، امام رازیؒ کے دل میں ملا قات نہ ہونے کی خلش مچلتی رہی اور پھر ایک دن اہل ہرات نے اُس مرد بے نیاز خدا مست درویش کی دعوت کی اور اُس دعوت میں امام رازی ؒ کو بھی مدعو کیا یہاں امام رازی ؒ کو جب اس مرد صالح سے ملا قات کا موقع ملا تو عرض کیا جب سارا شہر میری ملا قات کو آیا اور صرف آپ نے آنا منا سب نہ سمجھا، کیا میں اِس بے نیازی کی وجہ جان سکتا ہوں تا کہ میں حقیقت کا ادراک کر سکوں تو درویش بے نیاز بو لا میں فقیر آدمی ہو ں میری ملا قات یا دیدار سے کسی کو کو ئی شرف حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی میرے نہ ملنے سے کسی کا کچھ بگڑ سکتا ہے نہ ہی کو ئی نقص پیدا ہوسکتا ہے۔
امام رازیؒ نہایت ذہین فطین انسان تھے، فقیر کی صوفیا نہ گفتگو کی تہہ میں پہنچ گئے اور بو لے جو آپ نے جواب دیا ہے یہ صوفیا کا ہی ہوسکتا ہے، آپ براہ مہربانی اپنے بارے میں کچھ اور بتائیں تاکہ میں آپ کے بارے میں مزید جان سکوں تو جانباز بے نیاز درویش بولا آپ سے کس بنا پر ملاقات واجب تھی تو امام بولے، کیونکہ میں مسلمانوں کا امام ہوں علمی طور پر وہ مقام رکھتا ہوں جس کی بنا پر واجب التعظیم ہوں تو درویش نے معرفت کے موتی بکھیرتے ہوئے کہا آپ کا سرما یہ فخر علم ہے، لیکن حق تعالیٰ کی معرفت راس العلوم ہے پھر آپ نے خدا کو کیسے پہنچا نا امام رازی بو لے سو دلیلوں سے، تو بے نیاز قلندر دلنواز تبسم سے بولا دلیل تو شک کو زائل کرنے کے لئے ہوتی ہے، لیکن خدا ئے بزرگ و برتر نے میرے دل و دماغ کو وہ عرفانی نور عطا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے میرے دل میں شک کا گزر بھی نہیں ہوتا، لہٰذا مجھے کسی بھی دلیل کی ضرورت نہیں ہے، امام رازیؒ کا آج سے پہلے دنیا وی علم کے شاہسواروں سے واسطہ پڑا تھا، آج عرفانی نور الہی کے سالک سے جب واسطہ پڑا تو با طنی اضطراب جو دنیا جہاں کے علم کے سمندر رکھنے کے بعد بھی قائم تھا، اُس اضطراب بے چینی کی کیفیت کم ہوتی گئی، امام رازی پہلی بار باطنی حلاوت نشے سرور سے متعارف ہو رہے تھے، دنیائے اسلام کا شیخ الاسلام مسلمانوں کا امام ایک درویش خدا مست کے سامنے اقرار کر رہا تھا، امام رازیؒ جو فلسفے اور علم کلام کے امام تھے، جنہوں نے بے شمار کتب تصنیف کر کے علم کے پیاسوں کی پیاس بجھائی جو لفظوں اور فقروں کے بڑے کھلاڑی تھے آج درویش خدا مست کے علم کے سامنے طفل مکتب بنے بیٹھے تھے، آج و ہ علم کے حقیقی اور با طنی پہلوؤں سے روشنا س ہو رہے تھے، درویش بے نیاز کی گفتگو کے مو تی امام رازی ؒ کے قلب و روح کو منور کر تے جا رہے تھے اور پھر مسلمانوں کے امام شیخ اسلام کے دل پر اس قدر اثر ہوا کہ اُس مجلس میں مردِ صالح کے ہا تھ پر تو بہ کی اور غلامی کی درخوا ست بھی کہ مجھے اپنے ہا تھ پر بیعت کر کے علم کا حقیقی نور عطا کریں اِسطرح فلسفے کے امام رازی ؒ تصوف کی وادی پر خار میں خلوت گزیں ہوئے، امام رازی ؒ جس مردِ درویش کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اُن کا نام حضرت نجم الدین کبری ؒ تھا تا ریخ تصوف کے وہ آفتاب جو نہ صرف امام رازی کے مرشد تھے، بلکہ حق تعالی نے وہ روحانی تصرف بخشا تھا کہ جس شخص کو نظر بھر کر دیکھ لیتے وہ ولی ہو جا تا اِسی وجہ سے حضرت نجم الدین کبری کو ولی ساز یا ولی گر کہا جا تا ہے جو دیکھنے والے کو شراب معرفت میں غر ق کر دیتے اِسی شراب معرفت میں امام رازی بھی غرق ہو ئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں