261

ایون فیلڈ ریفرنس: جے آئی ٹی رپورٹ کوعدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت نے پاناما جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس پر سماعت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر مکمل جے آئی آٹی رپورٹ کوعدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا تھا جبکہ مریم نواز کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تمام جلدیں بطور شواہد دینے پر اعتراض کیا تھا۔

آج سماعت کے دوران جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کی درخواست پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی کے دلائل مکمل ہوگئے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو حاضری کے بعد جانے کی اجازت دے دی۔

نواز شریف، مریم اور صفدر کیخلاف نیب ریفرنسز میں واجد ضیاء کے علاوہ تمام گواہوں کے بیانات قلمبند

آج سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اصل رپورٹ کے ساتھ احتساب عدالت میں پیش ہوکر بیان قلمبند کروائیں گے، جہاں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ان پر جرح کریں گے۔

گزشتہ سماعت پر واجد ضیاء نے 4 گھنٹے بیان ریکارڈ کروایا تھا اور دستاویزات پیش کی تھیں۔

واجد ضیاء 21 مارچ کو فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں بیان قلمبند کرائیں گے۔

ان تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کے سوا نیب کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔

دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں