145

الیکشن 2018: نتائج ’ناقابلِ قبول‘ اور تاخیر ’ناقابلِ معافی‘


(ڈیلی پریس کانفرنس)
مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کیا ہے
پاکستان میں عام انتخاب میں ووٹنگ ختم ہوئے 17 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب اب تک قومی اسمبلی کے چند ہی حلقوں کے نتائج کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے جہاں نتائج کے اعلان میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وہیں یہ بھی کہا ہے کہ انھیں انتخابی عمل کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے
پاکستان الیکشن 2018: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج

الیکشن کے نتائج کا انٹرایکٹو نقشہ

مسلم لیگ ن نے انتخابات کے سرکاری اعلان سے قبل ہی دھاندلی کے الزامات کے تحت نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے نتائج کے اعلان میں تاخیر کو ’ناقابلِ معافی‘ قرار دیا ہے۔

بدھ کی رات دیر گئے مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے امیدواروں کے انتخابات کے نتائج کو روکا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دھاندلی ہو رہی ہے۔ ‘میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔’

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ‘میں معاملات آگے بڑھانے والا آدمی ہوں اور اگر میں بھی یہ بات کہہ رہا ہوں تو سوچیں بات کہاں تک پہنچ چکی ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے اور جلد ہی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے جانے والے ایک پیغام میں بھی کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن 2018 کے عام انتخابات کے نتائج بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلی کی وجہ سے رد کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ایجنٹوں کو الیکشن کمیشن کے فارم 45 نہیں دیے گئے، نتائج روک لیے گئے اور پولنگ ایجنٹوں کی غیر موجودگی میں ووٹ گنے گئے۔ یہ ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول ہے۔‘

فارم 45 کیا ہے؟
شہباز شریف اور کئی سیاسی جماعتوں نے فارم 45 نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔ لیکن یہ فارم ہوتا کیا ہے؟

فارم 45 اور فارم 46 کا کردار پولنگ کے خاتمے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کسی بھی پولنگ سٹیشن کے پریزائڈنگ افسر ووٹ ڈالنے کے عمل کے خاتمے کے بعد گنتی کا عمل امیدواروں کے پولنگ ایجٹنس کی موجودگی میں شروع کرتے ہیں۔

گنتی کے مکمل ہونے پر پریزائڈنگ افسر ہر پولنگ ایجنٹ کو گنے گئے ووٹوں کی تعداد فارم 45 میں لکھ کر اپنے دستخط اور انگوٹھے کے نشان کے ساتھ جاری کرتا ہے۔ اس پر پولنگ ایجنٹ کے دستخط بھی ہونے چاہیے۔

ہر پولنگ سٹیشن سے یہ فارم اکٹھے کر کے مجموعی نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے۔ فارم 46 موصول ہونے والے بیلٹ پیپرز کی تعداد، استعمال شدہ، مسترد شدہ کی تفصیل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پریزائڈنگ افسر یہ دونوں فارم یا فہرستیں پولنگ سٹیشن کے کسی واضح مقام پر آویزاں کرنے کا پابند ہوتا ہے تاکہ عام لوگ اسے دیکھ سکیں۔ یہی دو فارم فوراً الیکشن کمیشن بھیج دیے جاتے ہیں۔

’ناقابلِ معافی اور اشتعال انگیز‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب آدھی رات سے زیادہ گزر گئی ہے اور مجھے کسی بھی حلقے سے ایک بھی حتمی نتیجہ نہیں وصول ہوا ہے جہاں سے میں خود الیکشن لڑ رہا ہوں۔ میرے امیدوار شکایت کر رہے ہیں کہ ملک کے کئی حصوں میں ہمارے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنوں سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ ناقابلِ معافی اور اشتعال انگیز ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنماؤں نے بھی انتخابات میں بدانتظامی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے فوری طور پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما رضا ربانی، شیری رحمان اور تاج حیدر نے بدھ کی رات ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘انتخابات سے پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں کو مہم چلانے کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے تھے لیکن الیکشن کے دوران اور ووٹوں کی گنتی کے وقت ہونے والی بے قاعدگیوں سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

@BBhuttoZardari کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

BilawalBhuttoZardari

@BBhuttoZardari
It’s now past midnight & I haven’t received official results from any constituency I am contesting my myself. My candidates complaining polling agents have been thrown out of polling stations across the country. Inexcusable & outrageous.

12:21 PM – 25 جولائی، 2018
5,615
3,696 people are talking about this
Twitter Ads info and privacy
@BBhuttoZardari کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں
انھوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے اور ووٹنگ کے بعد ہونے والی بے قاعدگیوں کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ ایک جماعت کے علاوہ تمام ہی جماعتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

اس موقعے پر شیری رحمٰن نے کہا کہ پولنگ کے دوران ہونے والی بےضابطگیاں خواتین کے پولنگ سٹیشن سے زیادہ سامنے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھی مسائل اور سست ووٹنگ کی شکایات کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ووٹنگ کے دورانیے میں ایک گھنٹے کا اضافہ کیا جائے، لیکن اس مطالبے کو بھی نہیں مانا گیا۔

’دو گھنٹے کی تاخیر سے کوئی داغ نہیں لگتا‘

چیف الیکشن کمشنر سردار رضاخان نے جمعرات کو علی الصبح ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ نتائج کی فراہمی کے نظام یعنی آر ٹی ایس پر دباؤ کے باعث نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ انتخابی نتیجے میں 2 گھنٹے کی تاخیر سے کوئی داغ نہیں لگا بلکہ انتخابات 100 فیصد شفاف ہیں۔

فارم 45 نہ ملنے کی شکایت کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں شکایت ملی تو کارروائی کی جائے گی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن بابریعقوب کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب کچے کاغذ پر نتائج کی چھ شکایات موصول ہوئی ہیں جنھیں متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں