36

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 46


قنطور صحیح معنوں میں ایک دیو مالائی سانپ تھا جو ایک سو برس گزر جانے کے بعد انسانی شکل اختیار کرنے پر قادر ہوچکا تھا اور یہ مہرہ اس کا اپنا تھا اور انتہائی کارگر مہرہ تھا۔ میں نے بھی فرعون کے شاہی محلات میں سانپوں کے مہروں کی افسانوی کہانیاں سن رکھی تھیں مگر آج تک اپنی آنکھوں سے کسی مہرے کو کسی مار گزیدہ کے جسم سے زہر چوستے نہیں دیکھا تھا۔ اس وقت میں نے بھی زندگی میں پہلی بار ایک مہرے کو یہ حیرت انگیز کارنامہ انجام دیتے دیکھا۔

ضرور پڑھیں: راولپنڈی کالج ہاسٹل میں طالبہ کی ہلاکت کیخلاف قراردادپنجاب اسمبلی میں جمع
جوں ہی میری ہتھیلی کا رخ ملکہ نوبیہ کے جسم کی طرف ہوا۔ قنطور کا مہرہ میری ہتھیلی سے اڑا اور سیدھا ملکہ کے جسم پر زخم کے نشان پر دونوں چھوٹے چھوٹے آبلوں کے درمیان جا کر چپک گیا۔ اس کرامت کو دیکھ کر سبھی دنگ رہ گئے۔ حیرت سے بادشاہ اور شاہی حکیم کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب سب کی نظریں سانپ کے مہرے پر لگی تھیں جو ملکہ کے جسم سے زہر کو چوس رہا تھا اور پھولتا جا رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مہرے نے ملکہ نوبیہ کے جسم سے سارے کا سارا زہر چوس لیا اور وہ پھول کر انجیر جتنا ہو گیا تھا۔ پھر وہ خودبخود زخم سے الگ ہو کر نیچے گر پڑا۔ میں نے جلدی سے مہرا اٹھالیا اور ایک خالی ڈبیہ میں اس کا سارا زہر نچوڑ ڈالیا۔ یہ کالا سیاہ زہر تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 45پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ضرور پڑھیں: قصبہ کالونی سے لاپتہ 7 سالہ ایمان علی مل گیا، اغوا کار خود ہی چھوڑ گئے
جسم سے زہر خارج ہوتے ہی ملکہ نوبیہ نے آنکھیں کھول دیں۔ ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بادشاہ نے اٹھ کر ملکہ نوبیہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا۔

ؔ ؔ ’’ ملکہ دیوتاؤں نے تمہاری زندگی واپس کردی۔ کیا تم اپنے جسم کو ہلاسکتی ہو؟‘‘ ملکہ نے اپنے پاؤں کو حرکت دی۔ اس کے جسم میں زندگی کا تروتازہ پھر سے گردش کرنے لگا تھا۔ وہ خوش ہو کر اٹھی اوربیٹھ گئی۔ بادشاہ نے بے اختیار ہو کر مجھے گلے سے لگالیا۔ شاہی حکیم نے آگے بڑھ کر مجھ سے ہاتھ ملایا اور مجھے اس حیرت افروز اور عظیم الشان کامیابی پر مبارک باد دی۔ دیگر معالجین بادشاہ اور ملکہ نوبیہ کو مبارک باد دینے لگے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ مشیر خاص کشان کو رہا کر دیا جائے۔ تانبے کے منحوس بیل کو توڑ پھوڑ کر دریائے فرات میں پھینک دیا جائے اور خزانے کے منہ کھول دیئے جائیں اور غریبوں کے لئے لنگر جاری کر دیا جائے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔

ضرور پڑھیں: چترال میں دہشت گردوں کا اسکول پر حملہ، عمارت تباہ
بادشاہ نے مجھے احسان مند نگاہوں سے دیکھ کر کہا۔’’ عاطون ! دیوتا گواہ ہیں کہ میں نے تمہیں ایک ناتجربہ کار نوجوان سے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی مجھے معاف کردینا۔ تم نے ہماری ملکہ کو نئی زندگی دے کر ہمیں خرید لیا ہے۔ ہم نہ صرف تمہیں ملک قرطاضیہ کی حاکمیت عطا کرتے ہیں بلکہ تمہیں اپنے دربار میں شاہی حکیم کا منصب بھی عطا کرتے ہیں۔‘‘

اس اعلان پر بزرگ شاہی حکیم کا چہرہ لٹک گیا۔ میں نے بادشاہ بخت نصر کا شکریہ ادا کیا اور کہا۔

ضرور پڑھیں: پائلٹس اورکیبن کریوکی جعلی ڈگریوں سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ نے قومی ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹوافسرکوطلب کرلیا
’’ شاہ عالی مقام! مجھے نہ تو قرطانیہ کی حاکمیت چاہئے اور نہ میرے دل میں کسی شاہی منصب کی خواہش ہے۔ میں ایک معمولی طبیب ہوں اور ملک ملک چل پھر کر خلق خدا کی خدمت کرنا چاہتا ہوں کہ یہی میرے استاد نے مجھے ہدایت کی تھی۔ اس لئے مجھے معاف کیا جائے۔ میری دونوں شرطیں آپ نے پوری کردیں اور ایک انسان کی غلطی بخش کر اس کی جان بخشی کردی اور دوسرے کئی انسانون کی جان لینے والے منحوس تانبے کی بیل کو بتاہ کر دیا۔ بس مجھے یہی چاہئے تھا۔ یہی میرا انعام ہے۔ میں ایک بار پھر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اب مجھے اجازت دی جائے۔‘‘

میرے شدید اصرار پر شاہ بابل بخت نصر نے میری عرضداشت قبول کرلی اور میں شاہی محل سے کامیاب و کامران نکل کر سیدھا اپنی یہودی منگیتر نفتانی کی حویلی میں پہنچا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے چہرے سے میرا خیر مقدم کیا۔ اس کا خاوند کشان تھوڑی دیر ہوئی شاہی قید خانے سے رہا ہو کر اس کے پاس پہنچ چکا تھا۔ ان دونوں تکیہ خبر کی جان بخشی کروائی ہے۔ کشان کو میں پہلی بار دیکھ رہا تھا وہ ایک خوبصورت اور دل آویز شخصیت والا بابلی نوجوان تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ میری منگتیر کا خاوند بننے کے لائق تھا۔وہ بار بار میرا شکریہ ادا کررہے تھے اور میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا تھا کہ میں نے اپنا انسانی فرض ادا کیا ہے۔ تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد میں واپس ہوا۔ میرے لئے اب وہاں کیا رکھا تھا۔ میری منگیتر کا گھر اجڑنے سے بچ گیا تھا اور اس کی زندگی کی خوشیاں اسے واپس مل گئی تھیں۔ میں نے انہیں تاکید کی کہ وہ جتنی جلدی ہوسکے بابل شہر چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلے جائیں۔ نفتانی کے خاوند کشان نے کہا کہ وہ اگلے قافلے کے ساتھ ملک یونان روانہ ہوجائے گا۔

ضرور پڑھیں: سیف الرحمان کے سیف ہاؤس سے قطر کی 21 گاڑیاں برآمد لیکن سب سے زیادہ گاڑیاں کس عرب ملک کے شہزادوں نے پاکستان پہنچائیں اور یہ گاڑیاں اب کہاں ہیں؟ تہلکہ خیز خبرآگئی
میں قنطور کے پاس آگیا اور اسے اس کا مہرہ واپس دیتے ہوئے اپنی کامیابی کی خبر سنائی۔ وہ بھی بڑا خوش ہوا کہ کشان کی زندگی بچ گئی تھی۔ اس رات میں اور میرا انسان سانپ دوست قنطور کتنی ہی دیر تک بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہے۔ میں نے قنطور کو بتایا کہ میرا ارادہ ہے کہ بابل سے ملک یونان یا شام کی طرف چلا جاؤں۔ قنطور نے کہا کہ وہ جب کسی پھانسی یافتہ تازہ لاش کو رشی ناگ کے حضور پیش کر کے اپنی تیسری کرامت کی طاقت حاصل نہیں کر لیتا بابل ہی میں رہے گا۔ اس کی وجہ اس نے بتائی کہ بخت نصر ایک ظالم بادشاہ ہے اور ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی کے قتل کا حکم دیتا ہے۔ ہوستا ہے کسی روز اسے ایک ایسی لاش بھی مل جائے جس کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا ہو۔ میں نے مذاق کے طور پر قنطور سے کہا کہ وہ ایسا کیوں نہیں کرلیتا کہ جس روز آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہوں وہ کسی زندہ انسان کو پکڑ کر اسے خود پھانسی دے دے۔ اس پر قنطور نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’ ہم سانپوں کا بھی ایک ضابطہ اخلاق اور قانون ہے۔ ہم کسی انسان پر صرف اس صورت حملہ کرتے ہیں جب ہماری جان کو خطرہ درپیش ہو۔ محض اپنے کسی دنیاوی مقصد کے لئے ہم کسی کو ہلاک نہیں کر سکتے۔ اس لئے مجھے لامحالہ کسی پھانسی دی ہوئی لاش کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر تم جانا چاہتے ہو تو بے شک چلے جاؤ۔ ہماری زندگیاں بڑی طویل ہیں۔ تاریخ کے دھارے پر سفر کرتے ہوئے کسی نہ کسی موڑ پر ہم پھر ایک دوسرے سے آملیں گے۔ ‘‘

ضرور پڑھیں: دنیا کا سب سے پہلا بوئنگ 777 میوزیم کی زینت بن گیا
قنطور نے بڑے پتے کی بات کہی تھی کیونکہ تجرے نے ثابت کر دیا کہ بعد میں ایسا ہی ہوا۔ ہم کئی بار عجیب و غریب حالات میں ایک دوسرے سے بچھڑگئے لیکن کچھ عرصے بعد ان سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور پر اسرار حالات میں دوبارہ ایک دوسرے سے آن ملے۔ مگر ابھی فوری طور پر بابل سے جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ قنطور سے مجھے گہرا جذباتی لگاؤ ہوگیا تھا اور میں اس کے پاس زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔

میرے ساتھ کبھی ایسا ہوتا کہ میں وقت کے ساتھ ساتھ سفر کئے جاتا۔ بادشاہ اور دوسرے لوگ میرے سامنے قتل ہوتے یا بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر طبعی موت مرجاتے۔ ان کی جگہ دوسرا بادشاہ تخت شاہی پر متمکن ہوجاتا اور وقت میرے چہرے پر عمر رسیدگی کی ایک جھری ڈالے بغیر گزرجاتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ اچانک کوئی معمولی سا حادثہ وقوع پذیر ہوتا اور میں اچانک ایک عہد، ایک دو رسے نکل کر دو سو یا چار سو سال آگے کے زمانے میں جانکلتا۔ اس رات جب میں اور قنطور بیٹھے باتیں کررہے تھے تو قنطور نے اپنا مہرہ مجھے دے کر کہا کہ اسے سونگھو۔ میں نے مہرے کو سونگھا۔ اس میں سے عجیب سی ہلکی ہلکی خوشبو نکل رہی تھی۔ایسی خوشبو میں نے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ قنطور نے کہا۔ ’’ یہ میری خوشبو ہے۔ زندگی اور تاریخ کے اس طویل ترین سفر میں اگر کبھی ہم ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور کسی اتفاق کے ساتھ ایک ہی عہد اور ایک ہی شہر میں نمودار ہوئے تو تمہیں میرے جسم کی یہی خوشبو آجائے گی اور تمہین اس شہر اس صحرا یا اس جنگل میں میری موجودگی کا احساس دلا دے گی۔ ‘‘ میں نے قنطور کے مہرے کو دو تین بار سونگھا اور اس کی خوشبو ذہن میں بٹھالی۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صبح کا سورج مجھے بابل شہر کے قرب و جوار میں نہیں دیکھے گا۔

ضرور پڑھیں: رنبیراورکرینہ کپورکی دادی کرشنا راج کپورچل بسیں
رات ڈھلنا شروع ہوگئی تھی۔ قنطور نے کہا کہ میں کچھ دیر کے لئے آرام کرنا چاہتا ہوں اور وہ تخت کے بچھونے پر لیٹ گیا۔ مجھے نیند آتی ہی نہیں تھی۔ میں نے قنطور کو آرام کرنے دیا اور خود باہر نکل آیا۔ آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ چاندی کے زیور کے طرح چمک رہے تھے۔ ریت کے ٹیلے ستاروں کی دھیمی دھیمی روشنی میں دیوپیکر ہاتھیوں کی طرح ساکت و جامد بیٹھے ہوئے لگ رہے تھے۔ بستی کے مکانوں پر گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ میں چہل قدمی کرتے ہوئے بستی کے عقب کی جانب نکل گیا جہاں کھجور کے درختوں کے سائے میں ایک چھوٹ اسا چشمہ تھا۔ میں چشمے کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ بڑی پرسکون اور خاموش رات تھی۔ کسی پتے کے بلنے کی بھی صدا پیدا ہوگئیں۔ شاید مجھے تھوڑی دیر کے لئے اونگھ سی آگئی تھی۔ مجھے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ میں نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں۔ مگر اب میری آنکھوں کے سامنے ایک اور ہی منظر تھا۔ نہ وہاں وہ گاؤں تھا نہ ریت کے ٹیلے تھے اور نہ وہ صحرا اور نہ کھجور کے درخت اور چشمہ تھا۔ میرے قریب ایک گھوڑا کھڑا گردن ہلا رہا تھا۔ وقت رات ہی کا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک قبرستان میں بیٹھا ہوا ہوں جہاں قبریں پتھروں کے چبوتروں کی طرح کی بنی ہوئی ہیں اور ہر قبرپر یونانی اضام کی پچی کاری کی ہوئی ہے۔ یا خدا! یہ میں کہاںآگیا ہوں۔

قبرستان سے پرے پہاڑوں کی ڈھلانیں تھیں۔ میں نے اپنے لباس کو دیکھا۔ میرا لباس یونانی نوجوان کا لباس تھا۔ پاؤں میں چپل تھی۔ جسم پر سفید اور نیلے رنگ کا یونانی لباس تھا اور سر پر زیتون کے پتوں کی گول ٹوپی تھی۔ کمر کے گرد چمڑے کے غلاف میں بند یونانی خنجر لٹک رہا تھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ ایک پختہ عمر کی اونچی لمبی، سیاہ بالوں اور روشن آنکھوں والی عورت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی میری طرف بڑھ رہی تھی۔ میں اسے حیرت سے تک رہا تھا۔ اس عورت کے چہرے پر شاہانہ جلال تھا۔میرے قریب آکر اس نے تعجب سے کہا۔

ضرور پڑھیں: سلمان خان نے غیراخلاقی مناظر نہ فلمانے کی وجہ بتا دی
’’ بطیموس ! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہیں تو سکندر سے مل کر سیدھا پاس آنا چاہئے تھا۔ مجھے بتاؤ میرے بیٹے سکندر کا کیا حال ہے اور اپنی سوتیلی ماں قلوبطریس کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہے؟‘‘

میرا سر چکرا کر رہ گیا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی مجھ پر تحیر افزا انکشاف ہوا کہ تاریخ نے ایک بار پھر مجھے پانچ برس آگے دھکیل دیا تھا۔ اور میں یونان کے سنہری عہد میں داخل ہو چکا تھا۔ یہ عورت بعد میں بننے والے سکندر اعظم کی ماں اولمپیاس تھی۔ مگر یہ ایک بڑی زبردست سیاست کار اور جابر ارادوں کی مالک عورت تھی اور اس نے اپنے بیٹے سکندر کو دنیا کا فاتح بنانے کا عہد مصم کر رکھا تھا۔ میری شناخت یہاں بطلیموس کی شکل مین متعین ہوئی تھی جو تاریخ کے اوراق پارینہ کے مطابق سکندر کا گہرا دوست اور عظیم یونانی فلاسفر اور سکندر کے اتالیق ارسطو کا شاگرد خاص تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں