28

انتظار کریں اور دیکھیں

السلام و علیکم دوستو! سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے اگر آپ کو کہیں کہ میاں نواز شریف موجودہ صدی کا اک عظیم لیڈر ہے اور یقیناًصدیوں میں ہی ایسے لیڈر پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے عوام تن من دھن۔ سب کچھ وار دیں اور اگر یہ کہا جائے کہ عوام میاں نواز شریف سے آج بھی والہانہ پیار کرتے ہیں تو یہ بھی غلط نہ ہو گا اور اگر کہا جائے کہ پاکستان کے خوش قسمت ترین رہنماؤں میں میاں نواز شریف کا شمار ہوتا ہے تو یہ بھی غلط نہ ہو گا،اگر دیکھا جائے تو میاں نواز شریف ہی وہ واحد خوش نصیب سیاست دان ہیں،جنہیں تین دفعہ اقتدار نصیب ہوا اور اگر یہ کہا جائے کہ جتنے ترقیاتی کام مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں ہوئے کسی اور دور حکومت میں نہیں ہوئے اور اگر کہا جائے کہ میاں نواز شریف کی بدقسمتی کہ تین بار اقتدار نصیب ہوا لیکن تینوں بار ہی نواز شریف کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ جی ہاں جب بھی میاں نواز شریف برسر اقتدار آئے ان کے مخالفین بھی ان کے خلاف آئے روز سازشوں کے جال بنتے رہے اور سازشی عناصر کے شر کے باعث میاں نواز شریف کو اقتدار سے تین دفعہ الگ ہونا پڑا۔

جناب صدر پاکستان جناب ممنون حسین بھی ایک لحاظ سے خوش قسمت ٹھہرے جناب زرداری کی طرح انھوں نے بھی پانچ سال ایوان صدر میں اقتدار کے مزے لوٹے ۔
اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کی حکومت بھی خوش قسمت ٹھہری کے جناب زرداری کی سابقہ حکومت کی طرح مدت پوری کر گئی۔بہر حال ہم بات کر رہے تھے جناب نواز شریف دور حکومت کی، بالآخر مسلم لیگ(ن)کی حکومت بھی پانچ سال پورے کر چکی لیکن جس طرح سے مدت پوری کی سب ہی جانتے ہیں۔

یہ بات بھی دنیا جانتی ہے کہ جس طرح سے جناب کپتان اور ان کی جماعت کے دیگر رہنما منظم سازش کے تحت دھرنے اور مظاہرے کرتے رہے اور میاں نواز شریف کو عدالت سے نااہل قرار دینے میں مشغول رہے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کو سپریم کورٹ سے نااہل کروا کے ہی دم لیا پھر دنیا یہ جانتی ہے کہ جناب کپتان ملک بھر میں کس قسم کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں
اب جبکہ موجودہ حکومت مدت پوری ہونے پر تحلیل ہوچکی۔نگر ان حکومت کے وزراء کے ناموں کا اعلان بھی ہوچکا اور اب دنیاا بھر کی نظریں نگران حکومت پرجمی ہیں کہ آیا نگران حکومت قانون وقواعد کے مطابق آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر کرواسکے گی یا نہیں

نئے عام انتخابات کا اعلان بھی کیا جاْچکا تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں نگران وزیر اعظم کے لئے سابق جج ناصر الملک عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ناصر کھوسہ کا نام سامنے آ یا، لیکن تاحال سب کا اتفاق نہیں ہو سکا۔
آئندہ عام انتخابات کے لیے محاذ کھل چکا ہے۔ الیکشن لڑنے کے لئے امیدوار میدان میں کوداترنے کیلئے تیار ہیں اورملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے ملک بھر سے عام انتخابات کے لئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرنے شروع کر دی ہیں ، تاہم ابھی تک کسی بھی جماعت کی طرف سے امیدواروں کا نام فائنل نہیں کیا گیا، مختلف سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کے حصول کے لئے ابھی سے امیدواروں کے درمیان جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے ہر کوئی الیکشن لڑنے کے لئے اپنی پسند کی پارٹی کے ٹکٹ کے حصول کا خواہش مند ہے ۔اگر دیکھا جائے تو ملک بھر میں الیکشن لڑنے کے امیدواروں کی تصاویر والے فلیکس ہی فلیکس ہر جگہ دکھائی دینے لگے ہیں

تاہم نگران وزیر اعظم کے نام اور نگران حکومت سنبھالنے کے اعلان کے بعد انتخابات نہ ہونے کی قیاس آرائیاں دم توڑ جائیں گی جبکہ عدالت کی طرف سے بھی بروقت انتخابات کروانے پہ زور دیا گیا ہے ۔
حیران کن صورت حال یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعدد اضلاع میں ہونے والی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دیں جبکہ مختلف عدالتوں میں بھی حلقہ نندیوں سے متعلق بہت سے کیس دائر ہیں جن کا فیصلہ باقی ہے جس کے بعد عام انتخابات کے مقررہ وقت پرنہ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔

بہر حال اب بھی عام انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے سے متعلق بہت سے سوالات عوام کے دلوں میں گھر تو کر چکے ہیں لیکن عوام کے دل ان مخصوص سوالات کے جوابات سے بہت دور ہیں اور بہت سے سولات کے جوابات کے لئے ہمیں آئندہ آنے والے وقت کا انتظار کرناپڑے گا۔

آپ فی الحال وقت کا انتظار کریں لیکن ہمیں اجازت دیں تو ملتے ہیں جلد آپ سے ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں