37

قبلہ طاہر القادری، تشریف لائے، بسم اللہ!

خوش آمدید، بسم اللہ، محترم ڈاکٹر علامہ پروفیسر طاہر القادری آج( 2۔جون) تشریف لارہے ہیں، ان کا یہ پھیرا معمول کا ہے اور وہ تین روز بعد شروع ہونے والے آخری عشرے میں معتکفین حضرات کے لئے آئے ہیں اور پورے عرصہ میں شہراعتکاف میں پندو وعظ سے معتکفین کو مستفید فرمائیں گے، شہر اعتکاف کا یہ سلسلہ اب تو دیرینہ ہوچکا اور اسے اسی تناسب سے شہرت بھی حاصل ہے، تعداد بھی بہت ہوتی ہے اور معتقدین بھی حاضری دیتے ہیں، اس شہراعتکاف کے لئے مناسب انتظام ہمیشہ کی طرح، اس مرتبہ بھی خواہش مند حضرات کی تعداد زیادہ تھی اس لئے بہت سے حضرات کو مایوس ہونا پڑا۔
شہراعتکاف کا یہ نظام منہاج القرآن والی تنظیم کے زیر اہتمام ہوتا ہے اور اس سارے میلے کے دلہا تو قبلہ ہی ہوتے ہیں، اس لئے ان کی یہ آمد بنیادی طور پر اسی حوالے سے ہے، لیکن ایک پنتھ دو کاج کے مصداق وہ اس کے لئے آئے لیکن یہاں ان کے سیاسی ونگ پاکستان عوامی تحریک والوں نے اطلاع مشتہر کرتے وقت اس عمل کو کلیتاً نظر انداز کردیا اور صرف یہ بتانے پر اکتفا کیا کہ قبلہ طاہر القادری معتکفین کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھیں گے، تاہم جس عمل کو زیادہ نمایاں کیا گیا وہ یہ تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ’’شیخ الاسلام‘‘ ڈاکٹر علامہ پروفیسر طاہر القادری صحت یابی کے بعد لاہور تشریف لا رہے ہیں اور یہاں وہ سیاسی جماعتوں (مخالف) کے اتحاد کی کوشش کریں گے، یہ اتحاد جو نہ بن سکا، پاکستان عوامی تحریک، مسلم لیگ (ق) پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل کہا گیا، اس سلسلے میں ڈاکٹر طاہر القادری اس حد تک تو کامیاب تھے کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں ایک ایسا اجلاس منعقد کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے جس میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں نے شرکت کی اور اس وقت کی وفاقی حکومت جو مسلم لیگ (ن) کی تھی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان بھی کیا اور پھر اس اجلاس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی والوں کی اتنی ہی بڑی مہربانی تھی کہ وہ اس اجلاس میں شریک ہوگئے کہا تو یہ گیا تھا کہ آصف علی زرداری اور عمران خان دونوں ہوں گے لیکن ایسا نہ ہوا، بلکہ دلچسپ تماشہ تو اس روز ہوا، جب فیصل چوک کے احتجاجی جلسہ عام میں دونوں راہنما الگ الگ آئے آصف علی زرداری خطاب کرکے چلے گئے تو عمران خان پہنچے، آصف علی زرداری کے ساتھ ہی ان کے ’’چاہنے‘‘ والے بھی چلے گئے اور یوں مبصرین نے اس مشترکہ جلسے کو ’’ناکام شو‘‘ قرار دیا تھا۔
قبلہ طاہر القادری اس کے بعد بھی جوڑ توڑ اور محاذ آرائی میں شامل تو رہے لیکن کوئی بڑی کامیابی نہ مل سکی تھی اور پھر فیصلہ کن جدوجہد کا اعلان کرتے کرتے عوامی ذہن کے مطابق اچانک یہ کہہ کر تشریف لے گئے کہ علالت کے باعث جانا پڑا، علاج کے بعد جلد آئیں گے، پھر ان کی آمد نہ ہوئی وہ کینیڈا میں اپنی مصروفیات جاری رکھے رہے اور اب طے شدہ پروگرام کے مطابق تشریف لائے ہیں یقیناً کچھ ہلا گلا کرکے مقررہ پروگرام کے مطابق واپس بھی تشریف لے جائیں گے کہ نئے وطن کینیڈا میں جی بہت لگتا ہے۔
علامہ طاہر القادری قبلہ سے ہماری یاد اللہ بہت پرانی ہے، اس وقت سے ہم ایک رپورٹر کی حیثیت سے کوریج کرتے چلے آرہے ہیں جب سے انہوں نے اپنے دینی اور تعلیمی (منہاج القرآن) کام سے سیاست کی طرف رخ کیا تھا، اس عرصہ میں ہم بہت سے اتار چڑھاؤ کے خود شاہد ہیں، ان کے منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں بے نظیر بھٹو کی آمد اور ان کی صدارت کے ساتھ ساتھ ان کے فخر و انبساط کے بھی ہم گودہ ہیں، اس سلسلے میں عرض کردیں کہ ہم نے محترم کو برملا کئی بار یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ سیاست چھوڑ دیں اور تعلیمی اور دینی میدان کی طرف بھرپور توجہ دیں کہ یہ کام اچھا اور وسیع بھی ہے اور اس کے حوالے سے ان کا احترام بھی کیا جاتا ہے، انہوں نے یہ ’’مفت مشورہ‘‘ بروقت تو نہ مانا اور جب خود سے سیاست کا بائیکاٹ کیا تو نام ہمارا لگا دیا، بھری محفل میں یہ کہا ’’چودھری خادم حسین نے ہم سے یہ فیصلہ کرایا ہے‘‘ حالانکہ یہ خود ان کی مصلحت تھی اور جب انہوں نے میدان دیکھا تو دھرنا دینے چلے آئے، قبلہ کی طرف سے دو بار ایسا کیا گیا تھا اور پہلی بار تو ٹیلیویژن سکرین پر پورے جہاں نے دیکھا جب وہ اچھل اچھل کر پرجوش انداز میں ’’مبارک ہو، مبارک ہو‘‘ پکار اٹھے تھے۔
بہر حال یہ ان کا اپنا عمل ہے، اب وہ تشریف لائے ہیں تو پھر سے ایک پنتھ دو کاج والا معاملہ ہے، تاہم یہاں صورت حال مختلف ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اونچی پرواز میں ہیں اور اکیلے پرواز کرنا چاہتے ہیں اس لئے کسی دوسرے کو حصہ دینا بہت مشکل ہے، جہاں تک پاکستان عوامی تحریک کا تعلق ہے تو انتخابات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی تیاریوں والی خبریں چلتی رہیں، پاکستان عوامی تحریک کی ندارد اب قبلہ آئے ہیں تو یہ فیصلہ بھی ہو ہی جائے گا، اب تو وقت کم اور مقابلہ سخت والی بات ہے کہ آج (2۔جون) سے 6جون تک تو کاغذات نامزدگی حاصل کرکے داخل کرانا ہیں، امکانی طور پر ان کی جماعت والوں نے کوئی فہرست ضرور تیار کررکھی ہوگی اور وہ شہراعتکاف میں فروکش ہونے سے پہلے تحریک انصاف اور دوسری ممکنہ اتحاد والی جماعتوں سے مذاکرات کریں گے نتیجہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ سب اپنی تیاریاں کئے بیٹھے ہیں، یوں بھی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو اپنا اپنا گھر بھی دیکھنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر مشکلات کا سامنا ہے اور تحریک انصاف کا حال ایک انار سو بیمار والا ہوا پڑا ہے، مسلم لیگ (ق) نے ’’بیک ڈور‘‘ مذاکرات کے ذریعے چند نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف سے ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے، اس لئے میدان اتحاد والا تو نہیں رہا، اب تو محترم طاہر القادری کو ایک مرتبہ پھر انتخابی عمل میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ جیت کے امکانات۔۔۔؟ ویسے ایک راز کی بات بتائیں، قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری، عبوری حکومت کی طوالت کے حامی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں