63

انتخابات کا سرکس

پاکستان تیزی سے انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کو انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس واضح اعلان کے باوجود بہت سے مبصرین کو کسی صورت 2018ء میں انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ کچھ دانشور اصرار کر رہے ہیں کہ انتخابات 2018ء میں ہی ہو جائیں گے مگر جولائی میں نہیں ہوں گے۔ کچھ دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو جائیں گے۔ یوں میڈیا بے یقینی کے کلچر کو فروغ دینے میں خوب کردار ادا کر رہا ہے۔اس میں شبہ نہیں ہے کہ میڈیا سیاسی مباحث کا ایجنڈا متعین کرتا ہے اور اکثر رائے عامہ کو خاص سمت میں دھکیلتا ہوا نظر آتا ہے۔ حلقہ بندیاں کالعدم قرار دینے کے حالیہ عدالتی فیصلوں سے چونکا دینے والے انکشافات کرنے والے ماہرین کا کام خاصا آسان ہوگیا۔
انتخابات کے نتائج کے متعلق اکثر درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں مبصرین کی اکثریت کا خیال تھا کہ ہیلری کلنٹن کامیابی حاصل کریں گی مگر ٹرمپ نے کامیاب ہو کر دنیا کو حیران کر دیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سی آئی اے کو ٹرمپ کے جیتنے پر اتنا صدمہ نہیں ہے جتنا دکھ اسے اپنے اندازوں کے غلط ہونے پر ہوا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی غلطیوں پر بے شمار کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ امریکی صدر سینئر بش کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل برینٹ سکوکرافٹ نے 1991ء کی خلیجی جنگ کے دو سال بعد لندن میں کہا تھا کہ کویت کے متعلق سی آئی اے کی بجائے آئی ایس آئی کے اندازے زیادہ بہتر تھے۔ اسی طرح خلیج کی دوسری جنگ سے پہلے امریکہ کے متعدد اداروں نے صدر کو قائل کر لیا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔
ان خیالی ہتھیاروں کی تلاش میں عراق میں جنگ ہوئی جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے اور یہ المیہ آج بھی جاری ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کے متعلقہ اداروں نے جان بوجھ کر تباہ کن ہتھیاروں کا شوشہ چھوڑا تھا کیونکہ امریکہ کے مقتدر حلقے ہر قیمت پر صدر صدام حسین کو اقتدار سے رخصت کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو متعلقہ اداروں اور ان کے مشیروں نے انتخابات میں کامیابی کا یقین دلا دیا تھا۔ اس لئے انہوں نے وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انتخابات کے اعلان کے بعد سیاسی ماحول میں حیرت انگیز تبدیلی آئی تھی۔ اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں کے متعلق یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ ان کے متحد ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور 1977ء کے انتخابات ان کے لئے ناکامی لے کر آئیں گے۔ اپوزیشن پارٹیاں قومی اتحاد کی صورت متحد ہوئیں۔ انہوں نے بھٹو کے خلاف الیکشن لڑا اور پھر انہیں اقتدار سے رخصت کرنے کے لئے تحریک بھی چلائی۔ سیاسی حالات کی اس کروٹ کے متعلق بھٹو جیسا ذہین و فطین شخص بھی کوئی اندازہ لگانے میں ناکام رہا تھا۔
جنرل یحییٰ خان نے 1970ء کے انتخابات کا فیصلہ انٹیلی جنس اداروں کی ان رپورٹوں پر کیا تھا جن کے مطابق کسی بھی جماعت کے لئے واضح اکثریت حاصل کرنے کے امکانات نہیں تھے اور انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ وجود میں آنی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنرل یحییٰ کا اقتدار جاری رہے گا۔ انتخابات میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے حیران کن کامیابی حاصل کی جب کہ مشرقی پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے غیر معمولی فتح حاصل کی۔ انتخابات کے نتائج انٹیلی جنس اداروں کی توقعات سے قطعی طور پر مختلف تھے۔
جنرل درانی کا کہنا ہے کہ نچلی سطح پر پولیس کی سپیشل برانچ کے اندازے بہت زیادہ درست ہوتے ہیں۔ اکثر انتخابات اپنے ساتھ حیرت کا عنصر لے کر آتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگوں کو شکست ہو جاتی ہے جن کی ڈکشنری میں شکست کا لفظ نہیں ہوتا اور ایسے لوگ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں جن کے متعلق لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ کسی صورت میں کامیابی ان کے حصے میں نہیں آئے گی۔2008ء کے انتخابات میں چوہدری پرویزالٰہی اپنی کامیابی کے متعلق پریقین تھے۔ متعدد اداروں کا خیال تھا کہ وہ شاندار کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے اپنی انتخابی فتح کا جشن منانے کا بھی انتظام کر لیا تھا مگر انہیں خاصی بری شکست ہوئی۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد انہوں نے جو کامیابی حاصل کی تھی اس میں بھی حیرت کا عنصر تھا۔ بہت سے لوگ کہتے تھے کہ چوہدری پرویزالٰہی کے ہاتھ پر وزارت اعلیٰ کی لکیر ہی نہیں ہے۔ وہ نہ صرف وزیراعلیٰ بنے بلکہ انہوں نے اپنی مدت اقتدار بھی پوری کی۔ 1999ء میں جب میاں نوازشریف اقتدار سے رخصت ہوئے تو انہیں دو تہائی اکثریت حاصل تھی مگر 2002ء کے انتخابات میں وہ صرف 15نشستیں حاصل کر سکے تھے اور انہیں 11.7 فی صد ووٹ ملے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پارٹیوں کے ووٹ مستقل نہیں ہوتے۔

بعض مبصرین کا یہ خیال ہے کہ پاکستان میں عام طور پر بہت سے ووٹر ان امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں جن کی کامیابی کا تاثر خاصا مضبوط ہوتا ہے۔ جس پارٹی کے متعلق یہ تاثر قائم ہو جائے کہ وہ کامیاب نہیں ہو گی۔ اس کے ووٹر عام طور پر گھر سے باہر نہیں نکلتے۔ ایک سابق وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ انتخابات میں الیکشن کا دن سب سے اہم ہوتا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ دن پوری انتخابی مہم کے برابر ہوتا ہے۔ جو امیدوار اپنے ووٹروں کو ووٹ ڈلوانے کے لئے پولنگ اسٹیشن تک لے جانے میں کامیاب ہو جائے اس کی کامیابی کے روشن امکانات ہوتے ہیں۔

انتخابی عمل خاصا پیچیدہ ہوتا ہے۔کسی ایک فیکٹر کی وجہ سے نہ تو پارٹی کو کامیابی ہوتی ہے اور نہ ہی ناکامی۔ بعض امیدوار جس پارٹی میں بھی ہوں وہ کامیاب ہوتے ہیں۔تاہم کبھی کبھار ہار کا ذائقہ بھی چکھ لیتے ہیں۔ پاکستان کے گزشتہ انتخابات میں امیدوار اپنی کامیابی کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرتے رہتے ہیں۔ چند عشرے قبل وسطی پنجاب کے ایک شہر میں امیدوار کو ووٹروں پر یقین نہیں تھا کہ وہ انہیں ووٹ ڈالیں گے۔ انہوں نے انتخابات کے دن کے لئے ان کے شناختی کارڈ خرید لئے۔ معقول رقم دینے کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ انتخابات کے بعد انہیں شناختی کارڈ واپس کر دیئے جائیں گے۔ مگر وہ صاحب الیکشن ہار گئے۔ اب وہ اتنے غصے میں آ گئے کہ انہوں نے بے شمارشناختی کارڈوں کو ضائع کر دیا اور جن کو واپس کئے ان سے زیادہ رقم وصول کی۔ ایک امیدوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے حامی الیکشن والے دن پولنگ بوتھ سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان پولنگ بوتھوں سے ووٹر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ ہوائی فائرنگ عام طور پر ایسے پولنگ بوتھوں کے قریب کرائی جاتی ہے جہاں مخالف امیدوار کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

پاکستان کے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات مدتوں سے لگائے جا رہے ہیں۔ 1954ء کے صوبائی انتخابات میں دھاندلی کے لئے جھرلو کا لفظ استعمال ہوا۔ جنرل ایوب خان نے جو انتخابات کرائے ان پر بڑے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کو جس منظم طریقے سے ہرایا گیا تھا اس سے ان انتخابات کی کریڈیبلٹی خاصی متاثر ہوئی تھی۔1970ء کے انتخابات کو منصفانہ قرار دیا جاتا ہے مگر ان کے متعلق جو تحریریں منظر عام پر آئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی لیگ کے کارکنوں نے دھونس اور دھاندلی کا ہر حربہ استعمال کیا تھا۔ 1977ء کے انتخابات میں بھی دھاندلی کی وجہ سے باقاعدہ ایک عوامی تحریک چلائی گئی جس کے نتیجے میں مارشل لا آ گیا۔ گزشتہ انتخابات کے خلاف عمران خان نے اسلام آباد میں باقاعدہ دھرنا دیا تھا۔ گویا پاکستان میں انتخابات کے متعلق یہ امر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ صاف اور شفاف ہوں اور اس پر کوئی دھاندلی کا الزام نہ لگا سکے۔انتخابات کیسے ہوتے ہیں؟ کب ہوتے ہیں؟ ان کے متعلق قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جمہوریت کے لئے انتخابات ناگزیر ہیں اور پاکستان کے لئے جمہوریت ناگزیر ہے۔ مگر انتخابات کا عمل سرکس کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں