83

میں چھم چھم نچاں

آہ! سابق وزیراعلیٰ کے لئے میرے کلیجے کو ہاتھ پڑ رہا ہے۔ کس دل سے میاں صاحب خادم اعلیٰ کو سابق وزیراعلیٰ لکھوں۔ ہم تو جب سے پیدا ہوئے انہی کو وزیراعلیٰ دیکھ رہے ہیں۔ سوچ سوچ کر دل کو ہول پڑ رہے ہیں کہ ہن اسی کس دی ماں نو ماں آکھاں گے۔ اب ہم خادم اعلیٰ کس کو کہیں گے، جیسے سابق مرد آہن کو وردی اتارنے کے لئے پوری قوم کو لاکھ جتن کرنے پڑے تھے، اتنی تکلیف زندہ بکرے کی کھال اتارنے میں نہیں ہوئی، جتنی ان کی وردی اتارنے پر آہ و فغاں مچی۔ چلیں سابق وزیراعظم عباسی تو خیر تھے ہی نظام سقہ لیکن شہبازشریف تو جماندرو وزیراعلیٰ تھے۔ کل سے جب وہ ایک انسان کی سی اور ایک پاکستانی انسان کی سی زندگی شروع کریں گے تو اللہ کرے ان کی طبیعت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں۔
ایک وزیراعلیٰ اور ایک عام انسان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دائیں آنکھ کا بائیں آنکھ سے۔ دونوں ایک چہرے پر ہو کر بھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پاتیں۔ الحمد للہ دوسری مسلسل جمہوری حکومت ہے جس نے اپنی مدت مکمل کی، لیکن دس سال کے اس سفر میں عوام کے کن خوابوں کی تکمیل ہوئی، کن انسانی حقوق پر عمل ہوا۔ ایک غریب کے گھر کی ٹپکتی چھت کے سوراخ بند ہو سکے، غریب سے مزید غریب اور امیر سے مزید امیر ہوتے فرق کو ختم کیا جا سکا۔ عدالتوں میں سسکتے بلکتے سائلوں کی کوئی شنوائی ہو سکی، قرضوں کا بوجھ کم کیا جا سکا، بین الاقوامی سیاست میں کیا ہمارا قد بلند ہوا، کیا اداروں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی پیدا ہو سکی، تھانہ کلچر تبدیل ہو سکا، نوتعمیر پلوں کے نیچے ہیروئن پینے والے ختم ہو سکے؟ کیا صوبوں میں اتفاق پیدا ہو سکا اور سب سے آخری سوال کیا جمہوریت مضبوط ہو سکی؟ ٹیچر نے سنتا سنگھ سے پوچھا: اسکول دیر سے کیوں آئے ہو؟ وہ بولا: استاد جی! بارش ہو رہی تھی، مَیں قدم آگے بڑھاتا تھا تو دو قدم پیچھے سلپ ہو جاتا۔ پھر مَیں نے پٹھا چلنا شروع کیتا تے اسکول پہنچیا۔ ہم سنتا سنگھ سے کسی طرح کم نہیں، جمہوریت کی طرف ایک قدم چلیں تو دو قدم پیچھے ہو جاتے ہیں۔ ہاں، جب آمریت کی طرف منہ کرتے ہیں تو جمہوریت کی طرف سلپ ہونے لگتے ہیں۔ 10 سال مسلسل جمہوریت کا چلنا خوش آئند لیکن کیا 10 سال میں حکمران اور جمہور، جمہوری ہو سکے۔ 10 سال بعد بھی اسمبلی کے آخری اجلاسوں میں ہم نے اگر لترو لتری ہی ہونا ہے تو جمہوریت کیا اداکارہ میرا جی کا نام ہے جس سے 10 سال بعد عدالت نکاح تسلیم کراتی ہے اور وہ اسی وقت خلع بھی لے لیتی ہے۔
میرا یار زاہد کرکٹ کا دیوانہ ہے۔ کہنے لگا کہ مَیں عمران خان کا بہت بڑا فین ہوں، لیکن مَیں کبھی عمران سے بات نہیں کرتا۔ مَیں نے کہا کیوں۔ تو کہنے لگا کیونکہ عمران وی میرے نال گل نئیں کردا۔ ہم بھی انتہائی تازہ تازہ سابق خادم اعلیٰ کے فین بلکہ ایگزاسٹ فین ہیں، لیکن ہم بھی ان سے بات نہیں کرتے کیونکہ وہ بھی ہم سے بات نہیں کرتے۔ اسے کہتے ہیں جیسے کو تیسا۔ گزشتہ روز لاہور میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے فرداً فرداً تمام ایڈیٹرز کا نام لیا لیکن چونکہ ہماری ان کی بول چال بند ہے تو وہ ہمیں اور غریدہ فاروقی کو اگنور کر گئے۔ ان کی باتوں سے جو نتیجہ ہم نے اخذ کیا وہ یہ تھا کہ الیکشن نہیں ہوں گے، ان کا یہ کہنا کہ بلوچستان اسمبلی کی قرارداد نیک شگون نہیں، ہمارے دل کو بہت بھائی۔ کیونکہ ’’دل خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر‘‘ چلیں شکر ہے سب بدشگونیاں قوم کے لئے نہیں کچھ امراء کے لئے بھی ہیں۔ ایک مولوی صاحب اپنا کھانا لینے چودھری کے گھر گئے۔ چودھری کے بیٹے نے کہا مولوی صاحب! حلوہ بھی پکا ہے اور بریانی بھی، کیا لاؤں۔ مولوی صاحب کہنے لگے: پت کی گھر اک او ای پلیٹ اے۔
(بیٹے کیا گھر میں ایک ہی پلیٹ ہے) قوم کے نصیب میں تو ایک پلیٹ بھی نہیں ہے جس میں انہیں تھوڑا زردہ اور تھوڑی بریانی مل سکے اور وہ گا سکیں۔ کبھی خوشی کبھی غم۔ تارا رم پم پم۔ خطاب کے دوران جب انہوں نے کہا کہ آج ہماری حکومت ختم ہو رہی ہے اگر کل بجلی نہ آئے تو میں، نوازشریف اور ہماری حکومت ذمہ دار نہیں، سچ میں میری آنکھوں کے سامنے باقاعدہ لوڈشیڈنگ آ گئی، اتنا کمزور ہمارا جمہوری نظام ہے، جمہوری نظام تو ایک ریلے ریس کی طرح ہوتا ہے جس میں اپنا فاصلہ طے کرنے والا کھلاڑی بیٹم اگلے تازہ دم کھلاڑی کے ہاتھ میں پکڑاتا ہے۔ جس کے بعد وہ تازہ دم کھلاڑی اپنی اگلی منزل کی طرف بھاگ اٹھتا ہے، یہ کیسی جمہوریت کیسا نظام ہے جس میں 10 سال تک حکومت کرنے والوں کے جاتے ہی اگلے دن نظام کا پیمپر پھٹ جاتا ہے اور اس کی غلاظت سے پورا معاشرہ مزید متعفن ہو جاتا ہے۔ اسے کہتے ہیں بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ! بڑے بھیا گئے تو معیشت دھڑم کرکے ڈگ پئی۔ اب چھوٹے بھیا ڈرا رہے ہیں، یہ جمہوریتیں ہیں یا شخصی آمریتیں۔ بنتا سنکھ اپنی بنتو کو کہنے لگا: اسے کہتے ہیں سیلف کنٹرول، تمہارے پورے جسم میں شوگر ہو گئی ہے لیکن مجال ہے کہ تمہاری زبان میں مٹھاس پیدا ہوئی ہو۔ خادم اعلیٰ صاحب! آپ کے سیلف کنٹرول کو ہمارا سلام۔
ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ پاکستان تقریباً نیا ہو چکا ہے، رہی سہی کسر ماشا اللہ ہمارے کپتان صاحب پوری کر دیں گے۔ فاروق بندیال کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے ناصرف جمہوریت کے ماتھے کی بندیا مزید چمکے گی بلکہ انقلاب بھی دیوانہ وار گائے گا ’’میں چھم چھم نچاں، میں چھم چھم گاواں، میں چھم چھم پیلاں پاواں‘‘ پیپلزپارٹی تو صرف احتیاطاً ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے بھٹو‘‘ کہتی ہے۔ اصل میں اگر اس معاشرے میں کوئی زندہ ہے تو وہ ضیاء الحق ہے، وہ روحانی بیٹے میاں صاحب ہوں یا عمران خان جو مرد آہن کی ایک کانا پھوسی پر اپنی ریٹائرمنٹ واپس لیتے ہیں اور پھر اپنے انقلاب کے چند فٹ فاصلے پر ضیاء الحق کے دور میں واحد معاف کی گئی پھانسی کے ہیرو کے گلے میں ترنگہ ڈال کر انہیں مشرف بہ انقلاب کرتے ہیں۔

تو میرے سجنو تے مترو! جمہوریت ہو یا آمریت تم نے دانے بھننے ہیں، اب تو آپ کو ماشاء اللہ گرمی میں لوڈشیڈنگ کی عیاشی بھی موجود ہے، پٹرول بھی آپ کو گلے لگا کر عید مبارک کہہ رہا ہے۔ صاحب نے ہٹے کٹے فقیر کو ڈانٹتے ہوئے کہا: تمہیں شرم نہیں آتی، سڑک پہ کھڑے ہو کر بھیک مانگتے ہو۔ فقیر بولا: ہن تیرے لئے میں ڈیفنس وچ آفس بنا لاں۔ بھائی ہمیں شرم ورم کوئی نہیں آنی ہم تو ایسے ہی ہر پانچ سال بعد چارہ جمہوریت پر کھڑے ہو کر خوابوں اور خواہشوں کی بھیک مانگیں گے۔ جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں