34

سکندرِ اعظم کون۔۔۔؟

ہم نے بچپن میں پڑھا تھا مقدونیہ کا الیگزینڈر 20سال کی عمر میں بادشاہ بنا۔23سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا۔ اس نے سب سے پہلے پورا یونان فتح کیا،اس کے بعد وہ ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر وہ شام پہنچا، اس کے بعد اُس نے یروشلم اور بابل کا رُخ کیا، پھر وہ مصر پہنچا،پھر وہ ہندوستان آیا۔ ہندوستان میں اُس نے پورس سے جنگ لڑی۔ اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا، مکران سے ہوتا ہوا واپسی کا سفر شروع کیا، راستے میں ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوا اور323 قبل مسیح میں33سال کی عمر میں بخت نصر کے محل میں انتقال کر گیا۔ دُنیا کو آج تک یہی بتایا گیا وہ انسانی تاریخ کا عظیم جرنیل، فاتح اور بادشاہ تھا اور تاریخ نے اس کے کارناموں کی وجہ سے اُسے الیگزینڈر دی گریٹ کا نام دیا اور ہم نے اسے سکندرِ اعظم،یعنی بادشاہوں کا بادشاہ بنا دیا، لیکن آج اکیسویں صدی میں پوری دُنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھتا ہوں کیا حضرت عمر فاروق ؓ کے ہوتے ہوئے الیگزینڈر کو سکندرِ اعظم کہلانے کا حق حاصل ہے؟ مَیں دُنیا بھر کے مورخین کو سکندرِ اعظم اور حضرت عمر فاروقؓ کی فتوحات اور کارناموں کے موازنے کی دعوت دیتا ہوں، آپ بھی سوچئے الیگزینڈر بادشاہ کا بیٹا تھا، اُسے دُنیا کے بہترین لوگوں نے گھڑ سواری سکھائی، اُسے ارسطو جیسے اُستاد کی صحبت ملی تھی اور جب وہ بیس سال کا ہو گیا تو اُسے تخت اور تاج پیش کر دیا گیا،جبکہ اُس کے مقابلے میں حضرت عمر فاروقؓ کی سات پشتوں میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا، آپ بھیڑ بکریاں اور اونٹ چراتے چراتے بڑے ہوئے تھے اور آپؓ نے تلوار بازی اور تیر اندازی بھی کسی اکیڈمی سے نہیں سیکھی تھی۔
سکندرِ اعظم نے آرگنائزڈ آرمی کے ساتھ دس برسوں میں17 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا تھا، جبکہ حضرت عمر فاروقؓ نے دس برسوں میں آرگنائزڈ آرمی کے بغیر22 لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا اور اس میں روم اور ایران کی دو سپر پاورز بھی شامل تھیں۔آج کے سیٹلائٹ، میزائل اور آبدوزوں کے دور میں بھی دُنیا کے کسی حکمران کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں،جو حضرت عمر فاروقؓ نے نہ صرف گھوڑوں کی پیٹھ پر فتح کی تھی، بلکہ اس کا انتظام و انصرام بھی چلایا تھا۔ الیگزینڈر نے فتوحات کے دوران اپنے بے شمار جرتیل قتل کرائے، بے شمار جرنیلوں اور جوانوں نے اُس کا ساتھ چھوڑا، اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں اور ہندوستان میں اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کر دیا،لیکن حضرت عمر فاروقؓ کے کسی ساتھی کو ان کے حکم سے سرتابی کی جرأت نہ ہوئی۔وہ ایسے کمانڈر تھے کہ آپ نے عین میدانِ جنگ میں عالم اسلام کے سب سے بڑے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید ؓ کو معزول کر دیا اور کسی کو یہ حکم ٹالنے کی جرأت نہ ہوئی۔ آپؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کوفے کی گورنری سے ہٹا دیا۔ آپؓ نے حضرت حارث بن کعبؓ سے گورنری واپس لے لی۔ آپؓ نے حضرت عمرو بن العاضؓ کا مال ضبط کر لیا اور آپؓ نے حمص کے گورنر کو واپس بُلا کر اونٹ چرانے پر لگا دیا،لیکن کسی کو حکم عدولی کی جرأت نہ ہوئی۔

الیگزینڈر نے17لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، لیکن دُنیا کو کوئی نظام، کوئی سسٹم نہ دے سکا، جبکہ حضرت عمر فاروقؓ نے دُنیا کو ایسے سسٹم دیئے جو آج تک پوری دُنیا میں رائج ہیں۔ سن ہجری کا آغاز کیا، جیل کا تصور دیا، موذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں، مسجدوں میں روشنی کا بندوبست کرایا،پولیس کا محکمہ بنایا، ایک مکمل عدالتی نظام کی بنیاد رکھی، آبپاشی کا نظام قائم کرایا،فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا۔ آپؓ نے دُنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذروں، بیواؤں اور بے آسرا افراد کے وظائف مقرر کئے، آپؓ نے دُنیا میں پہلی بار حکمرانوں، سرکاری عہدیداروں اور والیوں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا تصور دیا۔آپؓ نے ناانصافی کرنے والے ججوں کو سزا دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ آپؓ نے دُنیا میں پہلی بار حکمرانوں کا احتساب شروع کیا۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے، جو حکمران عدل کرتے ہیں وہ راتوں کو بے خوف سوتے ہیں۔ آپؓ کا فرمان تھا: ’’قوم کا سردار قوم کا سچا خادم ہوتا ہے‘‘۔ آپؓ کی مہر پر لکھا تھا ’’عمر! نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے‘‘۔
آپؓ کے دستر خوان پر کبھی دو سالن نہیں رکھے گئے، آپؓ زمین پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو جاتے تھے۔سفر کے دوران جہاں نیند آ جاتی کسی درخت پر چادر تان کر سایہ کرتے اور سو جاتے۔ آپؓ کے کُرتے پر14پیوند تھے اور ان پیوندوں میں ایک سرخ چمڑے کا پیوند بھی تھا۔ آپؓ موٹا کھردرا کپڑا پہنتے تھے۔ آپؓ کو نرم اور باریک کپڑے سے نفرت تھی۔ آپؓ کسی کو جب سرکاری عہدے پرفائز کرتے تھے تو اُس کے اثاثوں کا تخمینہ لگوا کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور اگر سرکاری عہدے کے دوران اُس کے اثاثوں میں اضافہ ہو جاتا تو آپؓ اس کا احتساب کرتے تھے۔ آپؓ جب کسی کو گورنر بناتے تو اُسے نصیحت فرماتے تھے، کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑے نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا۔آپؓ فرماتے تھے ظالم کو معاف کر دینا مظلوموں پر ظلم ہے۔آپؓ کا یہ فقرہ آج انسانی حقوق کے چارٹر کی حیثیت رکھتا ہے: ’’مائیں بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے انہیں کب سے غلام بنا لیا‘‘۔ فرمایا مَیں اکثر سوچتا اور حیران ہوتا ہوں ’’عمر بدل کیسے گیا‘‘۔

دُنیا کے تمام مذاہب کی کوئی نہ کوئی خصوصیت ہے، اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت عدل ہے اور حضرت عمر فاروقؓ وہ شخصیت ہیں،جو اس خصوصیت پر پورا اُترتے ہیں۔ آپؓ کے عدل کی وجہ سے عدل دُنیا میں عدلِ فاروقی ہو گیا۔ آپؓ شہادت کے وقت مقروض تھے، چنانچہ آپؓ کی وصیت کے مطابق آپؓ کا واحد مکان بیچ کر آپؓ کا قرض ادا کر دیا گیا اور آپؓ دُنیا کے واحد حکمران تھے جو فرمایا کرتے تھے میرے دور میں اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو اس کی سزا عمر (حضرت عمر فاروقؓ ) کو بھگتنا ہو گی۔
آپؓ کے عدل کی یہ حالت تھی آپؓ کا انتقال ہوا تو آپ کی سلطنت کے دور دراز علاقے کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اور چیخ کر بولا’’لوگو! حضرت عمر فاروقؓ کا انتقال ہو گیا‘‘۔لوگوں نے حیرت سے پوچھا:’’تم مدینہ سے ہزاروں میل دور جنگل میں ہو تمہیں اس سانحے کی اطلاع کس نے دی‘‘۔ چرواہا بولا:’’جب تک حضرت عمر فاروقؓ زندہ تھے، میری بھیڑیں جنگل میں بے خوف پھرتی تھیں اور کوئی درندہ اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتا تھا،لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا بچہ اُٹھا کر لے گیا۔مَیں نے بھیڑیے کی جرأت سے جان لیا کہ آج دُنیا میں حضرت عمر فاروقؓ موجود نہیں ہیں‘‘۔

مَیں دُنیا بھر کے مورخین کو دعوت دیتا ہوں، وہ الیگزینڈر کو حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے رکھ کر دیکھیں اُنہیں فاروق کے حضور پہاڑ کے سامنے کنکر دکھائی دے گا، کیونکہ الیگزینڈر کی بنائی سلطنت اُس کی وفات کے پانچ سال بعد ختم ہو گئی، جبکہ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور میں جس جس خطے میں اسلام کا جھنڈا گاڑا، وہاں سے آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں آتی ہیں۔وہاں آج بھی لوگ اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔
دُنیا میں الیگزینڈر کا نام صرف کتابوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے، جبکہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بنائے نظام دُنیا کے کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ آج بھی جب کسی ڈاک خانے سے کوئی خط نکلتا ہے پولیس کا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، کوئی فوجی جوان چھ ماہ بعد چھٹی پر جاتا ہے یا پھر حکومت کسی بچے، معذور، بیوہ یا بے آسرا شخص کو وظیفہ دیتی ہے تو وہ معاشرہ وہ سوسائٹی سے بے اختیار حضرت عمر فاروقؓ کو عظیم تسلیم کرتی ہے وہ انہیں تاریخ کا سب سے بڑا سکندر مان لیتی ہے، ماسوائے ان مسلمانوں کے جو آج احساس کمتری کے شدید احساس میں کلمہ تک پڑھنے سے پہلے دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔

لاہور کے مسلمانوں نے ایک بار انگریز سرکار کو دھمکی دی تھی ’’اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جائے گا‘‘۔اس پر جواہر لال نہرو نے مسکرا کر کہا تھا ’’افسوس آج چنگیز خان کو دھمکی دینے والے مسلمان یہ بھول گئے، اُن کی تاریخ میں (حضرت عمر فاروقؓ ) بھی تھا۔

جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ ’’اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دُنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا‘‘۔ہم آج بھی یہ بھولے ہوئے ہیں کہ ہم میں ایک حضرت عمر فاروقؓ بھی تھے جن کے بارے میں رسولؐ نے فرمایا تھا ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں