90

حیا، پاکبازی اور انکساری کی علامت:دوپٹا

ٹی وی پر ایک بھارتی فلم کا گانالگا ہواتھا جس کے بول تھے: ’’انہی لوگوں نے لے لیا دوپٹا میرا‘‘۔میرا دوست ہنس کے بولا۔ دے دے اس میں ایسی کون سی بات ہے۔ گھر میں بیس دوپٹے پڑے ہوں گے۔

کوئی دوسرا دوپٹہ اوڑھ لے‘‘۔۔۔میں نے کہا بھائی تم یہ کام آسان سمجھ رہے ہو کہ کوئی عورت کا دوپٹا لے لے اور وہ اسے معمولی بات جانے۔
دوپٹا ہماری ایک ثقافت ہے جس کے مطابق یہ عورت کاایمان ہے ، اس کا عقیدہ ہے۔ یہ علامت ہے اس کے مخصوص نظریات کی اور تم سادگی سے کہہ رہے ہو کہ وہ دوپٹہ دے دے۔

اپنا ایمان اور اپنا عقیدہ چھوڑنا، کسی کے حوالے کر دینا بڑا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ عورت تو دنیا کی حساس ترین ہستی ہے، وہ احتجاج بھی نہ کرے، یہ ممکن ہی نہیں۔ برصغیر میں یہ عورت کے حیا کی علامت ہے۔
اس کے بغیر عورت خود کو برہنہ محسوس کرتی ہے۔گو حالات بدل گئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوپٹا مختصر ہوتے ہوتے اب کئی جگہ ختم نظر آتا ہے، بلکہ بغیر دوپٹے نظر آنا اور پھرنا فیشن بنتا جا رہا ہے، مگر اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں عورتوں کی اکثریت دوپٹے کی دلدادہ ہے اور اس کے بغیر خود کو نا مکمل محسوس کرتی ہے۔

دو پٹا، دو لفظوں سے مل کر بنا ہے، دو اور پٹا۔ پٹا کسی رسی یا رسی جیسی چیز کو کسی بھی دوسری چیز کے گرد لپٹی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔اسی حوالے سے کپڑے کا ایک ٹکرا جو گردن کے دو طرف لپٹا ہوتا ہے دوپٹا کہلاتا ہے۔ قدیم تاریخ پر نظر ڈالیں تو دوپٹے کی ابتدا دریائے سندھ کی تہذیبوں میں نظر آتی ہے۔
اس دور میں یہاں کے حکمران طبقے اور ایلیٹ کلاس کے مرد اپنے کندھوں کے گرد ایک چادر لٹکایا کرتے تھے جو کندھوں کو ڈھانپ لیتی تھی اور ان کی خواتین گردن کے ارد گرد ایک چادر ڈالتی تھیں جو ان کے سینے کو چھپا لیتی تھی۔ مردوں اور عورتوں کی یہ چادریں ، ان میں حیا، پاکبازی، سادگی اور انکساری کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔

دوپٹا اس دور کی عورت کا حجاب تھا، برقع تھا، نقاب تھا جس پر وہ نازاں ہوتی تھی۔ بر صغیر کے ہر لباس، شلوار کرتاہو، پاجامہ قمیض ہو، گھاگھراچولی ہو یا کچھ اور، دوپٹا اس کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔
اسے بعض علاقوں میں چادر، بعض میں چنری، بعض میں شال ، بعض میں چنی اور بہت سے دوسرے ناموں سے پکارا جاتا ہے، مگر بنیادی چیز، نام چاہے کچھ بھی ہو، ایک ہی ہے۔

آج کل جو دوپٹا عوام میں مقبول ہے ۔اس کی لمبائی ڈھائی میٹر اور چوڑائی نوے سنٹی میٹر سے ایک سو بیس سنٹی میٹر تک ہوتی ہے۔عام طور پر اس کے لئے باریک کپڑا استعمال ہوتا ہے۔

ڈیزائین اور رنگوں کے لحاظ سے دوپٹوں کا کوئی شمار ہی نہیں۔ہر علاقے میں دوپٹوں کی دکانوں پر رنگوں کی برسات نظر آتی ہے۔سنسکرت کی پرانی کتابوں میں بہت سی قسموں کی شالوںیا دوپٹوں کا ذکر آتا ہے۔ان کتابوں میں مردانہ چادروں اور دوپٹوں میں دھوتی کو کمر کی چادر یا کمر کادوپٹا کہتے ہیں۔ سر کی پگڑی کوسر کی چادر یا سر کادوپٹہ کہا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر پورے برصغیر کی عورتوں میں یہ حیا اور حجاب کی نشانی ہے مگر آج کے فیشن کے دلدادہ زمانے میںیہ مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے اوڑھا جاتا ہے۔ اس کے درمیانی حصے سے عورتیں اپنے سینے کو ڈھانپتی ہیں اور دونوں پلوؤں کو گردن کے دونوں طرف پیچھے لٹکا دیا جاتا ہے۔

مسلمان عورتیں سینے کے ساتھ ساتھ اس کے ایک پلو کے ساتھ سر بھی ڈھانپتی ہیں،خصوصاً مسجدوں، خانقاہوں ، مذہبی تقاریب اور عبادت کے دوران احترام کے لئے اس کا لینا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔بدلتے فیشن کے ساتھ اس کے استعمال اور اس کو اوڑھنے کے بیسیوں طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔

آج بہت سی عورتیں ،جو مغربی لباس کی دلدادہ ہیں ، جدیداور نت نئے انداز میں دوپٹے کو صرف فیشن کے طور پراپناتی ہیں اور حجاب کے عنصر کو نظر انداز کر تی ہوئی دوپٹے کو کندھے یا بازو پر فقط لٹکانے کی حد تک لباس کا حصہ بناتی ہیں، مگر اس کے باوجود برصغیر میں دوپٹے کی افادیت کم نہیں ہوئی۔

دوپٹے سے جڑے بہت سے اردو محاورے بہت مشہور ہیں۔جیسے دوپٹا اٹھانا، مطلب کسی کو دعا یا بد دعا دینا۔ دوپٹہ باندھنا یعنی کسی مرد کا پگڑی باندھنا۔

دوپٹا بدلنا، یعنی دو عورتوں کا ایک دوسرے کو اپنی بہن بنا لینا۔

دوپٹا تان کے سونا، یعنی بے فکری کی نیند سونا۔

دوپٹا گردن میں ڈالنا یعنی کسی کو پکڑ لینا یا گرفتار کر لینا۔

دوپٹا اس علاقے کی عورت کی زندگی اور لباس کا صدیوں سے ایک ضروری جزو رہا ہے اور رہے گا۔ فیشن جیسے مرضی بدلے اور جتنا چاہے بدلے ۔ دوپٹا کسی نہ کسی انداز میں اس کے لباس کا حصہ رہے گا، کیونکہ ہماری عورت دوپٹے کے بغیر ادھوری ہے اور اسے ادھورا پن کسی طرح بھی قبول نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں