266

نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے نعمان آرائیں، فیصل آباد

23 مارچ انیس سو چالیس کا وہ دن تھا۔ جب برصغیر پاک و ہند کے لاکھوں مسلمان جیالے آزادی کے متواے منٹو پارک کی طرف قافلے کی صورت چلے تھے۔۔ان میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے پنجابی پشتو اور سندھی بولنے والے اور گجراتی بھی شامل تھے اور اس طرح مشرق سے خاص مہمان خصوصی بنگال سے تعلق رکھنے والے بھی تھے۔مسلمانان ہند نظریہ کی بنیاد پر لاہور منٹوپارک میں آن جمع ہوئے تھے اور وہ نظریہ لا الہ الا اللہ کا اک عشق اک جنوں تھابلکہ ایک زندہ زبان واحد زنجیر میں جکڑ ہوا ایمان تھا مسلمانان برصغیر ایک ایسے عقیدے پر ایمان رکھتے تھے۔جوجزودوحرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات تھے۔کیونکہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اور ہند آباد تھے یہ دونوں قومیں اپنی تہذیب و ثقافت رسم ورواج اور رہن سہن کے لحظ سے ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے مسلمان ایک اللہ کو مانتے تھے جبکہ ہندو مختلف خداوں کو مانتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے مسلمان عقیدہ توحید اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے تھے جبکہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے تھے۔اس لیے دونوں قومیں اپنے لیے ایک جداگانہ نظریہ رکھتی تھیں اس لیے ہندو اور مسلمان نہ کبھی ایک قوم تھے نہ کبھی بن سکتے ہیں اس کو دو قومی نظریہ کہتے ہیں 1940ء کی قرارداد چونکہ پہلی قرارداد تھی جس میں مسلمانوں کی منزل کی نشاندہی کی گئی تھی اور جسے تاریخی شہر لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل باڈی کونسل کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں قرارداد شیر بنگال مولوی اے کے افضل الحق نے پیش کی تھی اور اس کی تائید چوہدری خلیق الزماں اور ان ساتھ باقی صوبوں سے آئے قاہدین نے کی۔ لہٰذا ہر سال اس تاریخی قرارداد کی یاد منائی جاتی ہے۔1940ء کی قرارداد کے متن اور لا الہ الا اللہ کی تائید و حمایت میں ہونے والی تقریروں کے ریکارڈ سے مسلم لیگ کے رہنماؤں کے نظریات، تصورات اور خدشات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 1940ء کی قرارداد خبروں کا حصہ بنی تو اس پر پورے بھارت میں تبصرے ہوئے، بیانات جاری ہوئے اور تجزیے و کالم لکھے گئے۔ بھارت کے بڑے بڑے ہندو لیڈروں نے ”قرارداد لاہور“ کو ”قرارداد پاکستان“ کا نام دیا جسے مسلمانوں نے قبول کر لیا۔
یہ سعادت صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کی بنیاد عظیم کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھی گئی۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول ﷺ۔یہی قرارداد بعد میں آگے بڑھ کر قیام پاکستان کا مقصد بنانی جو بالا آ خر 14 اگست 1947 لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں رنگ سے یہ پاکستان عظیم الشان ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا۔جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا تو یہ ایک ملک نہیں تھااور نہ ریاست تھی بلکہ یہ اسلام کی تجربہ گاہ تھی جو ایک نظریے پر بنائی گئی جس کا مطلب اور نظریہ لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔تھا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں سے کا اسی کلمہ طیبہ پر کامل و اکمل یقین تھا لیکن یہ سعادت مسلمانان پاکستان کے حصے میں آئی کہ انہوں نے جہد مسلسل اور عمل پیہم سے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر اک آزاد ریاست قائم کی۔
رب نے ہمیں ملک ریاست اور اسلام کی تجربہ گاہ دی تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے نظریہ کے ساتھ غداری کی اور نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔ کی امانت کا خیال نہیں کیا۔آج جب پاکستان اندرونی و بیرونی دشمنوں نے اسے ہر ممکن طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔تو ہمیں پھر سے نظریہ پاکستان کے دفاع کی ضرورت ہے ہمیں اسلام کا دفاع کرنا ہے۔آج بھی دشمنانِ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے اور پاکستان کے نا اہل حکمران اس کوشش میں ہیں کہ ہم جب بھی اقتدار میں آئیں ملک کو لوٹ لیں، اغیار کے ہاتھوں بیچ دیں لیکن پاکستان کی بنیادوں میں شہدا کا لہو شامل ہے اور پاکستان کے محافظ اپنے ملک کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ نا اہل حکمرانوں نے کشمیر کے مسئلے پر بات کرنا چھوڑ دی اور انڈیا اور امریکہ کی پشت پناہی کرتے ہوئے پاکستان اور ان کے محافظوں کے خلاف خوفناک منصوبے بنا رہے ہیں۔کشمیریوں کے حقوق پر بات کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جارہا ہے۔آو عزم کرو!اٹھ کھڑے ہو جاو! اس تبدیلی میں اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے اسی میں ہماری بقا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں