45

مستونگ کیڈٹ کالج میں طلبا پر تشدد، عدالتی حکم پر معطل کالج پرنسپل گرفتار

مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ کے کیڈٹ کالج میں اساتذہ کی جانب سے طالب علموں پر مبینہ تشدد اور مرغا بنا کر لاٹھی سے پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متعلقہ کالج کے پرنسپل کو گرفتارکرلیاگیا۔

حال ہی میں مستونگ کیڈٹ کالج میں اساتذہ کے طلبہ پر مبینہ تشدد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں اساتذہ کو طالب علموں کو مرغا بنا کر بری طرح تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو 3 دن میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین ایڈیشنل سیکریٹری کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن حیات کاکڑ ہوں گے جبکہ ڈپٹی کمشنر مستونگ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) مستونگ بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

نوٹیفیکشن کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب کالج کے پرنسپل، ذمہ دار اساتذہ اور متاثرہ طلبا کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے واقعے کی مرتکب انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء پر تشدد کا رجحان برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام کیڈٹ کالجز میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔

کالج پرنسپل معطل

دوسری جانب گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نےکیڈٹ کالج مستونگ کے پرنسپل کو معطل کردیا۔

اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ پرنسپل کو کالج میں بدانتظامی پر معطل کیا گیا۔

گورنر نے تشددکے واقعے سے متعلق انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

کالج پرنسپل گرفتار

طلبا پر تشدد کےخلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے تھے کہ معاملے میں سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو لوگ بچوں کو ایسے اداروں میں نہیں دیکھیں گے۔

عدالت نے متعلقہ کالج کےپرنسپل کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس پر پولیس نے پرنسپل جاوید بنگش کو گرفتارکرکے جیل منتقل کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں