60

عقل مند لوگ حادثات سے سیکھتے ہیں

آزادکشمیر کے سیاحتی مقام نیلم میں ایک پل پر سیاح کھڑے تصاویر بنا رہے تھے کہ وہ پل ٹوٹ گیا جس کے نتیجے میں 12 سے زائد سیاح اور تین مقامی بچے نالے میں بہہ گئے ہیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق وادی نیلم کی سیر کے لئے آئے سیاح جاگراں نالے پر بنے خستہ پل پر تصاویر بنا رہے تھے کہ پل وزن برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا۔
اب یہ کتنا بڑا سانحہ ہے، لیکن میں نے کئی اخبارات کی ویب سائٹ پر ایک نظر دیکھا ہے کسی بھی اخبار کی یہ اہم خبر نہیں۔ ہماری پوری قوم کا یہ المیہ ہے کہ ان کی ترجیحات کی ترتیب کبھی درست نہیں رہی ہے۔ سارا میڈیا، پوری حکومت، ساری اپوزیشن اور عدالتیں نان ایشوز کے اوپر ہلکان ہوئے جا رہے ہیں، جبکہ قومی اور عوامی مسائل اپنی جگہ کھڑے ہیں۔

آزادکشمیر کا علاقہ بہترین سیاحتی مقام ہے جہاں پر کروڑوں کی سرمایہ کاری اور اربوں کی آمدن ممکن ہے، لیکن آج تک کسی بھی کشمیری یا پاکستانی حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لئے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے نہ اس علاقے کی دنیا میں تشہیر کی ہے۔
الٹا اس علاقے کو حساس علاقہ قرار دے کر غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ ممنوع بنا رکھا ہے۔ کسی بھی غیر ملکی کو جسے پاکستان کا ویزہ ملا ہوتا ہے آزادکشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے بجز اس کے کہ وہ وزرات داخلہ سے الگ سے این او سی لے، جس کا حصول بہت مشکل ہے۔
ویسے بھی کئی دہائیوں سے غیر ملکی سیاح پاکستان کا رخ ہی نہیں کر رہے ہیں، جس کا بڑا سبب مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے

اس صورتحال میں صرف تارکین وطن پاکستانیوں کو اپنے ملک میں بالخصوص آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات میں سیاحت کی ترغیب دی جا سکتی ہے آج کل یورپ میں بسنے والے پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کرتے ہیں۔ یورپی پاکستانیوں میں سیاحت کا بہت شوق اور رواج ہو گیا ہے۔
اگر ان کو پاکستانی سیاحتی مقامات کے بارے معلومات دی جائیں اور سہولتیں پہنچائی جائیں تو وہ ضرور اپنے آبائی وطن کو پہلی ترجیح دیں گے۔ اسی طرح پاکستان میں بسنے والے خوشحال لوگوں کے لئے آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات کی بہت کشش ہے۔

میرا اپنا تعلق آزادکشمیر سے ہے میں نے آزادکشمیر کے بیشتر علاقوں بشمول تمام شمالی علاقوں کی سیر کی ہے، لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاحوں کے لئے سہولتیں ہیں نہ بہت زیادہ معلومات۔

میرے اندازے کے مطابق آزادکشمیر میں جتنے سیاحت کے مواقع ہیں اس کی آمدن سے آزادکشمیر حکومت کے اخراجات کا بندوبست ہو سکتا ہے تاہم اس کے لئے بہت بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، جس کے لئے قانون سازی بھی ہونی چاہیے اور سیاحت کے محکمے میں تربیت یافتہ اور بہت ذمہ دار لوگوں پر مشتمل عملہ ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے میں بھی سیاحت پر سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں سب سے ضروری کام آئے روز پیش آنے والے حادثات کی روک تھام ہے اور سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

آج ہونے والے سانحے میں جو قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے اور جن ہنستے بستے گھروں میں صف ماتم بچھی ہیں ان کا سوچ کر انسانوں کو نیند نہیں آ سکتی۔

سیر و تفریح پر لوگ خوشی خوشی جاتے ہیں۔ اور جب وہ خوشی غمی میں بدل جائے تو ان خاندانوں پر کیا گزرتی ہے۔ اس کا اندازہ بخوبی لگایا سکتا ہے۔

جاگراں کا علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سیاحت کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبے زیر تکمیل ہیں اس علاقے میں یہ پل جو لوہے کے رسوں کا بنا ہوا تھا، جس نے بھی بنوایا تھا کیا اس کو پوچھنا نہیں چاہیے؟ اور اگر پل کی استعداد سے زیادہ لوگ اس پر چڑھے تھے تو یہ کس کی غلطی تھی۔ کیا ایسے مقامات پر کوئی ذمہ دار اہل کار نہیں ہونا چاہیے؟

میں نے آزادکشمیر کے کئی سیاحتی مقامات پر خود مشاہدہ کیا ہے جہاں لوگوں کی ڈیوٹیاں لگی ہیں، لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ گند کے ڈھیر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹائلٹ اور پانی تک نہیں ہے۔

میں اس کالم کی وساطت سے تمام حکام بالا اور با اختیار اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس انتہائی اہمیت کے حامل مسئلے پر توجہ دیں اور سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ حادثات کی روک تھام کے لئے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔

جب تک ہر بندہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرے گا۔ ہم بطور قوم ترقی نہیں کر سکتے اور مختلف حادثات سے محفوظ نہیں ہو سکتے۔

آج کی دنیا کی آمدن میں سیاحت ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کئی مسلم ممالک بھی سیاحت کی صنعت سے بہت زیادہ مستفید ہو رہے ہیں، لیکن ہم پاکستانی جہاں دوسرے معاملات میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں اس سے بھی زیادہ سیاحت کے شعبے میں ہماری کارکردگی بھی دنیا کے بیشتر ممالک سے بہت بری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں