46

ایجنڈا یا اچھی حکمرانی کا وعدہ!

عمران خان نے 29 اپریل کو لاہور میں مینار پاکستان پر ایک زور دار جلسہ کیا۔ میں اس دوران سفرمیں تھا اس لئے میں جلسہ تو پوری طرح نہیں دیکھ سکا ٹیلی ویژن پر اُس کی جھلکیاں دیکھنے کا موقع ملا۔ جلسے کے سائز پر بحث بیکار ہے اب ساری بڑی پارٹیاں بھرپور جلسے کر رہی ہیں، کون کتنا مقبول ہے اس کا حتمی فیصلہ تو انتخابات کے ذریعے ہی ہو گا۔ انتخابی عمل بہت پیچیدہ ہوتا ہے، بے شمار فیکٹر اس پر اثرانداز ہوتے ہیں، ہمارا ووٹر بھی اب پہلے کی طرح سادہ نہیں رہا اوپر نیچے چند انتخابات سے وہ کافی کچھ سمجھ چکا ہے۔

اب بدقسمتی سے نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی بڑا جذباتی ایشو سامنے ہے لہٰذا ووٹر ایک لحاظ سے آزاد ہے اور وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ بااثر لوگ تو ہرحال میں اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔
اب اقتدار سے کسی کو نکالنے اور کسی کو لانے کیلئے انتخابات کے علاوہ جو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں اب عام آدمی اس ’’ٹیکنالوجی‘‘ سے بخوبی آگاہ ہو گیا ہے لہٰذا اُسے فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

بات ہو رہی تھی عمران خان کے جلسے کی، سنا ہے کہ انہوں نے اس دفعہ توازن اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے جو ایک قومی لیڈر کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ بہت اچھا کیا کہ انہوں نے قابل اعتراض زبان استعمال نہیں کی۔
اس جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں عمران خان نے پہلی دفعہ اپنا ایجنڈا پیش کیا ہے۔میں نے انہی کالموں میں پچھلے سال 18 دسمبر کو عمران خان سے مطالبہ کیا تھا کہ انہوں نے اب تک کرپشن کے خلاف مہم چلائی ہے اس مہم کے مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے بہرحال کسی ایک ایشو یا ایک خاندان کے خلاف مہم چلانا کافی نہیں بلکہ انہیں اپنا مثبت ایجنڈا پیش کرنا چاہئے۔

اچھا کیا وہ انہوں نے کر دیا لیکن یہ ایجنڈا دیکھ کر مجھے کچھ مایوسی سی ہوئی ہے کیونکہ یہ ایک روایتی پارٹی کا ایجنڈا نظر آتا ہے۔ اس میں انقلابی اور عقابی روح مفقود ہے حالانکہ یہ ضروری ہے کیونکہ عمران خان نے ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اور پارٹی کو میدان میں پہلے سے موجود روایتی پارٹیوں سے ممتاز کرنا ہے۔
اُن کا یہ ایجنڈا تو مجموعی طور پر گڈگورننس کا ایک وعدہ ہے۔ گڈ گورننس تو مسلم لیگ (ن) کا بھی ایجنڈا تھا اور اُن کا دعویٰ بھی تھا کہ اُن کے پاس بہتر ٹیم ہے اور زیادہ تجریہ ہے لہٰذا وہ اس شعبے میں ڈلیور کر سکتے ہیں۔

افسوس کہ وہ اِس محاذ پر بُری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اب عمران خان کی کامیابی کی کیا ضمانت ہے جبکہ اُن کے پاس نہ تو ایڈمنسٹریشن کا تجربہ ہے اور نہ شاید مسلم لیگ(ن) سے بہتر ٹیم ہے۔
سنتے ہیں کہ عمران خان اقتدار میں آ کر باہر سے قابل اور دیانتدار لوگ محکموں پر لا بٹھائیں گے جو انقلاب لے آئیں گے لیکن باہر سے آنے والے ٹیکنوکریٹوں کا تجربہ تو کئی دفعہ ہو چکا ہے اور اس سے قوم کا تو کوئی بھلا نہیں ہو سکا البتہ اُن کا شوق پورا ہو گیا۔

شوکت عزیز کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے ملک کی ایسی خدمت کی کہ اُس کے بعد پاکستان آنے سے توبہ کی۔ دراصل پاکستان جیسے ملک میں حکمرانی کرنا اور قوم کا بھلا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ بیشک نیت نیک ہو، وقت کے ساتھ ہمارے مسائل بہت گھمبیر صورت اختیار کر چکے ہیں، آبادی بہت بڑھ چکی ہے اور ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کی انتہا کو چھو رہا ہے۔

اِن حالات میں کچھ ڈلیور کرنا کافی مشکل ہے۔

عمران خان کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے ایجنڈے میں کچھ انقلابی منصوبے بھی شامل کرتے، جن میں یہ ثابت ہو کہ وہ سٹیٹس کو کو توڑ دیں گے مثلاً وہ وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا وعدہ کرتے۔ وی آئی پی کلچر سے نفرت کا اظہار تو اکثر و بیشتر کیا جاتا ہے لیکن برسراقتدار طبقہ تو اس پر مکمل خاموش ہے۔ عمران خان سے لوگ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان باتوں سے بلند ہو سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ لاہور کا گورنر ہاؤس گرا دیں گے صرف یہ گورنر ہاؤس ہی غلامی کے دور کی یادگار نہیں بلکہ کئی اضلاع میں سرکاری افسران کی رہائش گاہیں 20,20 کنال پر محیط ہیں عمران خان اِس پر خاموش ہیں۔

سرکاری افسروں کو چار چار پانچ پانچ رہائشی پلاٹ دیئے جا رہے ہیں کیا اِس کا کوئی جواز ہے؟ سیکرٹریوں اور خودمختار ، نیم خودمختار محکموں کے سربراہوں کے پاس ساٹھ ساٹھ لاکھ کی بچارو گاڑیاں ہیں اِس پر عمران خان کا خاموش رہنا سمجھ میں نہیں آتا۔

عمران خان کو قوم کو بتانا چاہئے کہ اُن کے دور میں گورنر اور چیف منسٹر کی کیا پوزیشن ہو گی کیا اُس کی کابینہ موجودہ حکومت کی طرح پچاس ساٹھ وزراء پر مشتمل ہو گی یا اِس سے کس قدر مختلف ہو گی۔

کیا عمران خان کا وزیر خارجہ ،خارجہ پالیسیاں بنانے میں خودمختار ہو گا یا اُسے بھی ڈکٹیشن لینا ہو گی؟ وزیراعظم بن کر عمران خان پارلیمنٹ کو کتنی اہمیت دیں گے۔ ابھی تو پارلیمنٹ میں اُن کی حاضری کا ٹریک ریکارڈ نوازشریف سے بہتر نہیں، پھر وہ اپنی ڈریم ٹیم کے بارے میں بھی قوم کو کچھ آئیڈیا دیں۔

ملک کو بڑے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ معیشت کمزور ہے اور قرضوں پر چل رہی ہے، صوبوں کے درمیان کشمکش ہر وقت جاری ہے۔ سیاسی انتشار سے سیاسی نظام اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہے۔

آج تک کسی وزیراعظم نے اپنی ٹرم پوری نہیں کی۔ اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں۔ ان مسائل پر پی ٹی آئی کا بیانیہ کیا ہے اور اِن مسائل سے وہ کس طرح نمٹیں گے جبکہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان تلخی عروج پر ہے۔

ان حالات میں سیاسی استحکام کس طرح پیدا ہو گا۔ پی آئی اے، سٹیل مل اور ریلوے جیسے ادارے تباہ حال ہیں، انہیں منافع بخش بنانے کے لئے اُن کے پاس کیا حل ہے۔

سرائیکی صوبہ بنانے کا انہوں نے وعدہ کر لیا ہے اِس کے لئے کیا وہ سارے ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کا ٹارگٹ حاصل کر لیں گے پھر ایک صوبہ بنے گا تو دوسرے صوبوں سے بھی نئے صوبے کی آوازیں اُٹھیں گی انہیں کس طرح مطمئن کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں