16

اگر میڈیا ٹرین کو ٹریک تبدیل کرنا پڑے

ایک عرصے سے میں لکھ رہا ہوں کہ کالم نگاری کا مقصود عوام کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے۔ لیکن اگر کوئی معاشرہ 70 برس تک وعظ و تلقین سننے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا تو قصور کس کا ہے؟۔۔۔ کالم نگاروں کا یا اس ادارے کا جو کالم نگاری کا اہتمام کرتا ہے؟۔۔۔ میری مراد میڈیا ٹائی کونوں سے ہے۔

پاکستان کا میڈیا ہو یا کسی اور ملک کا وہ کبھی بھی 100 فیصد غیر جانبدار نہیں ہو سکتا۔ آج کی صحافت کوئی مشن نہیں، کاروبار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جب میر شکیل الرحمن نے یہ کہا تھا کہ وہ میڈیا کو ایک بزنس سمجھتے ہیں تو اس میں غلط کیا تھا؟ میڈیا خواہ الیکٹرانک ہو یا پرنٹ، ایک کاروبار ہی تو ہے۔
ہرکاروبار میں دو فریق ہوتے ہیں، ایک اس پراڈکٹ میں سرمایہ کاری کرتا ہے اور دوسرا اس کو خریدتا ہے جسے ہم قاری یا ناظر یا سامع کہتے ہیں۔ میں اگر صرف پرنٹ میڈیا تک محدود ہو کر بات کروں تو اس میں سرمایہ کار نے جو سرمایہ کاری کی ہوتی ہے کیا اس نے اپنا نفع نقصان نہیں دیکھنا ہوتا؟ سرمایہ کار کو یہ الزام دینا کہ وہ کسی ایک سیاسی پارٹی یا ایک سیاستدان کا آلۂ کار یا مربی بن گیا ہے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔
آپ اگر میڈیا ٹائی کون بننا چاہتے ہیں یعنی میڈیا میں اگر حصولِ زر کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں تو آپ کو غیر جانبدار ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کہ میڈیا نام ہے ملکی سیاست کی آئینہ نمائی اور عکس بندی کا۔۔۔ اس آئینے میں میڈیا کو سب کچھ دکھانا پڑتا ہے۔

اگر بالفرض آپ معاشرے کا صرف ایک پہلو ہی اجاگر کر کے ناظرین کو دکھانا شروع کر دیں گے تو کتنی دیر تک ایسا کر سکیں گے؟ اور اگر دونوں پہلوؤں کی عکاسی کرنا شروع کر دیں گے تو سرمایہ کاری کے ایک بنیادی اصول کی نفی کریں گے۔
بنیادی اصول تو یہی ہے ناں کہ آپ کا سرمایہ نہ صرف پھلے پھولے بلکہ اس کا اصل زر بھی محفوظ رہے۔ فرض کریں آپ نے ایک ارب روپے کے اصل زر (Seed money) سے کوئی پرنٹ میڈیا ہاؤس کھولا ہے تو اس بیج (Seed) کے نشوونما پانے کی امید ہی پر کھولا ہے ناں؟ اگر وہ بیج زمین سے باہر ہی نہ آئے اور وہیں زیر زمین گل سڑ جائے تو آپ کی سیڈ منی تو ضائع ہو گئی!
چنانچہ میڈیا بزنس مین کا سب سے پہلا مقصد اپنے سرمائے کو تحفظ دینا ہے۔ جس طرح مختلف کاروباروں کی ترویج و ترقی کے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں اسی طرح میڈیا بزنس کے بھی قواعد و ضوابط ہیں۔ ان کو بروئے عمل لانے میں اگر آپ نے غیر جانبداری کا پل صراط تعمیر کرنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔۔۔

میڈیا بزنس کے فروغ کے لئے اگر آپ نے عوام کو صرف انفارم اور ایجوکیٹ کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے تو آپ کی Seed Money آہستہ آہستہ سوکھ جائے گی۔ اس کو ہرا رکھنے اور اس کی نشوونما کے لئے آپ کو جانبداری کی گولی نگلنی پڑے گی۔

جو دانش ور یہ دلیل لاتے ہیں کہ میڈیا کا مشن محض قارئین کو ایک غیر جانبدار منظر نامے سے آگاہی دینا ہے تو اس مشن کے واعظ کی روٹی روزی کا فکر بھی تو کسی کو کرنا ہوگا۔۔۔ یہی وہ فکر بھی ہے جو افراط و تفریط کا شکار ہو جاتی ہے۔

کوئی اخبار اگر کسی ایک سیاستدان کی حمایت کا سٹرٹیجک فیصلہ کرتا ہے تو اس کو دوسرے مخالف سیاستدانوں کا نقطۂ نظر بھی برسر عام لانا پڑتا ہے۔یہ اس کی پروفیشنل مجبوری ہے لیکن یہی وہ پل صراط ہے جس پر چلنا مشکل ہی نہیں بلکہ مشکل ترین مرحلہ ہے۔

جب بھی کسی معاشرے میں کوئی حکومت برسرِاقتدار آتی ہے تو میڈیا کی حمایت اس کی ایک مجبوری بن جاتی ہے۔ حکومت، عوام کے ووٹوں سے بنتی ہے اور عوام کو حکومت کی کارکردگی کا سیاہ یا سفید دکھانے کے لئے جس آئینے کی ضرورت ہوتی ہے اس کا نام میڈیا ہے۔ چنانچہ میڈیا، اربابِ اقتدار کا محتاج نہیں بلکہ اربابِ اختیار میڈیا کے محتاج ہوتے ہیں۔

میڈیا کا سرمایہ کار سب سے پہلے یہ معلوم کرتا ہے کہ برسرِ اقتدار حکومت کے میڈیا (تشہیر) کا بجٹ کتنا ہے۔ اگر آپ بجٹ سازی کی SOPsسے کچھ واقف ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ حکومت نے میڈیا کے لئے خفیہ بجٹ (Secret Fund) بھی رکھا ہوتا ہے اور آشکارا بجٹ بھی۔۔۔ میڈیا کے سرمایہ کار کی نظر اسی بجٹ پر ہوتی ہے۔

اس بجٹ کو خرچ کیسے کرنا ہے، اس میں حکومت کے وزیروں اور مشیروں کے طریقہ ہائے کار کیا ہیں، حکمران پارٹی کا امیج اوپر اٹھانے میں سمعی و بصری معاونات (Audio Visual Aids) کو کیسے استعمال کرنا ہے، عوام کو کیا دکھانا اور ان سے کیا چھپانا ہے، کون سے صحافی اچھے لکھاری اور اچھے پیش کار ہیں، ان کا انتخاب کیسے کرنا ہے، ان کو ہائر کرنے کے اسرار و رموز کیا ہیں، وہ تشہیری تراکیب کون کون سی ہیں جن کو بروئے کار لا کر حکمران جماعت کی بقا اور اس کے تسلسل کا اہتمام کرنا ہے اور کون کون سے میڈیائی اداروں کو کون کون سے حربوں سے زیرِ دام لانا ہے۔۔۔ یہ تمام امور بہت نازک بھی ہیں اور ضروری بھی۔۔۔ان کو نمٹانے اور بھگتانے کے لئے ملک کے بہترین دانشوروں کی آراء اور ان کے مشوروں سے مستفید ہونے کا چیلنج بھی آسان نہیں۔

اس حکومتی شو میں حزبِ اختلاف کا شو اور اس کے کاؤنٹرز کیا ہوتے ہیں یہ بھی ایک مشکل پہلو ہے۔ کسی نئے میڈیا ہاؤس کو عوام میں مقبول بنانا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے کئی بار صداقت کی بجائے منافقت سے کام لینا بھی عینِ اخلاق سمجھا جاتا ہے۔

جس طرح جھوٹ، مکر و فریب اور دھوکہ دہی کے ہتھیاروں سے دشمن کو زیر کرنا، کاروبارِ جنگ کے غالب اصولوں میں شامل ہے، اسی طرح صحافیانہ جنگ میں بھی جھوٹ اور سچ کی تشہیر ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر کوئی میڈیا ٹائی کون مسجد یا مدرسے کا پڑھا ہوا ہے اور امانت و دیانت، کذب و صداقت اور کفر و اسلام کا وہی فرسودہ عقیدہ رکھتا ہے جو اسے مسجد یا مدرسے کے مولوی / مدرس نے پڑھایا یا سکھایا تھا تو اسے صحافت کا پروفیشن اختیار نہیں کرنا چاہئے۔

اس کھیت میں کانٹے بھی ہیں اور پھول بھی۔ کئی قطعات اراضی (Patches)بنجر اور سیم و تھور زدہ ہوتے ہیں تو کئی سرسبز و شاداب بھی ہیں۔ ایک کامیاب کاشتکار کو ان دونوں قطعات سے پالا پڑتا ہے۔ اس کا کام بنجر اور سیم زدہ زمین کو آہستہ آہستہ قابلِ کاشت بنانا اور سارے کھیت کو ایک جیسا کرنا ہوتا ہے۔

دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں مشرق و مغرب کے مقلد اور سیاہ و سفید کے پیرو کار اپنی اپنی باریاں لیتے ہیں۔ عوام کا سیلاب تو وہی رہتا ہے لیکن اس سیلاب کے بہاؤ کے رخ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

امریکہ میں اگر آج ری پبلکن برسر اقتدار ہیں تو کل ڈیمو کریٹوں کی باری آئے گی، برطانیہ میں اگر کنزرویٹو پارٹی کی حکومت ہے تو کل لیبر یا لبرل کی باری آ جائے گی، کسی کو ان باریوں پر اعتراض نہیں ہوتا یہ عین سیاسی حکمت ہے۔

انڈیا میں اگر آج بی جے پی جنتا شکتی کے سنگھاسن پر بیٹھی ہے تو کل کانگریس کی باری آ جائے گی۔ یہی چلن پاکستانی سیاسیات کا بھی ہے۔ اس لئے پاکستانی میڈیا کے آدرش کو بھی باری باری تبدیل ہونا پڑتا ہے۔

یہ تبدیلی ایکدم نہیں آتی کہ اگر ایسا ہو جائے تو قارئین کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس جھٹکے (Jolting)کو ایک تدریجی عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس کو برداشت کرنے کے لئے میڈیا کی گاڑی کے شاک مضبوط ہونے چاہئے اور ساتھ ہی ڈرائیور کا ڈرائیونگ کے فن میں طاق ہونا بھی شرط ہے۔

میڈیا ٹائی کونوں کے سمعی اور بصری انٹینا بہت اونچے اور حساس ہوتے ہیں۔ عوام سے بہت پہلے ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کیا ہواؤں کا رخ تبدیل ہونے جا رہا ہے یا وہ پہلے والے رخ پر ہی چلتی رہیں گی۔ ان کے کاروبار سے چونکہ سینکڑوں لوگ منسلک ہوتے ہیں اس لئے ان کی دیکھ بھال بھی ان کے لئے ایک اور قسم کا چیلنج ہے۔

پرنٹ میڈیا میں خبروں کے صفحات کے بعد جو صفحے، عوام کو انفارم اور ایجوکیٹ کرتے ہیں، ان کو ادارتی صفحات کہا جاتا ہے۔ یہ صفحات بھی ملک میں سیاسی ہواؤں کا رخ متعین کرنے میں ایک رول ادا کرتے ہیں۔

اپنے میڈیا بزنس کو فروغ دینے کے لئے میڈیا ٹائی کونوں کو (جن کو آسان زبان میں میڈیا مالکان بھی کہا جاتا ہے) ہر پانچ برس بعد اس امتحان سے گزرنا پڑتا ہے اور فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا وہ گزشتہ ٹریک پر ہی چل کر اپنے بزنس کو فروغ دے سکتے ہیں یا ٹریک تبدیل کرنا پڑے گا۔

ٹریک کی یہ تبدیلی ان کے لئے نئی نہیں ہوتی۔ صبح کے بعد شام اور پھر صبح اور پھر شام اور اسی طرح موسم بہار کے بعد موسم خزاں اور پھر موسم بہار کی آمد ایک معمول ہے۔

لیکن جب میڈیا کی گاڑی ایک ٹریک سے دوسری پٹڑی پر چڑھتی ہے تو چھکا چھک کا ایک زور دار شور شرابا پیدا ہوتا ہے جس کے لئے ہر میڈیا ادارے کو تیار رہنا چاہئے۔۔۔۔ یہ شور شرابہ مجھے نوشتۂ دیوار نظر آتا ہے:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں