53

نیا تو کچھ نہیں، سب پراناہی ہے

گزشتہ دو روز کے دوران دو مختلف درآمدی تصاویر نظر سے گزریں، یہ ایک ہی شخصیت سے متعلق ہیں، ایک تو برادرم بدرمنیر چودھری کی ہے جو منہاج القرآن سوسائٹی کے چیئرمین اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے انٹرویو کررہے ہیں، دوسری تصویر جو اگلے روز شائع ہوئی وہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ہے، جنہوں نے علامہ طاہر القادری سے ملاقات کی یہ دونوں تصاویر ٹورنٹو(کینیڈا) سے درآمد ہوئی ہیں، دوسری تصویر تو معمول کی ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان(ایم، بی، بی، ایس) نے ڈاکٹر (پی، ایچ، ڈی) طاہر القادری کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، تاہم بدر منیر چودھری تو جرنلسٹ ہے اور اس نے جو انٹرویو لیا اس کے مطابق قبلہ طاہر القادری نے اپنے عقیدت مندوں کو خوشخبری سنائی کہ ان کے تمام طبی ٹیسٹ مکمل ہوگئے اور وہ (ماشاء اللہ) روبصحت ہیں، فٹ ہیں، مختلف سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی پاکستان جارہے ہیں، جہاں جاکر اپنا ادھورا سیاسی کام پھر سے مکمل کریں گے اور وسیع تر سیاسی اتحاد کی کوشش کریں گے۔

خوشی ہوئی کہ قبلہ صحت مند ہوگئے اور جلد ہی پاکستان کی سیاست میں مداخلت یا دخل دیں گے اور یہاں پہلے سے پائے جانے والے مسائل میں مزید اضافہ کریں گے ویسے وہ پھر سے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف لینے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کا نشانہ سابق وزیراعظم کے بعد ان کے چھوٹے بھائی وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف ہیں، جہاں تک رانا ثناء اللہ کا تعلق ہے تو محترم ڈاکٹر صاحب کے مطابق وہ گیہوں کے ساتھ گھن ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کی اطلاع سے پاکستان عوامی تحریک والوں اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو بہت خوشی ہو رہی ہے اور وہ تو لڈیاں ڈالنے کی فکر کر رہے ہیں کہ ادھر ان کے حلیف اور دوست عمران خان کی جماعت میں دھڑا دھڑ شمولیت ہورہی ہے اور الیکٹ ایبل ان کی جماعت کا رخ کررہے ہیں، اب عمران خان یہ کہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی ٹکٹ ’’میرٹ‘‘ پردیئے جائیں گے، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو جنوبی پنجاب والے اور اب گوجرانوالہ کے منتخب حضرات رنگ برنگا ’’پٹکا‘‘ گلے میں ڈلوا رہے ہیں یہ گنڈیریاں چوسنے تو نہیں آرہے، بات رہ گئی کہ ہمارے بھائی لاہوریئے نصرت جاوید کو تو فکر کرنا چاہئے جو کینیڈا والے محترم کے منتظر تھے کہ وہ آہی رہے ہیں اور بقول ان کے لال حویلی کے بقراط پہلے سے یہاں ہیں، پہلے بھی گزری تھی اور اب پھر یہ دو ملیں گے تو خوب ہی گزرے گی۔
جہاں تک پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کا تعلق ہے تو ہمارے لئے ان کی آمد قطعی غیر متوقع نہیں کہ وہ جب تک چاہیں اپنے نئے وطن (کینیڈا) رہیں اور یورپ کے ممالک میں گھومتے پھرتے تبلیغ کرتے رہیں ان کو رمضان کے آخری عشرے اور ربیع الاول میں تو یہاں موجود ہونا ہی ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں ’’شہراعتکاف‘‘ بستا ہے تو 12۔ ربیع الاول یعنی (12-11 کی شب) کو انٹرنیشنل میلاد کانفرنس ہونا ہوتی ہے، جو ان کے بغیر ممکن نہیں، ماسوا ایک آدھ بار کسی مجبوری کے وہ ہر بار ان تقاریب میں خود موجود ہوتے ہیں، جب وہ نہ آسکے تو ان کی تقریر ویڈیو کے ذریعے براہ راست سنائی گئی تھی۔

حال ہی میں یکایک جو واقعات پیش آئے اور جو ’’تبدیلی‘‘ نظرآئی، وہ بھی بڑی چونکا دینے والی ہے کہ کپتان صاحب کی کشتی میں سوار ہونے والے مسلم لیگ (ن) کی کشتی سے کود کود کر آرہے ہیں اور پرانے انصافیوں کو خدشہ ہے کہ یہ بوجھ اب زیادہ ہوتا جارہا ہے اور خان صاحب کی کشتی کے لئے ٹھیک نہیں۔
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے تشریف لائے تو قریباً سبھی اپنے اپنے حلقے سے منتخب اراکین ہیں اور اب بھی جوشامل ہوئے وہ بھی منتخب رکن ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ حضرات ٹکٹ کے وعدے کے بغیر ہی آئے ہیں؟ ایسا ممکن نہیں کہ ان حضرات کا اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں اپنا ووٹ بنک بھی ہے وہ تو چڑھتے سورج کی جانب رخ اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو اضافی سیاسی جماعت مل جائے اور یہ تحریک انصاف ہی کی طرف سے ممکن ہے، اگرچہ اس صورت حال میں کپتان کو ٹکٹوں کے حوالے سے بہت کچھ سوچنا ہو گا کہ ان حضرات کو انکار نہیں کیا جاسکتا اور ایسا ہوا تو قربانیاں دینے والے انصافیوں سے بے انصافی ہوگی اور وہ تو ہونا ہی چاہئے، کپتان اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ’’میرٹ‘‘ کے مطابق ہی سب کچھ ہوگا۔یہ ہوا، یہ فضا واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ بات نئی نہیں، دور نیا نہیں، سب کچھ پرانا ہے کہ سیاست پرانی ہے اجارہ دار اور وراثتی گھرانے موقع دیکھ کر ہی کسی طرف کا رخ کررہے ہیں، تحریک انصاف پھل پھول رہی ہے تو اِدھر اُدھر سے کچھ حضرات آصف علی زرداری کی یقین دہانی پر ان کے ساتھ بھی جارہے ہیں، یوں دیکھا جائے تو اصول کہیں پیچھے رہ گئے اور روائتی سیاست نے اپنا شکنجہ زیادہ احسن طریقے سے کسنا شروع کردیا ہے، نئی اسمبلی ضرور ہوگی چند چہروں کے سوا باقی سب پرانے یا ان کے سجادہ نشین ہوں گے اور ہم عوام منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

اس وقت ہمارے اردگرد اور عالمی سطح پر جو حالات ہیں ان کی وجہ سے ہمارے ملک کے لئے مسائل ہی مسائل جمع ہوگئے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اپنی کئے جارہاہے، ایک طرف شمالی کوریا کو دباؤ میں لایا جارہا ہے، دوسری طرف ایران کے لئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں اور پاکستان کے خلاف بتدریج اقدامات کرکے گھیرا تنگ کرنے کی کوش کی جارہی ہے، سفارت کاروں کی نقل و حرکت کو محدود اور پابند کرنا کیا ’’دوستی‘‘ کی نشانی ہے؟ یقیناً امریکی (ٹرمپی) عزائم خالی از علت نہیں ہیں امریکہ کے مطابق شمالی ویت نام، ایران اور پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے دستبردار ہونا ہوگا۔
دوسری صورت میں یہ عالمی تھانیدار کچھ بھی کرسکتا ہے، ایسے میں ہم ’’مقابلہ، مقابلہ‘‘۔۔۔ ’’الیکشن، الیکشن‘‘ کھیل رہے ہیں، مل بیٹھ کر غور نہیں کرتے ہیں، قومی سلامتی کمیٹی موجود تو ہے لیکن اصل تجویز کے مطابق نہیں، ضرورت ہے کہ مذاکرات کے بعد جو فیصلہ ہوا کہ سلامتی کمیٹی وزیراعظم کی قیادت میں داخلی اور خارجی وزرا، مسلح افواج کے سربراہان، قائد حزب اختلاف اور صوبائی وزراء اعلیٰ ہوں گے، اس پر صحیح معنوں میں عمل ہونا چاہئے اس میں مزید اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے، لہٰذا اگر کل جماعتی بیٹھک نہیں ہوسکتی تو سلامتی (سیکیورٹی) کونسل تشکیل دے کر ہی قومی امور پر غور کرلیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں