66

ٹرمپ کا ایک اور احمقانہ فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے ایک اور احمقانہ فیصلہ کیا اور ایران کے ساتھ 2015ء میں کئے گئے جوہری معاہدے سے دستبر دار ہو نے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف نہ صرف 2015ء سے پہلے کی تما م پا بندیاں بحال ہو جائیں گی،بلکہ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق ایران کے خلاف نئی پا بندیاں بھی لگائی جا ئیں گی۔

ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کو ختم کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی،روس اور چین کی اپیلوں کو بھی مسترد کر دیا ۔ یہ ممالک اس ڈیل کے خاتمے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے اور اس کے خلاف پابندیوں کو بحال کرنے کی دُنیا بھر میں اِس لئے مذمت کی جا رہی ہے، کیونکہ ایٹمی تونائی کی بین اقوامی ایجنسی، یعنی آئی اے ای اے، ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے والے تمام مغربی ممالک، حتیٰ کہ امریکی سیکرٹری آف ڈیفنس جیمس میٹس سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیدار بھی یہ موقف اختیار کئے ہو ئے تھے کہ ایران ، جوہری معا ہد ے پر پو ری طر ح سے عمل در آمد کر رہا ہے۔

جس وقت امریکہ نے با رک اوباما کے تحت 2015ء میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا اُس وقت بھی امریکہ کے سامراجی کردار کو سمجھنے والے تجزیہ نگاروں نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے لئے کا غذ کے ٹکڑوں پر کئے گئے عالمی معا ہدوں کی اہمیت نہیں ہوتی۔ زیادہ دور جا نے کی ضرورت نہیں، 2003ء میں لیبیا کے معمر قدافی کے ساتھ بھی اس نوعیت کا معاہدہ کیا گیا تھا،جس کے تحت لیبیا نے ایٹمی پرو گرام سمیت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو تلف کر دیا، مگر اس معاہدے کے آٹھ سال کے بعد ہی نیٹو کے ذریعے قذافی کی حکومت پر حملہ کر دیا گیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کو دُنیا میں دہشت پھیلانے والی سب سے بڑی ریاست قرار دیا۔
شائد ٹرمپ کا خیال ہو کہ دنیا کو یاد نہیں ہو گا کہ امریکہ نے گز شتہ 15سال کے عرصے میں ایسی جنگیں چھیڑ ی ہیں جن کے باعث آج افغانستان، لیبیا، عراق، شام اور یمن جیسے مُلک آگ میں جھلس رہے ہیں۔

اگر اس وقت کی تازہ صورتِ حال کو دیکھا جا ئے تو القاعدہ اور داعش کے حامی گروپوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند اسلامی تنظیمیں، جن ممالک میں اپنی کارروائیاں کر رہی ہیں، ان میں نائیجیریا، مالی، صومالیہ، لیبیا، مصر، شام ، عراق، یمن، افغانستان اور فلپائن جیسے ملک شامل ہیں ۔
امریکہ ، مصر کے علاوہ ان دوسرے تمام ممالک میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فوجی کار روائیاں کر رہاہے، جبکہ ان گیا رہ ممالک میں سے ایران صرف تین ممالک یمن، عراق اور شام میں ہی بالو واسطہ یا بلا واسطہ طور پر کا رروائیاں کر رہا ہے،جبکہ ان تین ممالک میں بھی صرف یمن ہی ایسا مُلک ہے ، جہاں پر ایران ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

ان حقائق سے ثابت ہو تا ہے کہ دُنیا میں دہشت گردی اور جنگوں کا سبب بننے والا مُلک امریکہ ہے یا ایران؟۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف پا بندیوں کے لئے جہاں اور بہت سے دلچسپ جواز تلاش کئے، وہیں پر ٹرمپ نے اپنے موقف کو سہارا دینے کے لئے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے اس لیکچر کا بھی حوالہ دیا جو نیتن یاہو نے 30اپریل کو اسرائیلی میڈیا کو دیا تھا، اس لیکچر میں نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے جاسوسی کے ذ ریعے ایسی ڈاکو منٹس اور دستاویزات حاصل کر لی ہیں جن سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ایران ابھی بھی ایٹم بم بنا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتن یاہو نے یہ لیکچر اسرائیل میں ہو نے کے باوجود انگریزی زبان میں دیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا مخاطب امریکہ ہی تھا۔ جہاں ایک طرف پوری دُنیا اسرائیلی وزیراعظم کے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے رہی ہے تو ایسے میں ٹرمپ ہی ایسا شخص ہے جو ان ا لزامات کو سو فیصد درست قرار دے رہا ہے۔

اپنے اس خطاب کے دوران ٹرمپ نے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی بھر پور تعریف کیا۔ امریکی حکمران ،رضا شاہ پہلوی کے دورکو اِس لئے یاد کرتے ہیں،کیونکہ رضا شاہ پہلوی کے تحت ایران، اس خطے میں امریکہ کے پولیس مین کا کردار ادا کرتا تھا۔ 1979ء میں انقلاب بر پا ہوا اور اس کے نتیجے میں جو قیادت اقتدار میں آئی، وہ کسی بھی صورت میں امریکی ڈکٹیشن لینے کے لئے تیار نہیں تھی۔1979ء میں برپا ہونے والے ایرانی انقلاب کو اب39سال کا عرصہ ہو نے جا رہا ہے۔ اس عرصے کے دوران امریکہ نے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں و جود میں آنے والے سیا سی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے؟1980ء کی دہائی میں ایران کے خلاف عراق کی جنگ کو بھرپور مالی و عسکری امداد دینے ،عشروں پر محیط معا شی ناکہ بندی،ایران کو متعد دمرتبہ جنگ کی دھمکیا ں دینے ، امریکی این جی اوز کی مدد سے ایران میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنے، ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سا ئبر جنگ سمیت خفیہ کارروائیاں کرنے سے لے کر اسرائیل کی مدد سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کو قتل کرنے تک امریکہ نے ایران کے معاشی،عسکری اور سیاسی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لئے کوئی بھی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ایران کئی برسوں سے معا شی پا بندیوں کی گرفت میں رہا، مگر 2011ء کے بعد اس کے چار ارب دو کروڑ ڈالرز کے بیرونی اثاثے منجمد ہونے ،کسی مُلک کے ساتھ تجا رت نہ کر سکنے جیسی شدید اقتصا دی پا بندیوں سے ایران کی ایکسپو رٹس میں 50فیصد سے بھی زائد کی کمی ہوئی۔ایکسپورٹس کم ہو جانے کی وجہ سے اسے ما ہا نہ 6 سے 8ارب ڈالرز کا نقصا ن ہو نے لگا۔تیل کی مد میں ایران 2011ء تک 95ارب ڈالرز کما تا تھا ،مگر 2012ء میں یہ رقم سکڑ کر صرف 26ارب امریکی ڈالرز رہ گئی۔ ایرانی کرنسی ریا ل مکمل طور پر بے وقعت ہو نے لگی۔ ظاہر ہے اس صورتِ حال میں بے روزگاری ، افراطِ زر اور غر بت میں بھی اضا فہ ہوا۔افراطِ زر بعض مرتبہ 90فیصد سے بھی تجا وز کرتا رہا ، ایرانی ریال، ڈالر کے مقابلے میں 60فیصد تک اپنی قدر کھو بیٹھا۔

کساد بازاری میں 35فیصد تک اضا فہ ہوا، بے روز گاری 29فیصد کو چھونے لگی۔ 2013ء میں قومی معیشت کا کل حجم 2فیصد تک محدور ہو کر رہ گیا جو پا بندیوں سے پہلے چھ فیصد سے زائد ہی ہو تا تھا۔

ایران کے پا س تیل کے 158 بلین بیرل کے ذخا ئر ہیں۔ یوں تیل کے عالمی ذخائر کے اعتبا رسے ایران دُنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔

2012ء میں جب ایران پر پابندیاں لگیں تو اس وقت اس کے تیل کی پیداوار روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے چھ ملین بیرل تھی،مگر پابندیوں کے باعث پیداوار میں 50فیصد سے بھی زیادہ کی کمی آ گئی ۔ان اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کو ان پا بندیوں کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

2015ء میں امریکہ کے ساتھ معا ہدے کے بعدیہ امید پیدا ہونے لگی تھی کہ پا بندیوں کے خاتمے سے ایران کی معاشی حالات بہتر ہو گی، اس طرح کا معا ہدہ کرنے سے ایران میں معتدل سیاست دان مضبوط ہوں گے اور انتہا پسند یا سخت موقف رکھنے والے سیاست دان کمزور ہوں گے۔

اوباما کی یہ پالیسی کامیاب دکھائی دینے لگی، کیونکہ حسن روحانی جیسے معتدل رہنما انتہا پسندوں کے خلاف دوبارہ انتخابات جیت گئے، مگر اب ٹرمپ کی ایران پا لیسی سے ایران میں دوبارہ انتہا پسند موقف رکھنے والے سیا ست دان مضبوط ہوں گے۔

کئی غیر جانب دارمغربی تجز یہ نگار یہ رائے دے رہے ہیں کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معا ہدہ ختم کر کے اسی طرح کی غلطی کا ارتکاب کیا، جس طرح کی غلطی امریکہ نے2003ء میں عراق پر حملہ کر کے کی، کیونکہ اس حملے کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے کئی علاقوں اور ملکوں کا امن برباد ہوا۔

اب ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کی آڑ میں اس کو دیوار کے ساتھ لگا یا جا ئے گا تو ایران مشر ق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کے لئے مزید سخت کارروائیاں کر ے گا، سعودی عرب اور اسرائیل کے خلاف اپنی پراکسیز کو مضبوط کر ے گا۔اس سے اس خطے میں مزید تبا ہی پھیلے گی اور سامراجی پالیسیوں کی قیمت پھر معصوم لوگوں کو اپنے خون سے ادا کرنا پڑے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں