77

’’الیکشن سیزن‘‘

ووٹ دینے والوں کی بھاری اکثریت کو تو کبھی اس نظام میں عزت ملی نہیں، لیکن اس بار چونکہ ووٹ لینے والوں کی اپنی عزت خطرے میں ہے، اس لئے انہیں اب احساس ہوا ہے کہ یہ نظام اور اس کی جابر حاکمیت سے ان لوگوں کے احساس اور دل ودماغ پر کیسی گہری ضربیں لگتی ہیں۔اس دفعہ ووٹ لینے والوں کی رسوائی ہوئی ہے تووہ ووٹ کی عزت کے نام پر اپنی عزت و مرتبت کی بحالی کے خواہاں ہیں۔مگر ووٹ کو ہمیشہ ووٹ لینے والوں کی عزت کی خاطر استعمال کیا گیا۔سیاسی پارٹیوں نے ہر دفعہ عوام کے ووٹ کی مدد سے اقتدار کے مزے لئے۔حکومت جس فارمولے کے تحت بھی بنی اس نے عوام اور ووٹ کی تحقیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔حکمران طبقے کے ہر حصے نے اسی نظام کے ساتھ لوگوں کی تقدیر کے ساتھ وابستہ کیااور پھر ان کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ کا کبھی خاتمہ نہیں ہوا۔ آمریتوں کے طویل اقتدار میں عوام کی امیدیں پھر اسی جمہوری نظام کی طرف مبذول کر وائی گئیں ۔بہت سے بائیں بازوکے لیڈر بھی ان سرمایہ دار سیاستدانوں سے مل کر ایک طے شدہ مرحلہ وار نظریے کے تحت عوام کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ جمہوریت ہی میں ان کی نجات ہے پھر یہ بھی ہوا کئی مذہبی پارٹیاں جن کو اس سرمایہ دارانہ سیاست کی لت پر گئی ہے وہ مذہب کے ساتھ ساتھ سیا ست کررہے ہیں ۔گرمی زیادہ ہے یا انتخابی گرما گرمی فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،سورج سوا نیزے پر ہونے کو ہے اور ادھر سیاست دان بھی آگ بگولہ ہورہے ہیں ۔بات بات پر بھڑک اٹھنے اور سب کو لپیٹ میں لینے کاموسم شروع ہوچکا ہے۔دوستوں اور اتحادیوں کی تلاش جاری ہے دشمنوں کو دل کی گہرائی سے معاف کرنے اور ضرورت کے مطابق دوست تبدیل کرنے کی رت وارد ہوچکی ہے۔
پورے پاکستان میں معاملہ الجھا ہوا ہے کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ پورے ملک اور شہروں کا مینڈیٹ کس کے ہاتھ رہے گااب تک کے حالات اس امر کی طرف اشارہ کررہے ہیں، کہ شہروں میں مینڈیٹ بری طرح تقسیم ہوچکا ہے۔مینڈیٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے سیاستدانوں نے تگ ودو شروع کردی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کی گہما گہمی میں لوگ تذبذب کا شکار ہیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس بار ووٹ کا استعمال کس طور کریں کہ وہ ضائع ہونے سے محفوظ رہے یہ الجھن بلا جواز نہیں کیونکہ سیاست شدید انتشار کا شکار ہے۔ ایک دوسرے پرالزام تراشیوں کے علاوہ سیاست میں کچھ نہیں رہ گیاٹیلی ویژن کی سکرینوں سے لے کر عوامی جلسوں تک ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے والوں نے ایک بے ہودہ نورا کشتی کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔ایک دوسرے کو بے ایمان کہنے والے بعد میں موقع پرستی کے بنیادی اصولوں کے تحت انہی بے ایمانوں کے ساتھ حکومتی الحاق سے محفوظ حکومتیں بناتے ہیں ۔ایک دوسرے کوبے ایمان اور غدار کہنے والے اقتدار میں آنے کے بعدسب سے بڑا محب وطن ہونے کا ناٹک کرتے ہیں،سیاست کے ان ٹھیکیداروں کے باہمی سماجی و خاندانی رشتے بہت گہرے ہوتے ہیں بڑے سے بڑے سیاسی دشمن کی رشتے داریاں حاکمیت کے آقاسیاستدانوں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں کی اولادوں کے درمیان ہی ہوتی ہیں، چونکہ ان کے لئے ہر رشتے کی استواری کا مقصہ اپنی مالیاتی اجارہ داری کو وسعت دینا ہوتی ہے جاہ وجلال اور ان کی سماجی ساکھ پیسے کے بل بوتے پر ہوتی ہے۔

اس معاشرے میں رائج اخلاقیات میں چونکہ انسانی شخصیت اور عزت کا تعین پیسہ کرتا ہے، اس لئے یہاں متوسط ،محنت کش اور غریب کو عزت حاصل ہونا ممکن ہی نہیں۔بڑے بڑے غنڈوں قاتلوں اور فراڈیوں کو پیسے کے بل بوتے پر شرافت اور نیکی کے سرٹیفیکیٹ یہاں کی اخلاقیات کے ٹھیکیدار فوری جاری کرتے ہیں ۔غریبوں کے لئے صرف حقارت اور تضحیک ہے اور اس نظام کے ٹھیکیداروں کے لئے سیاست سے لے کر معاشرت تک کے ہرشعبے میں قدرومنزلت ہے۔ایسے میں 90فیصد غریبوں کے ووٹ کی عزت کے کیا معنی ہیںیہ لوگ کبھی خوف کبھی رشتہ داری،کبھی ہوا کا رخ،کبھی گھی کے کنستر، بریانی، قیمے والے نان اور کبھی پیسے کی خاطر اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں،اس میں ان کا قصور نہیں سسٹم ہی ایسا ہوگیا ہے ، بہت سے لوگو ں کو کھانے کو دو وقت کی روٹی نہیں تو انہیں ووٹ کی طاقت کا کیااندازہ لیکن ان سوداگروں کوپتہ ہے کہ ان دو چار مہینوں میں ان کو گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھا کرپھر پانچ سال نظر نہیں آنااور ان ووٹروں کو بھی پتا ہے کہ الیکشن سیزن ہے جو فائدہ اٹھانا ہے اٹھا لو بعد میں تو محنت کش طبقہ نے ووٹ ڈال کر اپنی تضحیک ہی کروانی ہے ووٹ دینے والے عام انسانوں کو عزت صرف اسی صورت حاصل ہوسکتی ہے جب ان کی محرومی اور محکومی ختم ہو۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ اب تک جن کو بھی حکومت کا اختیار ملا وہ حقیقی معنوں میں ڈلیور نہیں کر پائے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اب تک تذبذب میں مبتلا ہیں کہ جن پر بھروسہ کرتے آئے ہیں ان پر بھروسہ کریں یا نہ کریں اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج تک جن پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر بھروسہ نہ کریں تو کس پر کریں؟ بہر حال معاملہ ووٹرز کے ہاتھ میں ہے ان کو سمجھ سے کام لینا چائیے، اگر بہتر امیدوار نظر آئے تو اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں