23

سید مودودیؒ کے ’’حسین‘‘ سے ایک یادگار ملاقات

شعیب بن عزیز ہمارے ہی نہیں بہت سوں کے ہر دلعزیز ہیں، وہ تعلقات عامہ کے لیجنڈ ہیں۔ حرف و لفظ کے کھلاڑی بلکہ کپتان ہیں، الفاظ کی ترتیب اور بنت میں انہیں ملکہ حاصل ہے، جملہ بازی میں تو ہم بھی تاک ہیں، لیکن جملہ سازی میں کم لوگ ہی ان کی ہمسری کرسکتے ہیں، جملہ سازی عطیہ خداوندی ہے اور وہ اللہ اپنے منظور نظر بندوں کو ہی عطا کرتا ہے۔

ہمیں تو معلوم نہیں کہ اللہ کی نظرِ خاص کس پر ہے، لیکن ایک بات شعیب بن عزیز سے ہی خاص ہے اور وہ ہے ایوان اقتدار کی صحرانوردی۔ شاید ہی کوئی اور سرکاری یا غیر فرداس حوالے سے ان کی ہم سری کرنے کا دعویٰ کرسکے۔
جنرل ضیاء الحق کے نواز شریف کے دورِ وزارت اعلیٰ سے لے کر بے نظیر کے شہباز شریف اور جنرل مشرف کے پرویز الہیٰ دورِ وزارت اعلیٰ تک وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے منتخب حکمرانوں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔

اپنی سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران وہ شہباز شریف کے اندازِ سیاست اور کارکردگی کے اسیر ہوگئے،بلکہ شہباز شریف کے سحر میں گرفتار ہوگئے یہ اسیری یکطرفہ نہیں،بلکہ دوطرفہ ہے۔
شہباز شریف نے بھی انہیں اپنی ’’پرواز‘‘ میں شریک سفررکھا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہیں اسیری سے رہائی نہیں ملی اور شنیدہے کہ شعیب بن عزیز کی رہائی کی تمام کاوشوں کو شہباز شریف نے ناکام بنادیا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ھنوز ان کے شریک سفر ہیں۔ دل و جان سے۔

پچھلے دنوں ان کے ساتھ ایک عشائیہ میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ویسے تو شعیب بن عزیز تعلقاتِ عامہ کے شعبے سے وابستہ ہیں، لیکن طبعاً شر میلے اور کم آمیز ہیں۔ ذاتی و شخصی ملاقاتوں اور تقریبات میں شرکت کے حوالے سے بڑے Choosy اور Selective ہیں۔
کسی شخص سے ملنے یا کسی محفل میں شرکت کا فیصلہ کرنے کا اگر اختیار ان کے پاس ہو تو وہ ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ میں ہی رہتے ہیں، اعلیٰ سے اعلیٰ شخص اور بہترین محفل ہی ان کا انتخاب ہوتی ہے، اس لئے جب انہوں نے مجھے ایک عشائیہ محفل میں شرکت کی دعوت دی تو میں بصد خوشی تیار ہوگیا، جب یہ پتہ چلا کہ گارڈن ٹاؤن میں مولانا مودودیؒ کے فرزندِ ارجمند حسین فاروق مودودی کے اعزاز میں مولانا کے داماد عارف ریاض قدیر کی طرف سے ایک عشائیہ کا اہمتام ہے تو خوشی کی انتہا ہو گئی۔ مولانا مودودیؒ کے حسین سے ملاقات ایک حسین تجربہ تھا۔

ہم نے اس دور میں آنکھ کھولی پلے بڑھے جب پوری دنیا میں سرخ اور سبز کی جنگ جاری تھی، نظریات، نظریاتی و فکری مباحث، سکالرز کی باتیں ہوتی تھیں۔
جارج برناڈشا برٹرینڈرسل، بیکن برادرز(راجر بیکن، فرانسس بیکن) کی باتیں ہوتی تھیں۔ ابوالکلام آزاد، حسین احمد مدنی، گاندھی کی باتیں ہوتی تھیں۔ سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید ہوتی تھی، کمیونزم زیر بحث آنا تھا۔

مینی فیسٹوآف کمیونسٹ پارٹی، کارل مارکس کی شہرہ آفاق تصنیف داس کیپیٹل، سبط حسن کی ماضی کے مزار، موسیٰ سے مارکس تک، اینجلز کے نظریہ جدلیات کی باتیں ہوتی تھیں۔

عالم عرب کے حسن البناء کی اخوان المسلمون کی تحریک اور قربانیوں کا ذکر ہوتا تھا۔ عبدالقادر عودہ اور سید قطب کی کتب کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔ غلام احمد پرویز کی عظیم کائنات کا عظیم خدا اور انسان نے کیا سوچا جیسی کتب کا مطالعہ کیا جاتا تھا، ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتب کو بھی پذیرائی ملتی تھی۔ ان کی من کی دنیا، دو قرآن، دو اسلام اور معجم البلدان جیسی کتب کے حوالے دیئے جاتے تھے۔

پاکستان، نظریہ پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے والے سید مودودی کی کتب سے دلائل حاصل کرتے اور نظری و فکری میدان میں سیکولر اور ملحد ہی نہیں، بلکہ اشتراکی فکر و نظر کے لوگوں سے ٹکرا جاتے۔

سید مودودی کی دینیات، خطبات، رسائل و مسائل، پردہ، سود، ماہنامہ ترجمان القرآن، الجہاد فی الاسلام جیسی کتب نے کروڑوں انسانوں کی نظری و فکری تہذیب کی۔

شیعہ سنی کے درمیان رواداری کے لئے فلسفہ شہادت حسین اور خلافت و ملوکیت جیسی تحریروں نے اہم کردار ادا کیا۔اس دور میں پاکستانی معاشرے میں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی پائی جاتی تھی اس میں سید مودودی کی تحریروں کا بہت عمل دخل تھا۔

پیپلز پارٹی کے فسطائی دور حکمرانی میں سید مودودی کی تحریروں نے نوجوانوں کو نظریہ پاکستان کے لئے کھڑا ہونے اور قربانی دینے کا حوصلہ دیا فکری اور نظری محاذ پر ہی نہیں، بلکہ عملی میدان میں نوجوان اشتراکی و ملحدانہ افکار و نظریات کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے، سید مودودی اس سے پہلے ایوبی آمریت کے خلاف بھی کھڑے ہوئے تھے، فتنہ قادیانیت کے خلاف ’’مسئلہ قادیانیت‘‘لکھنے کے باعث انہیں پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ بھٹو دور میں جمعیت کے نوجوانوں کی شروع کردہ تحریک کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔

یہ دور عزم و ہمت، نظریاتی کشمکش، دعوت قربانی، عظمت اور شجاعت سے عبارت تھا، سید مودودی نشان منزل ہی نہیں رہبر اور قائد بھی تھے۔ مولانا مودودی کی تفہیم القرآن بچیوں کو جہیز میں بھی دی جاتی تھی۔

مولانا مودودی کے نظریاتی و سیاسی مخالف بھی قربانی کی کھالیں جماعت اسلامی کو ہی دیتے تھے، کیونکہ انہیں ان پر اعتماد تھا، یقین تھا۔ یہ دور سید مودودی سے عبارت تھا، ایک عظیم اور یادگار دور تھا جو بیت گیا، علم و فضل، حکمت اور سعادت سے بھرپور دور بیت گیا، بڑے لوگ کہیں گم ہوگئے، اب عالمی سطح پر سٹیو جابنر، بل گیٹس اور اسی طرح کے مشینوں و آلات کے موجد کروڑ پتیوں کی باتیں ہوتی ہیں۔

یہ اللہ کی شان ہے کہ عالمی قائدین میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص شامل ہے، عالم اسلام میں تو کہیں بھی کوئی نظر نہیں آتا ہے، محمد بن سلمان عالم عرب کی لیڈری کا دعوے دار ہے جو امریکہ اور اقوام مغرب کی آنکھوں کا تارا بننے کے چکر میں سرزمین حجاز پر جوئے خانے قائم اور آباد کرنے اور عورتوں کو ’’باہر نکالنے‘‘ اور ’’آزاد کرنے‘‘ کی کاوشیں کررہا ہے۔

عالم اسلام کی سب سے مضبوط ایٹمی قوت پاکستان کی حالت ہمارے سامنے ہے، نظریاتی اور علمی گفت و شنید کی بجائے ’’عورتوں کی جنسی ہراسگی‘‘ ہمارے میڈیا پر چھائی ہوئی ہے، عیسائی مغربی دنیا اہل اسلام پر پل پڑی ہے، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔

کشمیری و فلسطینی ہی نہیں، افغانی، عراقی اور شامی مسلمان بھی اقوام مغرب کے ظلم و ستم کا شکار ہیں، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ’’یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے‘‘ اور ’’اس کا انجام کیا ہوگا‘‘ دور دور تک کہیں بھی رہنمائی کی کرن نظر نہیں آتی ہے مایوسی اور حیرانگی نے قوت فکروعمل کو معطل کررکھا ہے۔

ایسے میں سید مودودی کے حسین کے اعزاز میں عشائیہ میں شرکت ایک خوبصورت اور یادگار واقع ثابت ہوا۔ حسین فاروق مودودی کے ساتھ ملاقات اور گپ شپ نے روح میں تروتازگی پید اکی، ہم ایک بار پھر اپنے ’’دورِ شباب‘‘ میں لوٹ گئے۔

اس موقع کو ان مٹ یادگار بنانے کے لئے ہم نے اپنی زندگی کی اکلوتی اور پہلی ’’سیلفی‘‘ بنائی اور ڈھلتی عمر کے یادگار لمحوں کو قید کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں