30

خلائی مخلوق اور نواز شریف

دُنیا کے عظیم ترین سائنس دان سٹیفن ہاکنگ جن کی وفات اسی سال14مارچ کو ہوئی۔ اپنی وفات کے وقت فزکس اور فلکیات کے میدان میں دنیا بھر کے سائنس دانوں میں سب سے بڑھ کر بااثر اور اپنے نظریات کی قبولیت کے لحاظ سے مقبول ترین سائنس دان تھے۔انہوں نے اپنی وفات سے قبل پوری انسانیت کو دو نصیحتیں کی ہیں ۔ پہلی نصیحت یہ تھی کہ انسان کو مصنوعی ذہانت پر تحقیق نہیں کرنی چاہئے ان کا کہنا یہ ہے کہ جس دن انسان نے ڈیجیٹل، مکینکل اور الیکٹرانکس کی مدد سے ایک ایسا مصنوعی انسان ( یا کمپیوٹر) تیار کرلیا جو انسان ہی کی طرح سوچتا ا ور جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کرسکتا ہو، وہ دن اس دنیا میں انسانی تہذیب کے خاتمے کا دن ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس صلاحیت کے مالک کمپیوٹرز یا ربوٹس بالآخر اپنے خالق انسانوں پر کنٹرول کرنے لگیں گے۔ ان میں خود کو دوبارہ زندہ کر لینے اور اپنی تعداد میں اضافہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔ ایک انسان کو پیدا ہونے کے بعد جوان ہونے میں تو سولہ سترہ سال کا طویل عرصہ درکار ہے، جبکہ ذہین کمپیوٹرز ایک بار ٹوٹ پھوٹ جانے کے بعد خود کو چند سیکنڈز میں دوبارہ زندہ کرکے کھڑا کرنے کی استطاعت حاصل کر لیں گے۔
سٹیفن ہاکنگ کی دوسری اہم ترین وصیت یہ ہے کہ انسان کو خلائی مخلوق سے رابطہ قائم نہیں کرنا چاہئے۔ ان کا خیا ل ہے کہ خلائی مخلوق سائنس اور ٹیکنالوجی میں کر�ۂارض پر بسنے والے انسانوں کے مقابلے میں لازمی طور پر بہت زیادہ ترقی یافتہ ہے ، اس سے رابطوں اور اس تک پہنچنے میں انسان کا کوئی فائدہ نہیں،بلکہ اس طرح کے رابطے قائم کرنے کی ہماری کوششوں کے نتیجے میں خلائی مخلوق کر�ۂارض پر آ سکتی ہے۔ اگر وہ ہمارے کرہ ارض پر آ گئی تو پھر ہماری حیثیت ایسی ہی ہو جائے گی، جیسی کولمبس کے امریکہ دریافت کر لینے کے بعد ٹیکنالوجی میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ یورپین اقوام کے وہاں پہنچ جانے کے بعد امریکہ کے اصلی باشندوں ( ریڈ انڈینز) کی حالت ہوگئی تھی۔
عمران خان اور میاں نواز شریف کا موازنہ کرنے والوں کے ذہنوں میں دونوں رہنماؤں کے متعلق جیسے بھی خیالات ہوں اور وہ ان کے متعلق چاہے جو کچھ بھی کہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عمومی طور پر لوگ تحریک انصاف والوں کو مسلم لیگ (ن) والوں کے مقابلے میں زیادہ ماڈرن اور سمارٹ سمجھتے رہے ہیں،لیکن اب میاں نواز شریف نے خلائی مخلوق کے خلاف بیان دے کر خو د کو زیادہ سائنسی ذہن کا انسان ثابت کردیا ہے۔ آخر نواز شریف ایک طویل عرصہ تک مُلک کے حاکم رہے ہیں اور ہمارے سیاست اور اقتدار سے وابستہ لوگوں میں ماشاء اللہ علم ستارگان کا ذوق کچھ زیادہ ہے اور وہ ستاروں یا دوسری کہکشاؤں سے آنے والی مخلوقات کی ان دیکھی طاقت کے بھی ہمیشہ سے معترف پائے گئے ہیں۔
دُنیا کے مختلف ممالک میں مختلف مواقع پر اربوں میل کی دوری سے دوسری کہکشاؤں سے آنے والی خلائی مخلوق اڑن طشتریوں (خلائی شپس) کو دیکھنے کی گواہی تو آج دُنیا کے لاکھوں انسان دے رہے ہیں۔ کینیڈا کے سابق وزیر دفاع پال ہیلیئر کا کہنا ہے کے انہوں نے اپنی بیگم اور کوئی تین سو افراد کی موجودگی میں ایک اڑن طشتری کو ایک گھنٹہ بھر فضا میں بہت نیچے پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پال ہیلیئر متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے وجود کا اعتراف کر چکے ہیں۔ جب وہ وزیر دفاع تھے اس وقت انہوں نے کینیڈا کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر ایک شہر میں ایک ایسے ہوائی ا ڈے کا افتتا ح کیا جسے خلائی مخلوق کے جہازوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس اڈے پر لگائے گئے سنگ بنیاد پر یہ الفاظ کنندہ ہیں کہ یہ اڈہ ساری کائنات کے سپیس شپس (خلائی جہازوں) کے لئے ہے ۔ اس کی تعمیر سے ہماری اس خواہش کا اظہارِ مقصود ہے،جس کے مطابق ہم پوری کائنات کی خلاء کو پُرامن اور سفر کے لئے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ میاں نواز شریف صاحب بھلے آدمی ہیں اور آج کل خلائی مخلوق سے انہیں سخت پریشانی اور آئندہ کے انتخابات میں بھی اس خلائی مخلوق کی طرف سے اپنے خلاف کام کئے جانے کا شدید خطرہ، بلکہ یقین ہے۔ ہمارا میاں صاحب کے لئے مشورہ یہ ہے کہ وہ سٹیفن ہاکنگ کی وصیت کو پوری اہمیت دیں ، خلائی مخلوق کی اہمیت کو کم نہ جانیں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پال ہیلیر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس مخلوق کے خلائی جہازوں کے لئے کسی اڈے کی تعمیر کا انتظام کریں اور اس جگہ لگائے گئے سنگ بنیاد پر اپنے نیک جذبات کا اس خلائی مخلوق کے لئے اسی طرح اظہار کریں جیسا کہ پال ہیلیئر نے کیا ہے۔
اس وقت خلائی مخلوق اور اس کی اڑن طشتریاں دیکھے جانے کے متعلق انسانوں کو تازہ ترین خبروں سے آگاہ کرنے کے لئے امریکہ و یورپ میں بہت سے ٹیلی وژن اور اخبارات کام کررہے ہیں۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق زمین پر دوسری کہکشاؤں سے آنے والی مخلوقات کے وفود ماضی میں کم از کم دُنیا کے چار بڑے ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کرچکے ہیں۔ تین امریکی صدور سے بھی خلائی مخلوق کے وفود کی ملاقات ہوچکی ہے ، اور وہ کرۂ ارض کے باسیوں کو مختلف مشورے دے چکے ہیں ۔ امریکی صدر نکسن سے خلائی مخلوق کے ایک وفد کی ملاقات کے لئے اجازت طلب کی گئی تو انہوں نے اپنے افسروں سے پوچھا کہ کیا وہ خلائی مخلوق ہماری زبان سمجھتی ہے اور کیا وہ ان کی زبان سمجھ سکیں گے؟ اس پر اُنہیں بتایا گیا کہ خلائی مخلوق کو ان سے بات کرنے کے لئے کسی زبان کے سہارے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ان سے ٹیلی پیتھی کے ذریعے بات کریں گے، یعنی ان کے ذہن میں آنے والی ہر بات اور ہر سوال کو پڑھ لیں گے اور اسی طرح وہ بھی ان کی باتیں سمجھ سکیں گے۔ اس پر امریکی صدر نکسن نے خلائی مخلوق کے اس وفد سے اس وجہ سے ملنے سے انکار کردیا کہ اس طرح تو وہ لوگ ان کے ذہن میں موجود تمام اہم ترین ملکی راز بھی معلوم کرلیں گے۔

ہمارے میاں نواز شریف بھی ایک طویل عرصہ تک اقتدار میں رہے ہیں اب یہ معلوم نہیں ہے کہ ا س دوران میاں صاحب سے کسی خلائی وفد نے کوئی ملاقات کی ہے یا نہیں۔ تاہم ان کی خدمت میں نہایت مخلصانہ مشورہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ خلائی مخلوق کی طاقت اور اثر و رسوخ کو کم اہمیت نہ دیں، کیونکہ اس خلائی مخلوق کے لئے ان کے اگلے پچھلے سب رازوں کو جان لینے کے علاوہ ان کے مستقبل کے اردوں کو بھی ان کے ذہن سے پڑھ لینا کچھ مشکل نہیں ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ روس کے آخری زار نکولس کی موت کے وقت روسی حکومت کے تقریباً تمام بڑے عہدیداروں کو یہ پختہ یقین ہوچکا تھاکہ ان کے زار کے جسم میں کوئی خلائی مخلوق حلول کرگئی ہے ۔ جسم تو نکولس کا تھا لیکن اس کی طرف سے تمام دئیے گئے احکامات دراصل خلائی مخلوق کے ہوتے تھے۔ یہی مخلوق نکولس کی موت کا سبب بنی۔

اس بات کے ثبوت میں روسی حکومت کو بہت سے دستاویزی ثبوت بھی مل گئے ، جس کے بعد حکومت کی طرف سے خلائی مخلوق کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئیں اور سولہ تحقیقاتی ٹیمیں دُنیا کے مختلف ممالک میں بھیجی گئیں، جنہوں نے کرید کرید کر اس سلسلے میں معلومات جمع کیں اور ایک خفیہ کتاب ترتیب دی گئی ۔ یہ کتاب سویت یونین ختم ہونے کے بعد کسی کے ہاتھ لگ گئی اور’’ خلائی مخلوقات کی مختلف نسلیں ‘‘ کے نام سے شائع ہوگئی ۔ کتاب میں پچاس کے لگ بھگ مختلف خلائی مخلوقات اور ان کے اوصاف کے متعلق تفصیلات موجود ہیں۔ میاں نواز شریف صاحب جو شہر شہر گلی گلی خلائی مخلوق کے خلاف مہم چلا رہے ہیں انہیں شاید خلائی مخلوق کی صحیح طاقت کا اندازہ نہیں ورنہ خلائی مخلوق کے متعلق ان کا رویہ ایسا ہرگز نہ ہوتا جیسا کہ ہے۔ میاں صاحب کوخبردار رہنا چاہئے کہ اگر اس مخالفت میں انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا تو وہ خلائی مخلوق جو اس وقت کسی کو نظر نہیں آرہی وہ انسانوں کے سامنے اپنے مادی وجود میں آن موجود ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں