61

چالیس کی کاپی ایک سوچالیس میں؟نجی اسکولوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ


تعلیم کو کاروبار
نجی اسکولوں نے تعلیم کو کاروبار بنادیا۔اسکولوں کی من مانیوں اور منہ مانگے داموں کورس فروخت کرنے کیخلاف کراچی کے اردو بازار میں بینرز لگ گئے۔

نئے تعلیمی سال کے آتے ہی والدین جون جولائی کی فیسیں بھرنے کے علاوہ دہری پریشانی کا شکارہو جاتے ہیں جب نجی اسکولوں کی جانب سے انہیں پابند کیا جاتا ہے کہ بچے کی کاپیاں ، کتابیں اور اسٹیشنری وغیرہ اسکول سے ہی خریدی جائے۔

اس اقدام کیخلاف آواز اٹھاتے ہوئے کراچی جنرل بک ایسوسی ایشن نے پرائیویٹ اسکولوں کو لگام ڈالنے کا مطالبہ کردیا۔ اس حوالے سے اردو بازار میں احتجاجی بینرز لگا دیے گئے۔

بینرز پر درج ہے کہ چالیس کی کاپی اسکول مونو گرام کے ساتھ ایک سو چالیس کی فروخت کی جارہی ہے، اسکولوں کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ چیف جسٹس اور ڈی جی رینجرز سندھ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اسکولوں کے اس کاروبارپر پابندی لگائیں ۔

کراچی بک ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام نجی اسکول کورس کی فہرستیں والدین کو دے دیا کریں، یہ اسکول تعلیم دیں کاروبار نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں