47

کورونا وائرس سے حفاظت کیلئے متوازن خوراک استعمال کریں


لاہور: (ڈیلی پرس کانفرنس) کوئی دوا، کوئی دارو، کوئی حیلہ سازی اور کوئی طریقہ اس کے خلاف کارگر ثابت نہیں ہو رہا۔ اس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ “احتیاط” ہی ہے۔ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم اپنی اور اپنے عزیز و اقارب کی زندگیاں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔وبائی امراض کرہ ارض پر کوئی نئی یا اچنبھے کی چیز نہیں ہیں۔ اٹھارویں صدی سے اب تک پولیو، ہیضہ، طاعون، ایڈز، انفلوئنزا، سارس، زیکا، برڈ فلو، سوائن، نیفاہ، ایبولا اور کورونا جیسے کئی موذی، مہلک اور خطرناک وبائی امراض اپنی تباہ کاریاں کر چکے ہیں۔قدرت کا بھی عجیب کھیل ہے ایک مرض سے نجات کے ذرائع تیاری ہو رہے ہوتے ہیں کہ دوسری بیماری آ پہنچتی ہے۔ دسمبر 2019ء سے چائنا میں پیدا ہونے والا کورونا وائرس پوری دنیا کے لیے ایک دہشت بنا۔ اب تک ہزاروں زندگیوں کو موت کی بھینٹ چڑھا چکا ہے۔طبی ماہرین کے نزدیک کورونا وائرس صرف دو سے اڑھائی فیصد مبتلا مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی لپیٹ میں آنے اور موت کے منہ میں جانے والوں کی اکثریت کمزور قوت مدافعت کی حامل ہوتی ہے۔
کورونا سمیت کسی بھی مہلک مرض سے بچاؤ کے لیے لازم ہے کہ ہم مضبوط اعصاب کے ساتھ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مرض سے نبرد آزما ہوں۔بطور معالج برسوں سے یہ بات مشاہدے میں ہے کہ اس قدر بیماری کا حملہ خطرناک ثابت نہیں ہوتا جس قدر اس مرض کا بھیانک خوف مریض کو ذہنی طور پر موت کے قرب کرتا ہے۔نفسیاتی لحاظ سے مرض کا خوف اچھے خاصے صحت مند انسان کو بھی بیمار بنادیتا ہے۔بطور مسلمان ہمارا یہ پختہ ایمان ہونا چاہیے کہ موت کا وقت،جگہ اور وجہ متعین ہیں جو کسی حال میں بھی کسی سے ٹل نہیں سکتے۔اگر صرف طبی آلات و ادویات کی مدد سے موت کا راستہ بند کیا جا سکتا تو جدید میڈیکل سائنس کے موجد اور مہذب و متمدن ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کو موت کبھی بھی نہ آتی۔ لہٰذا ایمان کامل کے ساتھ کرونا سے بچائو کی تراکیب اور تدابیر پر عمل پیرا رہیں۔رواں موسم تبدیلی کا سماں ہے سردی سے بہار اور بہار سے گرمی کی طرف گامزن ہے۔اس موسم میں معمول میں بھی نزلہ،زکام،کھانسی اور بخار وغیرہ ہونا عام سی بات ہے اور ان کا علاج بھی معمول کی ادویات سے ہی کریں۔کورونا کو سر پر سوار نہ ہونے دیں۔ادرک،دار چینی،ملٹھی،توت سیاہ اور دوسری بے شمار گھریلو تراکیب سے نزلے زکام کا بآسانی تدارک ممکن ہے۔سب سے پہلے تو ذہن سے کرونا کا خوف نکالیں اور ہر فلو،کھانسی یا بخار کو کرونا ہی نہ سمجھیں۔اس کے بعد سرکاری سطح پر مشتہر کیے جانے بچائو کے طریقوں پر سختی سے عمل پیرا ہو جائیں۔
سینیٹائزر اپنے پاس رکھیں۔کسی بھی مشتبہ جگہ پر جانے اور وہاں سے واپسی پر ہاتھ صاف کریں۔ یہی کام صابن اور پانی سے ہاتھ دھو کر بھی کیا جا سکتا ہے۔کرونا کے متاثرہ فرد کو الگ تھلگ رکھیں۔
اس کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ ماسک اور حفاظتی پیرا میٹرز پر عمل پیرا ہوں۔عام حالت میں کھانستے اور چھینکتے وقت ہاتھ سامنے کرنے کی بجائے کہنی یا بازو کریں تاکہ آپ کے ہاتھ صاف رہیں۔گزشتہ دنوں یونیورسیٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کرونا سے بچائو کے لیے وضو کو بہترین ہتھیار قرار دیا تھا۔ اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ ادھر ادھر ہاتھ نہ ماریں کیونکہ کورونا کا وائرس بھاری ہوتا ہے اور فضا میں معلق رہنے کی بجا ئے یہ میز کرسی کے بازو اور دوسری جگہوں پر اپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔متاثرہ جگہ پر ہاتھ وغیرہ لگنے سے یہ چمٹ کر منہ اور ناک کے رستے متاثر کرتا ہے۔ہمسایہ ممالک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے اور اب ہمارے اپنے ملک میں بھی کورونا کے مریض سامنے آنے سے حکومتوں نے صوبائی و ملکی سطح پر کرونا سے بچائو سے آگہی مہم بھرپور طریقے سے چلا دی ہے۔محکمہ صحت کے SOP,sکو اپنا کر ہم کرونا وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔قوت مدافعت بدن میں اضافے کے لیے متوازن خوراک استعمال کریں۔ تمام موسمی سبزیاں پھل با الخصوص ترشے جیسے کینو،مالٹا،مسمی،لیمن کا رس گرم پانی میں ملا کر استعمال کریں۔انار اور ٹماٹر کا رس بھی بہترین غذائیں ہیں۔انار دانے کا استعمال بھی مفید ثابت ہوگا۔میٹابولزم خراب کرنے والی غذائیں جیسے فاسٹ فوڈز، کولڈ ڈرنکس، مرغن، زیادہ چکنائی والی، بیکری پروڈکٹس، بریانی، سویٹ ڈشز، بادی اور دیر ہضم غذائی اجزا سے دور رہیں۔ریشے دار غذائیں جیسے جو، گندم ،بند گوبھی کھیرا اور بھوسی والی روٹی وغیرہ کا استعمال لازمی بنائیں۔ روزمرہ ورزش کا اپنا معمول بنائیں۔ عام فلو اور زکام میں اینٹی بائیو ٹیکس اور اسٹیرائیرڈز بیسڈ ادویات کے غیر ضروری استعمال سے بھی اجتناب برتیں۔کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک اس کا ڈر اور خوف ہے۔ڈر اور خوف کو اپنے قریب نہ آنے دیں کیونکہ انسانی بدن پر مسلط امراض میں 50 فیصد سے زیادہ ڈر،خوف اور سر پر سوار کرلینے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ کرونا کے متعلق بھی مبینہ طور پر یہ بات عام کہی جارہی ہے کہ یہ بیالوجیکل وار ہے جو بڑے ملک مسابقت کے جذبے میں اپنے ہم عصروں کو معاشی اور اقتصادی طور پر نقصان پہچانا ہے۔جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق کچھ بھی ہے آخر کار نقصان تو انسانیت کا ہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں