86

پی آئی سی حملہ: 2 مقدمات درج، 7 مریض دم توڑ گئے


لاہور(ڈیلی پریس کانفرنس) پی آئی سی حملے کے 2 مختلف مقدمات تھانہ شادمان میں درج کر لیے گئے، ڈھائی سو وکلا کو نامزد کیا گیا ہے، دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی سی پر حملہ آور 250 وکلا کےخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، دو الگ الگ مقدمات ڈاکٹر ثاقب شیخ اور ایس ایچ او شادمان انتخاب شاہ کی مدعیت میں تھانہ شادمان درج کیے گئے ہیں۔وکیلوں کے خلاف مقدمات میں دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے سمیت سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ، فائرنگ، پولیس وین جلانے، قتل، اقدام قتل، بلوہ، ہنگامہ آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کیے گئے ہیں، ایک مقدمے میں ڈاکٹرز، دوسرے میں پولیس مدعی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹروں اورہسپتال عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سرکاری کام میں مداخلت سے مریضوں کی جانیں ضائع ہوئیں، وکلا نے ہسپتال میں کروڑوں روپے کی مشینری اور املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اہل کاروں پر تشدد کیا گیا، ہوائی فائرنگ کی گئی اور پولیس وین کو جلایا گیا۔
دوسری طرف پنجاب میں دل کے سب سے بڑے ہسپتال پر وکیلوں کے حملے کے نتیجے میں 7 مریض دم توڑ گئے ہیں، وکیلوں کی پی آئی سی پر یلغار کے سبب ایک گھنٹے تک ایمرجنسی میں ہنگامہ آرائی ہوتی رہی، وکلا نے آپریشن تھیٹر میں بھی گھس کر سامان اور آلات تباہ کردیئے۔
حملے کے دوران عملے کو جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا، خوف زدہ مریض ڈرپ ہاتھ میں لیے بھاگے، تیمارداروں نے وکلا کی منتیں کیں، لیکن انھوں نے کسی کی نہ سنی، ہسپتال کے مرکزی دروازے کو بھی تالا لگا دیا گیا، وکیلوں نے ڈاکٹروں کو مارا پیٹا، ہسپتال کے شیشے توڑ دیے گئے، گارڈ کی پٹائی کی گئی، گاڑیاں کو نقصان پہنچایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں