161

پھر ایک دریا کا سامنا ہے مجھ کو

میرے محترم بھائی نے سیاسی صورتحال اور تقسیم پرایک نیا دوقومی نظریہ پیش کر دیا ہے اور مارچ کے انہی دنوں میں پیش کیا ہے جن دنوں آج سے اٹھہتر برس پہلے قائداعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت لاہور کے منٹو پارک میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور منظور کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کوخود مختاری دے دی جائے۔ ہندو پریس نے اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا تھا اور حالات کا جبر تھا کہ اس کے بعد ہمارے آباو اجداد ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے سرگرم ہو گئے تھے۔ ہمارے آباو اجداد جانتے تھے کہ وہ ہندوستان میں رہتے ہوئے کبھی ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کے تحت اقتدار تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ ہمیشہ اس اکثریت کے تابع رہیں گے جو دولت مند بھی ہے اور طاقتور بھی ہے۔وہ اکثریت ہماری مسلمان اقلیت کو اپنے ساتھ بٹھانے کے لئے تیار نہیں تھی، وہ ان برتنوں میں پانی نہیں پیتے تھے جنہیں ہمارے بڑے چھو لیتے تھے۔ ان کے بڑوں کا اس وقت دھرم بھرشٹ ہوجاتا تھا جب ہمارے پاوں ان کے علاقوں میں پڑجاتے تھے۔

تئیس یا چوبیس مارچ کو منٹو پارک میں جو کچھ ہوا وہ ایک سیاسی عمل تھا اور میں قرارداد لاہور کی سالگرہ منانے کی تیاریاں دیکھتے ہوئے حیران ہو رہا ہوں کہ اس دن کو منانے میں ہماری سیاسی جماعتیں کہاں ہیں۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان فوجیوں، توپوں اور ٹینکوں کے ذریعے نہیں بنایا گیا تھا مگر آج یوم قرارداد پاکستان پر ہم جو کچھ بطور قوم دیکھ رہے ہیں وہ سب جنگ سے متعلق ہے۔ یہ سب ہماری اجتماعی فکر اور شعور میں ابہام اور مغالطے پیدا کر رہا ہے۔ وہ سیاست اورجمہوریت جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا وہ آج کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ میں یہاں سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کا مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا مگر اتنا ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں اپنی نوعمری سے پیپلزپارٹی کی کرپشن سے بنے ہوئے جن محلات کے بارے سن رہا تھا وہ کہاں ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی جب کچھ روز پہلے مسلم لیگ نون کے نئے منتخب ہونے والے صدر شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر زرداری صاحب کا پیٹ پھاڑ کے حرام کی تمام دولت نکالنے کی بڑھک لگائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں