178

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔

وہ آواز چاروں طرف گونج رہی تھی۔ وہ چاروں پاگلوں کی طرح چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کسی ماورائی مخلوق نے ان پر ہلہ بول دیا ہے۔ جیسے کسی غیبی مخلوق نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہو۔
حوریہ اور وشاء چیختی ہوئی فواد اور خیام کی طرف بڑھنے لگیں تو فواد نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ’’جہاں کھڑی ہو وہیں رہو۔ اپنے ڈر پر قابو رکھو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘
وشاء اور حوریہ سہمی سہمی نظروں سے اردگرد دیکھ رہی تھیں کہ وہ آسیب کس روپ میں رونما ہوتا ہے کہ اچانک انہیں اپنے قریبی درخت سے آہٹ محسوس ہوئی۔ان دونوں نے ایک ساتھ پیچھے دیکھا تو وہ سر تاپا کانپ کے رہ گئیں، ان کے حلق سے کریہہ چیخ نکلی۔
ایک بدہیت ضعیف آدمی چوپائیوں کی طرح چلتا ہوا ان کی طرف آرہا تھا۔ اس کا جسم بھی چار ٹانگوں والے جانور کی طرف مڑ تڑگیا تھا۔جسم کی ہڈیاں جگہ جگہ سے بڑھی ہوئی تھیں۔ کندھوں کی دونوں ہڈیاں اونٹ کی کوہانوں کی طرف کھڑی تھیں اور جب وہ اپنے دونوں بازوؤں اور ٹانگوں سے کسی جانور کی مانند چلتا ہوا انکی طرف بڑھ رہا تھا تو گویا اس کے جسم کی ساری ہڈیاں ہل رہی تھیں۔
فواد کے کہنے کے مطابق دونوں لڑکیوں نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہیں۔
وہ بدہیت شخص فواد اور خیام کی طرف بڑھنے لگا فواد اور خیام نے اپنے ڈر پر قابو رکھا۔
وہ ان دونوں کے قریب سے گزرتا ہوا ان کے سامنے آگیا۔ اس کا چہرہ اور اس کاجسم بالکل ایسا ہی تھا جیسے قبر سے مردہ اٹھ آیا ہو۔ وہ ان دونوں کی طرف دیکھ کرہنسا’’کیوں اپنے آپ کو دیکھ کر ڈر گئے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ خیام نے اپنے خشک لبوں کو ترکیا۔
’’اگر تم کمزور انسان ڈیڑھ سو سال تک نہ مرو تو تمہارا ایسا حال ہوگا۔ میں اس وقت ڈھائی سو سال کے ضعیف انسان کے روپ میں تمہارے سامنے ہوں۔‘‘
’’ت۔۔۔ت۔۔۔تمہارا اپنا روپ کون سا ہے۔۔۔؟‘‘
’’میرا روپ اگر دیکھ لیتے تو اپنا عمل بھول جاتے اسلیے تمہارے سامنے تمہارے ہی روپ میں آیا ہوں۔ ویسے بھی میرا تم لوگوں کے سامنے اصلی روپ میں آنا ضروری نہیں تھا مگر جو شیطانی عمل تم کرنے جا رہے ہو اس میں کسی بھی وقت کوئی شیطانی طاقت تمہارے سامنے آسکتی ہے۔ اس لیے ایک بار پھر سوچ لو اتنی ہمت ہے تمہارے اندر۔‘‘
’’ہمت ہو یا نہ ہو ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اگر تم واقعی ہماری مدد کرنا چاہتے ہو توٹھیک ہے ہم تو پر بھروسا کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر فواد نے خیام کا ہاتھ پکڑ اور حوریہ اور وشاء کے قریب چلا گیا۔
’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟‘‘ حوریہ نے اپنے دونوں ہاتھ سوالیہ انداز میں پھیلا دیئے۔
فواد سرگوشی کے انداز میں گویا ہوا۔’’میرا ذہن کہتا ہے کہ ہمیں اس پر بھروسا کر لینا چاہئے۔‘‘
’’اس پر بھروسا کرنے کا مطلب ہے کہ ہمیں وہی سب کچھ کرنا پڑے گا جویہ کہے گا۔‘‘ خیام نے کہا۔
’’تو کر لیتے ہیں جو یہ کہتا ہے۔۔۔جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اگرہمیں کچھ ٹھیک نہ لگا تو ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ تم صرف یہ سوچو کہ ہم جو کچھ کرنے جا رہے تھے۔ وہ بھی تو آسان نہیں تھا اور یہ ایک غیبی مخلوق ہے۔ ماورائی قوتوں کی حامل ہے میرے خیال میں ہمیں اس کی مدد لے لینی چاہئے۔‘‘
فوادکی بات سن کر وشاء نے گھبراہٹ سے اس عجیب الخلقت مخلوق کی طرف دیکھا’’جو کچھ یہ کہے گا اگر وہ سب ہم سے نہ ہو سکا۔‘‘
’’تو ہم منع کردیں گے کوئی زبردستی نہیں ہے، اس کو ایک موقع دے دیتے ہیں۔‘‘ خیام نے وشاء کو سمجھایا۔
پھر وہ چاروں اس بوڑھے آدمی کی طرف بڑھے۔ فواد نے ایک نظر اپنے تینوں دوستوں کی طرف ڈالی پھر وہ اس سے گویا ہوا۔’’ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے تم جیسا کہو گے ہم کریں گے۔‘‘
چند ساعتوں میں وہ بوڑھا آدمی ان چاروں کو بغور دیکھنے لگا پھر گرج دار آواز میں بولا۔
’’جس طرح آگ کے گرد پہلے بیٹھے تھے اسی طرح بیٹھ جاؤ۔ آگ دوبارہ بھڑک اٹھے گی۔ اپنے ادھورے عمل کو پھر سے شروع کردو۔بس اس بات کا دھیان رکھنا کہ جب تک تمہاری آنکھوں میں جلن محسوس نہ ہو تم نے آنکھیں نہیں کھولنی۔ آنکھیں کھولنے کے بعد تمہیں جلتی آگ میں جنات و شیاطین کے بھیانک چہرے دکھائی دیں گے۔ اس وقت بلند آواز میں جو روپ لینا چاہتے ہو وہ سب کہنا لیکن اس سے پہلے ایک اہم بات ہے ۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔
خیام نے پوچھا’’کون سی اہم بات۔۔۔؟‘‘
خوفناک آدمی اپنی گردن کو چاروں طرف گھمانے لگا’’یوں کہہ لو کہ ایک اہم سوال ہے۔۔۔جو میں تم لوگوں کے آنکھیں کھولنے سے پہلے کروں گا۔ اگر وہ جواب ٹھیک ہوا تم نے سچ بولا تو یہ سارا عمل آگے چلے گا اگر جھوٹ بولا تو یہ عمل وہیں رک جائے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ہم اپنا عمل شروع کرتے ہیں۔‘‘ خیام نے کہا اور وہ چاروں آگ کے گرد آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں تو آگ خود بخود بھڑک اٹھی۔
انہیں آگ بھڑکنے کا احساس ہوا تو انہوں نے عمل پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ جوں جوں عمل پڑھتے جا رہے تھے ۔ اردگردکے ماحول سے غافل ہوتے جا رہے تھے۔ ان کا دماغ جیسے ان کے کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی ہرسوچ سے بے نیاز ہو جاتے، بھیانک آدمی کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’اپنے ذہن کی وسعتوں میں اس ایک جذبے کو ڈھونڈو، جس کا احساس دوسرے تمام جذبوں پرغالب ہو۔‘‘
وہ چاروں اپنی سوچ کے دریچوں سے اپنے دل کے محسوسات میں کھو گئے۔
وشاء کی بند آنکھوں سے آنسو نکل کر اسکے رخسار پرچھلک گئے وہ کانپتے لبوں سے بولی۔
’’ساحل میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی۔‘‘ فواد نے کانپتے لبوں سے کہا’’جس زندگی میں وینا نہیں ، مجھے وہ زندگی نہیں چاہئے۔‘‘
خیام اپنے لبوں کو اپنے دل کے محسوسات بتانے سے روک نہیں سکا۔’’اگر میں ایک عام انسان کی طرح جیتا تو اپنی خوشیاں وشاء کی آنکھوں میں ڈھونڈتا۔‘‘حوریہ اپنے آنسوؤں سے بھرے چہرے کے ساتھ چیخ کر بولی۔’’نفرت ہے مجھے محبت کے اس احساس سے، جس کے نام پرلوگ دوسروں کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘
یہ جملے ادا کرتے ہی جیسے ان کی میموری گم ہونے لگی۔ کسی کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کی طرح ان کا برین واش ہونے لگا۔
وہ عمل مسلسل پڑھ رہے تھے، وہ کیا پڑھ رہے تھے کیوں پڑھ رہے تھے انہیں کوئی ہوش نہیں تھی۔ مگرجب ان آنکھوں میں جلن ہونے لگی توانہوں نے آنکھیں کھول دیں۔
ان کی آنکھوں کے سامنے دل دہلادینے والا ایک بھیانک منظر تھا۔ بھڑکتی ہوئی آگ میں جنات و شیاطن کے ہولناک چہرے نمودار ہونے لگے جن کے ساتھ ہی فضا میں خوفناک غرغراہٹوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
(جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں