42

ورلڈکپ میں رہنا ہے تو گرین شرٹس کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں


لندن:(ڈیلی پریس کانفرنس) کیا پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں ایک بار پھر شائقین کو دھوکا دے گی یا گرتی گراتی ٹورنامنٹ کا اختتام دھماکے کے ساتھ کرے گی ؟۔

ویسٹ انڈیز کے بعد آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست نے سینئر بیٹسمینوں کی غیر ذمہ داری کی قلعی کھول دی ہے جبکہ کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پچ پر گھاس تھی ہم نے خراب بولنگ کی، محمد عامر کے علاوہ کوئی بولر پچ سے مدد نہ لے سکا۔

ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ابتدائی چار میں سے دوسرا میچ ہارنے کے بعد پاکستان ٹیم کا سفر مزید مشکل ہوگیا ہے لیکن سیمی فائنل کھیلنے کے لئے گرین شرٹس کو اگلے پانچ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

بقیہ میچز میں پاکستان کے پاس غلطی کی گنجائش بھی نہیں ہے، کپتان سرفراز احمد نے بھی اعتراف کیا کہ اگر ہم نے بڑی ٹیموں کو ہرانا ہے تو کم سے کم غلطیاں کرنا ہوں گی۔

اتوار کو پاکستان کو ٹورنامنٹ کے سب اہم میچ میں روایتی حریف بھارت سے مقابلہ کرنا ہے جبکہ جنوبی افریقا، نیوزی لینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش کو شکست دے کر پاکستان ٹاپ فور میں جگہ بناسکتا ہے۔

اب تک کھیلے گئے چار میچوں میں پاکستان نے واحد کامیابی فیورٹ انگلینڈ کے خلاف حاصل کی جبکہ برسٹل میں سری لنکا کیخلاف میچ بارش کی نذر ہونے سے پاکستان کو ایک پوائنٹ ملا، گرین شرٹس کو پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز اور چوتھے میچ میں عالمی چیمپئن آسٹریلیا نے شکست دی۔

پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالیں تو 10 ٹیموں کے اس ورلڈ کپ میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے، نیوزی لینڈ تینوں میچ جیت کر ٹاپ پر ہے، آسٹریلیا نے چار میں سے تین میچ جیتے، اس طرح وہ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ انگلینڈ نے تین میں سے دو اور بھارت نے بھی اپنے دونوں میچز جیتے ہیں۔

اگلے میچز میں اچھے رن ریٹ کے ساتھ فتح ہی پاکستانی کشتی کو کنارے لگاسکتی ہے، غیر ملکی کوچز اور بڑی تنخواہوں والے سلیکٹرز کی موجودگی میں بھی 15 رکنی ٹیم کی کارکردگی توقعات سے انتہائی کم تر ہے۔

قومی بیٹنگ لائن پر ایک نظر

ورلڈ کپ میں پاکستانی بیٹنگ نے چار میں دو میچوں میں مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے، ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان 105 کے معمولی اسکور پر آؤٹ ہوا جبکہ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں صف اول کے بیٹسمین سیٹ ہو کر غیر ذمے داری سے اسٹروکس کھیل کر آؤٹ ہوتے رہے۔

کسی نے ذمہ داری لے کر میچ کو اختتام تک لے جانے کی کوشش نہیں کی، تجربہ کار بیٹسمین شعیب ملک کی کارکردگی بھی اُن کے معیار سے کم تر ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران شعیب ملک کی بیٹنگ اوسط 29 رنز فی اننگز ہے، جبکہ انگلش سرزمین پر انہیں 14 کی معمولی بیٹنگ اوسط کے باوجود ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔

حارث سہیل کو گیارہ رکنی ٹیم میں شامل نہیں کیا جارہا حالانکہ ان کی گزشتہ ایک سال کی اوسط 49 کی ہے جس میں دو سنچریاں بھی شامل ہیں۔

آسٹریلیا سے شکست کے بعد قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ نے مایوس کیا، کسی بھی بڑے میچ کو جیتنے کے لئے ٹاپ چار بیٹسمینوں کو رنز کرنا ہوتے ہیں لیکن بابر اعظم 30 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، حفیظ اور امام الحق کو اسکور کو آگے لے جانے کی ضرورت تھی۔

فیلڈنگ پر ایک نظر

ٹورنامنٹ میں پاکستان کی فیلڈنگ بھی خراب ہے، آسٹریلیا کے خلاف میچ میں آصف علی نے دو آسان کیچ ڈراپ کیے۔

میچ کے بعد کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ ہم نے غلطیاں بہت زیادہ کیں، ہم نے بولنگ خراب کی فیلڈنگ کا معیار ناقص رہا فنچ کا ڈراپ کیچ مہنگا ثابت ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں