18

نوازشریف کااسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ، دیگر آپشنزپربھی غور ،عدالتی حکم کی صورت میں سابق وزیر اعظم کی واپسی کے حوالے سے تمام مشاورت اور تیاری مکمل


سلام آباد(ڈیلی پریس کانفرنس)مسلم لیگ(ن)کےقائدمیاں نوازشریف کےفیملی ذرائع نےحکومت پاکستان کی جانب سےبرطانوی حکومت کو نواز شریف کی بےدخلی بارےلکھےگئےخط پرکہاہےکہ اگر اسلام آبادہائیکورٹ حکم دے دیتی ہےکہ نوازشریف واپس آجائیں تووہ اگلی پرواز کےذریعےہی وطن واپس آجائیں گے،نواز شریف کےوکلاءنےآئندہ چنددنوں میں اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کابھی فیصلہ کرلیاہےجبکہ دیگر آپشنز بھی زیرغورہیں، نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے تمام مشاورت اور تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت کو نوازشریف کی حوالگی بارے جو خط لکھا گیا ہے اس پر شریف خاندان نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت چاہے تو نوازشریف کو مفرور بھی قرار دے سکتی ہے تا ہم وہ عدالتی فیصلے پر یقین رکھتے ہیں اور جو عدالت کہے گی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ شریف خاندان کےذرائع نے کہا کہ اگر اسلام آباد ہائیکورٹ حکم دے دیتی ہے کہ نوازشریف وطن واپس آجائیں تو وہ بلا تاخیر اگلی ہی فلائٹ کے ذریعے وطن واپس آجائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے تمام مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور تمام تیاریاں بھی کر لی گئی ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا لائرز ونگ آئندہ دو چار دن یا ایک ہفتے کے اندر اندر عدالت سے رجوع کر سکتا ہے جبکہ دیگر تمام آپشنز بھی رکھے گئے ہیں۔دوسری جانب ڈاکٹرز نے بھی تیار کر لی ہے کہ وہ لندن میں برطانوی ہائی کمیشن سے تصدیق کروا کر حکومت پنجاب کو بھیجی گئی تمام رپورٹس بھی عدالت میں سامنےرکھیں گے،اس سے پہلے پنجاب حکومت نےان رپورٹس پرغور کئےبغیر انہیں مستردکردیا تھا۔ذرائع کا یہ بھی کہناہےکہ آئندہ دو سےچاردن میں نوازشریف کی واپسی عدالت سے رجوع کرنےیا لندن میں رہ کر قانونی جنگ لڑنے سمیت تمام معاملات بارے لائحہ عمل سامنے آجائے گا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ شریف فیملی نے ایک مقامی ہوٹل میں صحافیوں کیلئے باقاعدہ پریس بریفنگ کا اہتمام بھی کیا جس میں نوازشریف کے بڑے صاحبزادے حسین نوازسمیت خاندان کے دیگر افراد اور شریف خاندان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی موجود تھے۔اس دوران صحافیوں کو تقریباًدوگھنٹے تک نوازشریف کی صحت کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور ان کی صحت،ادویات کے حوالے سے تمام چیزیں سامنے رکھی گئیں۔ ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران صحافیوں نے آزادانہ سوالات بھی کئے جن کے تفصیلی جوابات بھی دیے گئے،بریفنگ کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔آزادانہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوازشریف مسلسل ہسپتال جا رہے ہیں اور وہ اپنے ٹیسٹ باقاعدگی سے کرا رہے ہیں، گزشتہ روز بھی انہوں نے ٹیسٹ کرائے جس میں ان کا پیٹ سکین ابنارمل آیا جو ان کی صحت کیلئے خطرے کی بات ہے، ان کے دل کی کچھ شریانیں بھی ابھی تک بند ہیں، اس سلسلے میں بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ آئندہ چار سے چھ دن میں سرجری کیلئے ہسپتال داخل ہوسکتے ہیں تا ہم دوسری جانب ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جب تک نوازشریف کے پلیٹلیٹس اپنی جگہ پر نہیں آجاتے وہ کسی بھی قسم کے آپریشن یا سرجری کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں