196

نادان دوست سوچنے بھی نہیں دیتے

ایک زمانے میں جمعہ بازاروں کا بڑا چرچا تھا پھر بدھ بازا ر لگنے لگے اور اب اتوار بازار، ایک اوربازار بھی ان دنوں توجہ کا طالب ہے اور توجہ طلبی میں اپنی حدوں سے باہر تک پھیل رہا ہے اور وہ ہے مشوروں کا بازار ۔
یار لوگ یہ بتانے کے لئے کہ وہ بھی ہیں ایسی ایسی بے پرکی اڑاتے ہیں کہ حیرت کی بھی آنکھیں باہر آنے لگتی ہیں،کالم نگار اور تجزیہ نگار باقاعدہ پارٹی بن چکے ہیں اور اس خوشی اور لذت سے ہی محروم ہو چکے ہیں جو کبھی کالم اور تجزیہ نگاری کی وجہ افتخار تھی ،معروف اور مشہور سیاسی لوگوں کے ساتھ تصاویر بنوانے یا پاور کوری ڈور میں گھومنے والے ایسے چھاتہ بردار وں نے ایسے مشوروں کو اپنا حق جان لیا ہے ،ایسٹیبلشمنٹ کے لوگوں سے متعارف ہونے اور ان کی طاقت اور اثر پذیری کا ذکر کرنے یا کرتے رہنے سے یہ کہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ جو وہ کریں وہ بھی یاروں کا ہی کام تصور کر لیا جائے۔
ایک صاحب اپنی ذاتی محفلوں کے بعد اب اخباری صفحات میں بھی بابا رحمت کو مشورے دینے لگے ہیں کہ اپنے اختیارات کا دائرہ کار پورے پاکستان پر پھیلائیں، ایسی نادانی کی کل بہت بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے اب بابا رحمت یا کوئی اور بابا اس طرح کے مشوروں کو سنجیدگی سے لے بیٹھا اور اپنی حدوں کو خود ہی بڑھانے پر آمادہ ہو گیا تو یہ ملکی بربادی کا بہت ہی نادر نسخہ ہوگا ،کسی دشمن کو ہاتھ ہلانے کی بھی حاجت نہ رہے گی ۔
معاف کیجئے بابا رحمت نے کئی ماہ سے اپنے معمول کے کام چھوڑ کر صرف سیاسی کیس سننے اور سخت الفاظ کے ساتھ سیاست دانوں اور افسروں کی گوشمالی کا جو کام سنبھالا ہوا ہے اس کے اثرات ہمیں کئی دہائیوں تک دیکھنے کو ملیں گے ۔
آپ کو یاد ہو گا پہلے مارشل لاکے فضائل بیان کرنے والے آج بھی قصائیوں کی دکانوں پر جالیاں لگوانے کو عظیم کارنامہ گنواتے اور سیاست دانوں کو شرمندہ کرتے ہیں کہ تم تو جالیاں تک لگوانے کی بصیرت سے محروم ہو ،یہ کام ہمیں آکر کرنا پڑا ،ابھی عدالت روزانہ کی بنیاد پر جو بیان جاری کر رہی ہے اور جس حوالے سے مسلسل تبصرے اور بیان شائع ہو رہے ہیں ،وہ پینے کے پانی ،دودھ اور صحت سے متعلق عدالتی پریشانی لئے ہوئے ہے ،اسے کبھی بھی نہ تو کوئی کارنامہ گنا جائے گا اور نہ اپنی عدالتی حدود سے نکل کر کھیلنے کو کوئی مستحسن قدم اور اچھا حوالہ بنایا جاسکے گا ،ایسی کوششیں ماضی قریب میں جسٹس افتخار چوہدری زیادہ زور و شور سے کرتے رہے ہیں اور ان کی رخصتی والے دن ہم سب نے انہیں چند گھنٹوں کے اندر ہیرو سے زیرو بنتے دیکھا اور حالت یہ ہے کہ فراغت کے بعداپنی ذاتی سیاسی جماعت بنانے اور اسے جسٹس پارٹی کہنے کے باوجود پذیرائی کی پ کا ایک نقظہ بھی پورے ملک سے ان کے ہاتھ نہیں لگا ۔یہی اصل سچائی ہے ،چاہے سابق عسکری قیادت ہو یا عدالتی فضیلت ،ریٹائر منٹ کے بعد اکثر دونوں ہاتھ ملتے ہی نظر آئے ہیں۔

ملک اور معاشرے قوانین ،اصولوں اورآئین سے چلتے ہیں ،طاقت کے کسی بھی سر چشمے کے اوپر اپنی سرکاری نوکری کی وجہ سے بیٹھنے والوں کو یہ اختیار کسی بھی قانون میں نہیں دیا جاتا کہ وہ من مرضی کریں یا کسی اور کی خوشی اور خواہش کی تکمیل کریں، جنرل (ر) پرویز مشرف پر یہی کیس عدالت میں زیر سماعت ہے کہ انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور بار بار کیا ،جن سیاسی اور سماجی یا عسکری افراد نے تب ان کو ہلہ شیری دی تھی ان میں سے کوئی ایک بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑا حتیٰ کہ وہ بھی جو انہیں وردی سمیت دس باد صدر بنوانے کے دعوے کیا کرتے تھے ،جونہی عوام کو اپنا حق استعمال کرنے کا موقع ملا ،ایسے مشوروں اور بیانوں کو ماضی کا حصہ بناتے صرف ایک دن لگا تھا اور اس کے بعد جمہوری اور سیاسی داستانوں میں ان کی کوئی داستان بھی باقی نہیں ہے۔کہا جا رہا ہے اشتہاروں پر سیاسی لوگوں کی تصویریں کیوں لگائی جاتی ہیں۔

سیاسی لوگ سرکاری ملازم نہیں ہوتے ،وہ جس کام کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں وہ یہی منصوبے اور عوامی فلاح کے کام ہوتے ہیں ،ان کاموں کو کرنے کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں سرکاری ملازم موجود ہوتے ہیں جو عمر بھر صرف کام نہ کرنے کی راہیں ڈھونڈتے ہیں، یہ سیاسی لوگ ہی ہوتے ہیں جو یہ منصوبے بناتے اور ان پر عمل کرواتے ہیں ،غیر جمہوری ادوار میں ساری سرکاری مشینری موجود ہو تی ہے اور غیر سیاسی طالع آزماوں کے لئے جلسوں جلوسوں پوسٹروں اور بالکل؛ ایسے ہی اشتہاروں کا ہی نہیں بے وفا سیاسی کارکنوں کو ان کی پارٹیوں سے توڑ کر لانے کا کام بھی کرتے ہیں،سڑکوں اور منصوبوں پر ایسے ہی بورڈ لگائے جاتے ہیں اور ایسے ہی تصاویر بنائی جاتی ہیں ،تب تو کسی کو یہ دلیل نہیں سوجھتی کہ یہ سرکاری تنخواہ لینے والوں کے ناموں پر منصوبے کیوں بنائے جاتے ہیں ،سب سے مزے کی اور بے سری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے ٹیکسوں سے یہ سارے کام کئے جاتے ہیں ،یہ کہنے والوں کی بڑی ہمت ہے کہ ایسا جملہ لکھ جاتے ہیں ،مجال ہے کبھی ٹیکس کے نام پر خود کچھ دیا ہو ،یہ تو ہوٹل کا بل تک رسید کے بغیر دینے پر اصرار کرتے ہیں، تاکہ سترہ فیصد سیلز ٹیکس نہ دینا پڑے۔ یہ منصوبے تو ویسے بھی بیرونی قرضوں سے پورے کئے جاتے ہیں، ٹیکس کہاں سے آگئے ،ویسے ہم یہ کیسے اور کیوں بھول جاتے ہیں کہ تصویر دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹیوں کے کرنے کا ہے نہ کہ عدالتوں کا ۔

عدلیہ کا مزاج اور رجحان دیکھ کر ایسے نادان دوستوں کی ایک پوری پنیری سامنے آئی ہے جو روز کی بنیاد پر عدلیہ کو باور کراتی ہے، درخواستیں دیتی ہے کہ مائی باپ آپ کی توہین ہو گئی ہے اور آپ کو پتا ہی نہیں چلا۔

انہیں روکیں گے تو آپ کا وقار بڑھے گا ورنہ عدلیہ کے پورے ادارے کو بے توقیر کر نے کے اپنے مشن مکمل کر نے میں انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہو گا ، اسی طرح جوچھاتہ بردار کالم نگا اور تجزیہ نگار صاحبان عقل بن کربڑی نادانی کے ساتھ عدلیہ کو مشورہ دینے نکلے ہیں کہ آگے بڑھ کر اپنی حدود بڑھا لیں،بظاہر تو یہی لگتا ہے آنے والے دنوں میں انہی کی باتوں پر زیادہ کان دھرے جائیں گے ، پھر بھی ڈرتے ڈرتے یہ پوچھنے کو دل چاہتا ہے کہ کہیں یہ اسی مشورے کا نتیجہ تو نہیں ہے کہ منصف اعلیٰ کا یہ بیان پڑھنے کو ملا ہے کہ ہم بیوروکریسی کو دوسرے صوبوں میں بھیج دیں گے ،حضور ،ایک لمحہ ٹھہریے ، انہیں نکال دیں یا سمندر پاربھیج دیں یا گھروں میں بٹھا دیں، یہ عبوری حکومت کا اختیار ہوگا آپ کا نہیں ،آپ عدلیہ ہیں مقننہ اور انتظامیہ نہیں ،اپنی اپنی حد میں رہنا ہی ملک کی بقا ہے ورنہ یہاں تماشہ بنتے کون سی دیر لگتی ہے۔

پرانے چیف نے پریزائڈنگ افسروں سے اپنی حد سے نکل کر ایک خطاب فرمایا تھا آج تک انہیں زرداری اور نیازی صاحب اس پر برا بھلا کہتے ہیں کہ انہوں نے انتخابی نتائج چوری کرنے کی کوشش کی تھی،یہ بھلا کونسی عقل مندی ہو گی کہ2018 ء کا الیکشن جیتے کوئی اور الزام کوئی اور سہے ۔۔ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ دیوار پر صاف لکھا ہوتا ہے مگر نادان دوست ایسا سوچنے بھی نہیں دیتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں