329

محبتِ حقیقی

انسان اپنی شعوری عمر سے لے کر حواس باختگی کے عالم تک اگر کسی چیز کی اطاعت کرتا ہے تو وہ صرف اس کا نفس ہے ہاں اس کے رنگ مختلف ہیں نفسانی خواہشات کے بت پر کبھی تو نیکی کا رنگ چڑھا دیا جاتا ہے اور کبھی اجتماعی مفاد و انسانیت کی علمبرداری کا،مگر انسان کے دلفریب دجل کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اپنے مفادات کا ہی پجاری رہتا ہے انسان کے مفاد کی انتہا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان خدا سے اب تک اپنے مفادات کی تکمیل کی التجا ہی کرتا رہا ہے کبھی اسے بہترین رزق چاہئے اور کبھی دنیاوی قدر و منزلت اور کبھی روحانی اضطراب سے نجات، مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تاریخ کے مطالعے کی منتج تحقیق کی رو سے انسان سے خدا کا تعلق محض مفاد کا ہی رہا ہے اور یہ ہم انسانوں کا ایک دیرینہ اور مستقل المیہ ہے ہاں انسانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جس کی دیوانگی صرف ذاتِ حق کی جستجو، یعنی محبتِ حقیقی پر منحصر ہوتی ہے گوکہ ایسے نفوس اب چراغ لے کر بھی نہیں ڈھونڈے جا سکتے، مگر کچھ تو باقی ہے، جس کی بنیاد پر نظامِ کائنات قائم ہے۔
بدھ نے کہا تھا کہ زندگی دکھ ہے گوتم بدھ واحد انسان تھے، جنہوں نے براہِ راست خدا کی جستجو کی بات نہیں کی،بلکہ اپنے نفس کو اس قدر پاکیزہ کرنے کی ہدایت کی کہ ذاتِ انسانی میں خدا خود جلوہ گر ہو جائے اس مقام کی سب سے بہترین تفسیر سائیں کبیر داس بیان کر گئے ۔
اپنے گریبان میں جھانک کر ذرا ایک پل کے لئے سوچیں کہ کیا ہم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایک ساعت کے لئے بھی خدا سے خدا کی جستجو رکھی، نہیں، کیونکہ ہم دنیاوی بکھیڑوں سے فراغت ہی حاصل نہیں کر پاتے یہ تو ظرف ظرف کی بات ہوتی ہے ہر انسان اپنے ظرف کے مطابق خدا سے تعلق رکھتا ہے کس قدر عظیم ترین ہیں وہ نفوس جن کے سینے خدا کی طلب سے مضطرب ہیں، جن کے پاس خدا کی طلب کے سوا کوئی درد نہیں، جن کی آنکھیں صرف خدا کی جستجو میں تر رہتی ہیں دُنیا کا کیا ہے کم پر قناعت عام انسان کے بس کا روگ ہی نہیں بہت کرتے کرتے ایک دن ہم خود ہی مٹی کے ڈھیر تلے آ جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت کبھی نہیں ہوتا ہمیشہ کم ہی رہتا ہے یہاں کے اندھے بلاشبہ آگے چل کر بھی اندھے ہی رہیں گے جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے ’’ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخر اعمی واضل سبیلا‘‘ ، جو دنیاوی زندگی میں اندھا رہا ،یعنی جو انسان اس زندگی میں خدا کی بصیرت سے بے بہرہ رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا،بلکہ اندھے سے بھی بدتر ” ایمان کا اقرار چاہے لسانی ہو یا قلبی جب تک یہ اقرار حضوری کے مقام پر فائز نہیں ہو جاتا انسان مشاہدہِ حق سے محروم ہی رہتا ہے اسی مقامِ ارفع کو ہماری صوفیانہ اصطلاح میں ’’اعتبار ‘‘کہا جاتا ہے ۔
یقین،جو اپنے اصل میں اعتبار ہی کی ابتدائی اشکال میں نمودار ہوتا ہے چار درجات پر مشتمل ہے توہم الیقین، علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین، توہم الیقین عوام الناس کا یقین ہے، جس کی کوئی علمی بنیاد ہوتی ہے نہ ہی مشاہداتی، اس کے بعد علم الیقین کا درجہ ہے جس کی بنیاد عقلی بصیرت پر قائم ہوتی ہے یہ یقین کا خام، مگر روشن مقام ہے جہاں پر انسان علم کی بنیاد پر خدا سے محبت، یعنی یقین کا مدعی ہوتا ہے عین الیقین معرفت کا مقام ہے، جہاں پر ایک عالم سالک کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور خدا سے محبت کی عارفانہ بنیاد پا لیتا ہے یقین کا یہ درجہ بھی اکملیت سے منہا ہوتا ہے یقین کا حتمی مقام جسے ہم حق الیقین سے تعبیر کر چکے ہیں دراصل مشاہدہِ حق کی بنیاد پر قائم کیا گیا کامل یقین ہوتا ہے، یعنی دیدارِ الٰہی جسے ہم قرآنی اصطلاح میں مقامِ مومن بھی کہہ سکتے ہیں یہ وہ مقام ہے۔

،جہاں پر شہادتِ اْلوہیت و نبوت مشاہداتی رستوں سے گزر کر ایک کامل و اکمل یقین کی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے ہم محبتِ حقیقی سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں سے پھر عظیم ترین اور دقیق ترین صوفیانہ شہادت وحدت الوجود واقع ہوتی ہے پس وحدت الوجود کوئی فلسفیانہ تخمینہ یا ماورائے تجربہ نظریہ نہیں،بلکہ مشاہدۂ حق کا وہ حتمی و تکریمی مقام ہے،جس کا ادراک صاحبِ وحدت الوجود کے سوا کوئی نہیں کر سکتا، کیونکہ تصوف نام ہے تجربات و مشاہدات کا اور بغیر تجربہ کے کسی کو اس تجربے کا علم یا بصیرت دینا لا، یعنی و تضیعِ اوقات ہی ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی کو چینی کے ذائقہ کے متعلق حقیقی علم فراہم کیا جا سکے، جب تک کہ وہ خود چینی کھا کر اس کا کامل ادراک نہیں حاصل کر لیتا تصوف پر تنقید کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان ان تجربات و مشاہدات کے متعلق لب کشائی کرنے لگتا ہے، جس کے متعلق وہ ظاہری علم تو رکھتا ہے، مگر نورِ تجریب سے محروم رہتا ہے پس خدا سے تعلق علم، آسائش، مشقات و احتزارات سے قائم نہیں ہو سکتا۔

اس کے لئے بنیادی قرآنی اصول تزکیہ نفس چاہئے ہے جسے ہم تصوف سے تعبیر کرتے ہیں اور جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے’’قد افلح من تزکی، کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا‘‘ نفس کی پاکیزگی علم و مشقت سے ممکن نہیں،بلکہ رویہ میں گہری تبدیلی سے واقع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس سارے پروسیجر کو صوفیانہ اصطلاح میں منازلِ سلوک کہتے ہیں،یعنی انسانی رویہ میں منفیات کا سدِ باب ہی دراصل اعلی اخلاقی صفات کو پروان چڑھا سکتا ہے جیسا کہ قرآن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خدائی اعلان ’’انک لعلی خلق عظیم‘‘صوفیانہ منہج پر مہر ثبت کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں