7

سیاسی افراتفری

جس ملک کے سیاست دان مخالف سیاسی جماعتوں کے ٹوٹنے پر نظر رکھتے ہوں اور پھر مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹوٹے ہوئے ’’ستاروں‘‘ سے اپنی ’’سیاسی مانگ‘‘ سجانے پر ایمان رکھتے ہوں، ہمیں یہیں سے ان سیاسی رہنماؤں کے سیاسی ایمان کا اندازہ لگا لینا چاہئے کہ یہ کتنے نظریاتی اور جمہوری ہیں۔۔۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت مشکل میں ہے اور اسے گرانے کے لئے اب آخری داؤ لگائے جا رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے اراکین اسمبلی کے ضمیر جاگنا شروع ہو چکے ہیں۔
ہر صبح ہمیں کوئی نہ کوئی ’’کلمہ حق‘‘ پڑھتا نظر آتا ہے۔ ملتان کے اردگرد کے چند سیاست دانوں نے تو اتنی جلدی کلمہ حق کے ساتھ آواز بلند کی ہے کہ وہ جلدی جلدی میں یہ بھی بھول گئے کہ ان کے وسیب کے لوگ ’’جنوبی پنجاب‘‘ کے نام سے نہیں، بلکہ سرائیکی صوبہ کے نام سے ایک علیحدہ صوبہ چاہتے ہیں مگر چونکہ انہیں اتنی جلدی ’’کلمہ حق‘‘ پڑھایا گیا ہے اور اس ماحول میں پڑھایا گیا ہے کہ وہ بے چارے بدحواسی میں نجانے کیا کیا بول گئے اور مزید بولیں گے۔ یہ سیاست دان گزشتہ پونے پانچ سال سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے تابعدار تھے۔
انہیں جنوبی پنجاب کے علاقے کے مسائل کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں تھی، انہیں ہر طرف ہریالی اور خوشحالی نظر آتی تھی،انہیں ملتان سے میانوالی تک معاشی ترقی نظر آتی تھی۔
تعلیم کے حوالے سے بھی یہ بضد تھے کہ سرائیکی ’’وسیب‘‘ میں جگہ جگہ ’’آکسفورڈ‘‘ کے معیار کے سکول کھل گئے ہیں، صحت کے حوالے سے فرماتے تھے کہ اب کسی بھی شخص کو امریکہ یا لندن جانے کی ضرورت نہیں ہے، وہ تمام سہولیات جو بیرون ملک حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ تمام تر وسائل وسیب کے چپے چپے میں موجود ہیں مگر اب پونے پانچ سال بعد فرما رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ’’سرائیکی وسیب‘‘ کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اس کے وسائل بھی چھین لئے گئے ہیں اور علاقے کے ترقیاتی فنڈ لاہور میں لگائے جا رہے ہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ یہ خیال انہیں پونے پانچ سال کے بعد کیوں آیا؟ پونے پانچ سال تک یہ لوگ خاموش کیوں رہے۔ کیا مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انہیں ’’کلاشنکوف‘‘ کے سائے میں لے رکھا تھا؟ اگر ایسی صورت حال تھی تو پھر کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ انہیں قیادت کے منصب پر بٹھایا جائے؟

میرے خیال میں ایسی بزدل سیاسی قیادت کو پورے سرائیکی وسیب میں گدھوں پر بٹھا کے پھرایا جانا چاہئے، جن میں اتنی قومی غیرت بھی نہیں ہے کہ وہ پونے پانچ سال تک قوم کے حقوق پر ڈاکہ ڈلتے دیکھتے رہے، لیکن؟

معاملہ کچھ اور ہے اور در حقیقت مسلم لیگ (ن) کو ’’سیاست بدر‘‘ کرنے کی مہم بہت پرانی ہے۔ پہلے اس جماعت کو دھرنے کے نیچے مارنے کی کوشش کی گئی، یہ وار ناکام ہوا تو پھر ’’احتسابی‘‘ چھڑی سے کام لیا گیا ۔۔۔ اور ’’انصافی‘‘ قلم سے نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ خیال تھا کہ نوازشریف گیا؟ مگر نااہل نوازشریف عوامی سطح پر پہلے سے زیادہ ’’اہل‘‘ بن کے ابھرا۔۔۔ اور سب کو یہ پیغام دے دیا گیا کہ اگر نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کا کوئی ’’آخری بندوبست‘‘ نہ کیا گیا تو آئندہ الیکشن میں اس کا راستہ روکنا مشکل ہے۔

سو آخری بندوبست کے طور پر مسلم لیگ (ن) کے ’’پرندے‘‘ اڑائے جا رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈر انہیں اپنے اپنے ’’ڈربوں‘‘ میں بند کرنے میں لگے ہوئے ہیں بلکہ بعض سیاسی جماعتوں نے تو ’’ہاتھ‘‘ کھڑے کر دیئے ہیں کہ انہیں کسی اور انداز میں میدان میں اتارا جائے کیونکہ ہمارے ’’ڈربوں‘‘ میں پہلے ہی گنجائش کم ہے اگر ان کو بھی جگہ دے دی تو ہمارے ڈربوں میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے لڑتے لہولہان ہو جائیں گے۔

سو اس بندوبست کے تحت ’’ملتان‘‘ ٹائپ سیاست دان سامنے لائے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے سیاست دان دیگر علاقوں میں بھی عنقریب منظرعام پر آئیں گے،یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں کیا جا رہا ہے مگر سنجیدہ حلقوں کے نزدیک یہ ایک عارضی بندوبست ہے۔

مقبول سیاسی جماعتوں اور قیادت کو اس طرح ’’سیاست بدر‘‘ کرنے سے پاکستان مضبوط نہیں ہو سکتا، پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے ملک گیر سیاسی جماعتوں کو توڑنے کی نہیں بلکہ انہیں عوام کے ساتھ جوڑنے اور جڑے رہنے کا موقع دیا جانا چاہئے، ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ پیپلزپارٹی جو ایک ملک گیر سیاسی جماعت تھی، اسے توڑنے کی کوشش کی گئی اور آہستہ آہستہ اس کے کردار کو محدود کر دیا گیا، یہ ملک گیر جماعت اس وقت بظاہر ملک گیر سطح پر اپنی پہچان ضرور رکھتی ہے مگر درحقیقت اس کا سیاسی اثر و رسوخ سندھ کے دیہی علاقوں تک محدود ہے۔ قومی سطح پر اس کا وہ ’’دبدبہ اور کردار‘‘ باقی نہیں رہا۔

مسلم لیگ (ن) ایک بڑے صوبے میں وجود رکھتی ہے، سو کہا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت اس وقت سب سے بڑی قومی جماعت ہے۔ تحریک انصاف بھی ایک قوت بن کے ابھری ہے۔

کے پی کے میں حکومت بنانے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں اس جماعت نے اپنی طاقت بڑھائی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف بڑی جماعتیں ہیں، تو پھر مقابلہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہونا چاہئے اور کسی ’’بندوبست‘‘ کے تحت تحریک انصاف کو آگے اور (ن) لیگ کو پیچھے نہیں کرنا چاہئے۔

نوازشریف اگر کرپٹ ہیں تو پورے ملک میں لوگ اس بات سے آگاہ ہیں، اب اگر وہ عوامی سطح پر اپنے لئے کوئی رول ادا کرنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں رول ادا کرنے دیا جانا چاہئے۔

ان کے مخالف اگر سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کو قیادت کا کوئی حق نہیں ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ عوام کو قائل کریں کہ نوازشریف کسی بھی طرح کی قیادت کے لئے اہل نہیں ہیں۔

نوازشریف کے مخالف سیاست دانوں کو اپنے الفاظ میں ایسی تاثیر پیدا کرنی چاہئے کہ لوگ ان کے کہے پر ایمان لے آئیں مگر توڑ پھوڑ کرکے انہیں کمزور کرنے سے ممکن ہے کہ وقتی طور پر مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے جائیں مگر میرا نہیں خیال کہ یہ طریقہ ملکی سیاست کے لئے کوئی مثبت نتائج لا سکتا ہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں