42

سپریم کورٹ ،پاک ترک سکول حوالگی سے متعلق نظرثانی کی اپیل خارج


اسلام آباد(ڈیلی پریس کانفرنس)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاک ترک سکول حوالگی سے متعلق کیس میں پاک ترک سکول کی نظرثانی اپیل خارج کردی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ترک حکومت اور عدلیہ تنظیم کو دہشتگرد قراردے چکی ہے،حکومت پاکستان ترک حکومت کے ساتھ ہے۔

ضرور پڑھیں: صدارتی نظام لانے کی کوشش کی گئی تو روکیں گے، آصف زرداری
(ڈیلی پریس کانفرنس) کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاک ترک سکول حوالگی سے متعلق کیس میں پاک ترک سکول کی نظرثانی اپیل کی سماعت ہوئی،وکیل پاک ترک سکول نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی دہشتگرد تنظیم فنڈنگ نہیں کررہی بلکہ ترک عوام فنڈ دے رہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ترک حکومت اورترک سپریم کورٹ بھی اس تنظیم کو دہشتگرد قرار دے چکی ، حکومت پاکستان ترک حکومت کےساتھ ہے، دیگر 40 ممالک بھی ان سکولوں کو بند کرچکے ہیں۔
وکیل پاک ترک سکول نے کہا کہ ملائیشیا میں ان سکولوں کو بند نہیں کیا گیا،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ پھر ملائیشیا چلے جائیں،کیا آپ نام بدل کر لوگوں کو دوبارہ بیوقوف بنانا چاہتے ہیں،ایسے تو دیگر دہشتگرد تنظیمیں بھی پاکستان میں ادارے کھولنا شروع کردینگی۔

ضرور پڑھیں: چین کی پاکستان میں سستے گھروں کے پلانٹ لگانے کی پیشکش، وزیراعظم کو خوش کردیا
وکیل پاک ترک سکول نے کہا کہ پاکستان کی وزارت داخلہ اور خارجہ نے تنظیم کی منظوری دی تھی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ابھی وزارتوں نے عدالت میں آکر کہا کہ یہ دہشتگرد تنظیم بن چکی ہے، اس تنظیم کے ذریعے منی لانڈرنگ،دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کی جارہی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ ایک دہشتگرد تنظیم کا عدالت میں آکر دفاع نہیں کرسکتے،سپریم کورٹ نے پاک ترک کی نظرثانی اپیل خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اپیل قابل سماعت نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں