192

سٹیفن ہاکنگ اور جان لیوا خواہشات

پانچ روز پہلے میں نے ‘معروف برطانوی سیاستدان’ سٹیفن ہاکنگ کے انتقال کی خبر ایک ٹی وی چینل کے نیوز بلیٹن میں سنی تو مجھے نیوز اینکر پر اس لیے غصہ نہیں آیا کیونکہ اسے بھی یقین نہیں ہوگا کہ سیاستدانوں کے علاوہ کسی سائنسدان کی موت بھی نیوز ہیڈ لائن ہو سکتی ہے، لہٰذا اس نے اپنے تئیں تصحیح کر کے سائنسدان کی جگہ سیاستدان پڑھ دیا ہوگا۔

لیکن اسی روز کراچی پریس کلب میں ایک نوجوان صحافی نے سٹیفن ہاکنگ کی زندگی کو ایک جملے میں سمو کر توتے اڑا دیے۔
‘میں نے سنا ہے کہ وہ خدا کا منکر تھا اسی لیے اللہ نے اسے نشانِ عبرت بنا دیا۔ ایک انگلی بھی نہ ہلا سکتا تھا۔ زندگی بھر ویل چئیر پر رہا۔’
میں نے پوچھا علامہ خادم حسین رضوی ویل چئیر پر کیوں ہیں؟
خود سٹیفن ہاکنگ کو بھی اپنے یا اپنے طبیعاتی و فلکیاتی کام کی پذیرائی کے بارے میں کبھی کوئی خوش فہمی نہیں رہی۔

تیس برس قبل شائع ہونے والی سٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘اے بریف ہسٹری آف ٹائم’ نے اگرچہ ہاکنگ کو عالمی پاپولر کلچر کا حصہ بنا کے اہلِ جستجو کے ذوقِ علم کو مہمیز بھی کیا مگر ایک کروڑ سے زائد کاپیاں بکنے کے بعد بھی ایک ناقد کی یہ رائے کتاب کے برابر مشہور ہوئی کہ ‘اے بریف ہسٹری آف ٹائم سب سے مقبول سائنسی تصنیف ہونے کے باوجود سب سے کم پڑھی اور سمجھی جانے والی کتاب ہے
خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر سٹیفن ہاکنگ کا تذکرہ خوب رہا اور نیوز چینلز نے پانچویں ، چھٹی، ساتویں ہیڈ لائن میں سہی مگر انتقال کی خبر کو جگہ ضرور دی۔

حتی کہ پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر تعزیت کا پیغام جاری ہوا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر سٹیفن ہاکنگ کا تذکرہ خوب رہا اور نیوز چینلز نے پانچویں ، چھٹی، ساتویں ہیڈ لائن میں سہی مگر انتقال کی خبر کو جگہ ضرور دی۔

حتی کہ پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر تعزیت کا پیغام جاری ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں