14

سانحہ چونیاں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملزموں کی اطلاع دینے والوں کو کتنا انعام دینے کا اعلان کر دیا؟ جانئے


لاہور(ڈیلی پریس کانفرنس)وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے سانحہ چونیاں کے ملزمان کے بارے میں اطلاع دینے والے فرد کو 50 لاکھ روپے انعام دینے کا علان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اطلاع کنندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا،ایسے واقعات کسی صورت میں برداشت نہیں کئے جا سکتے، روزانہ کی بنیاد پر کیس پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لے رہاہوں، ملزم قانو ن کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز دورہ چونیاں کے موقع پر میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سردار عثمان بزدار نے بتایا کہ چونیاں میں ڈولفن پولیس تعینات کر دی گئی ہے اور سپیشل برانچ کی نفری بھی بڑھائی جا رہی ہے جبکہ قصور میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو فعال کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کریں گے اور جن افسروں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے انہیں چارج شیٹ کرکے دوبارہ پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔وزیر اعلی نے کہا کہ قصور میں بد قسمتی سے ایسے واقعات پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں لہٰذا ایسے واقعات کی روک تھام اور ملزموں کو عبرتناک سزا دلوانے کیلئے موثر قانون سازی ضروری ہے۔وزیراعلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون سازی ایسی ہونے چاہیے کہ سسٹم خود بخود کام کرے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ نے چونیاں کی مسجد میں مقتول بچوں کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے ملزموں کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعلی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مقتول بچوں کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ وزیر اعلی عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اندوہناک واقعہ پر ہر آنکھ نمناک ہے جبکہ آپ کو انصاف فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے اور میں اس فرض کو ہر صورت نبھاو¿ں گا۔ انہوں نے کہا کہ غمزدہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت اور دیکھ بھال کریں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ملزموں کی جلد از جلد گرفتاری کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے تفتیش کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے،ملزموں کو نشان عبرت بنائیں گے۔علاوہ ازیں چھانگا مانگا میں خصوصی اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو سانحہ چونیاں سے متعلق کیس پر پیشرفت سے آ گاہ کیا گیا۔وزیراعلی نے چونیاں سے لاپتہ بچے عمران کا جلد سراغ لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ٹیسٹ کیس ہے جسے جلد منطقی انجام تک پہنچایاجائے گا۔مزید برآں عمرہ کی ادائیگی کے بعد لاہور واپسی پرجمعرات کو رات گئے ائیرپورٹ پر منعقدہ اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بچوں کے بہیمانہ قتل کے واقعہ پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتول بچوں کی بازیابی کیلئے جدید انداز سے تفتیش کی جاتی تو ایسے اندوہناک واقعہ سے بچاجاسکتا تھا۔جن کے پیارے بچے دنیا سے چلے گئے اس کا دکھ وہی جانتے ہیں۔خدا نخواستہ یہ واقعہ ہمارے بچے سے ہو تو ہم پر کیا بیتے گی۔بار بار ایسے واقعات پولیس کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے،پولیس نے بچوں کی گمشدگی کے باوجود فوری اقدامات نہیں کئے- انہوں نے کہا کہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا- میں کسی نا اہل افسر یا اہلکار کو برداشت نہیں کروں گا اور غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب ہوگا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کو چونیاں میں بچوں کے قتل کے افسوسناک واقعہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ سپیشل برانچ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہو گا جبکہ پولیس کو ٹھیک کرنے کیلئے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف معطلیاں کافی نہیں بلکہ غفلت اور کوتاہی برتنے والوں کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا لہٰذا اب کسی سے کوئی رعائت نہیں ہو گی۔وزیراعلیٰ نے بچوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو جلد سے جلد گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ملزمان کی گرفتاری چاہیے، زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں