33

ریلوے میں آدھی تنخواہ محکمے کر دے کر نوکریاں کرنے کا انکشاف، شیخ رشید نئی مشکل میں پھنس گئے


اسلام آباد(ڈیلی پریس کانفرنس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریلوے میں گھوسٹ ملازمین ہیں جو آدھی تنخواہ محکمے کو دے کر نوکریاں کررہے ہیں اور نئی نوکریاں حاصل کرنے کیلئے تین سے چار لاکھ روپے کی رشوت مانگی جارہی ہے۔

ضرور پڑھیں: وفاقی دارلحکومت میں 10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریلوے میں 10,183بھرتیاں کی جائیں گی جس پر 2ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔کمیٹی نے ملک بھر میں ریلوے پھاٹک،نئی بھرتیوں، نئی چلنے والی ٹرینوں کی آمدنی اور ریلوے خسارہ کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی محمدمعین وٹو کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ رکن کمیٹی امجد علی خان نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ ریلوے میں ایسے ملازمین ہیں جو کام پر نہیں آتے اور آدھی تنخواہ محکمے کو دے کر نوکری کررہے ہیں اور نئی نوکریوں کے لئے تین سے چار لاکھ روپے فی نوکری مانگے جارہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نوکریاں دینے سے ریلوے پر بوجھ پڑے گا جو برداشت نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو ضروری ملازمین ہیں انہیں بھرتی کیا جائے جن کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ گینگ مین اور معاون جو 7سے 8ہزار بھرتی کیے جارہے ہیں انکو نہ رکھا جائے جو ادارے پر بوجھ بن جائیں اور نوکریاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر دی جائیں اور بتایا جائے کہ یہ بھرتیاں کرنے کی وجہ سے ریلوے پر کل کتنا بوجھ پڑے گا۔ ریلوے کو میرے دور میں 125موٹر سائیکل دئیے گئے تھے وہ کدھر گئے ہیں۔ ریلوے حکام بتائیں کہ ملک بھر میں لیول کرانسنگ کی کیا صورتحال ہے۔ ریلوے کی زمین 25سے 33سالہ لیز پر دی جانی چاہیے اس سے کم لیز پر دینے سے ریلوے کو ار بوں روپے کا نقصان ہوگا۔ریلوے حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ ریلوے میں 95ہزار 902اسامیاں ہیں جس پر 72,259لوگ کام کررہے ہیں۔ پانچ برسوں کے دوران 21ہزار 234لوگ ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور آئندہ پانچ برسوں کے دوران مزید 9ہزار ملازمین ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر کی قیمت میں اضافے پر مفتی تقی عثمانی میدان میں آ گئے ، عوام کیلئے زبردست پیغام جاری کر دیا
ریلوے میں دس ہزار ایک سو تراسی نئی بھرتیاں کی جارہی ہیں جن پر دو ارب پچاس کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کل 21ہزار 234ملازمین ریٹائرڈ ہوئے ہیں جبکہ 6ہزار 271لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو بھرتی کررہے ہیں جن کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے سکھر ڈویڑن میں ٹرینیں پٹری سے اتر جاتی ہیں۔ کوئی بندہ بھی رشوت لے کر بھرتی نہیں کرسکے گا۔۔ آئی جی ریلوے نے بتایا کہ ریلوے سٹیشن کے قریب جو ریلوے کی زمین پر جو قبضہ ہوتا ہے وہ ہم خود ہی فوری طور پر ختم کروا دیتے ہیں باقی ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے بتانے پر ہی آپریشن کیے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں