330

رمضان المبارک مواخات کا مہینہ

نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کا پہلا عشرہ کل رخصت ہو جائے گا۔ کئی دن پہلے سے بابرکت ماہ کی آمد کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ استقبال رمضان کے پروگرامات منعقد ہو رہے تھے۔ نیکیوں کے موسم بہار کی اہمیت افادیت پر روشنی ڈالی جا رہی تھی۔ اس مبارک ماہ میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ایک نیکی کا ثواب کئی کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے اسی لئے فرمایا ہے بدقسمت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا بابرکت مہینہ اپنی زندگی میں پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا۔ ہم بڑے خوش نصیب ہیں۔ ہم نے ایک دفعہ پھر اپنی زندگیوں میں اس مبارک ماہ کوپا لیا ہے۔اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیں کتنے ایسے ہمارے دوست عزیز و اقارب ہیں جو گزشتہ سال تھے اس سال ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ مدینہ منورہ کے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم ہونے کے بعد چشم عالم نے دیکھا تھا۔ روزہ کی حالت میں بندوں پر بھوک پیاس طاری کرکے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں غربا و مساکین کے لئے نرمی اور رحم دلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ معاشرے کے کمزور اور غریب طبقہ کی ضروریات کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔ حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں روزہ امیروں کو بھوک کی تکلیف کا احساس دلانے کے لئے ہے تاکہ وہ غریبوں کو اپنا حصہ دار بنائیں۔ حضرت ابن عمرؓ کی اس روایت سے اندازہ ہوتا تھا۔ جس میں یہ بیان ہے جب تک مومن اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ اللہ تعالٰی اس کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے۔ پڑوسی کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی انہی روایات کا حصہ ہے۔ صدقہ کے ذریعے روزوں کی پاکی اور غریبوں کے لئے کھانا کی فراہمی مقصود ہے۔ ایک فرد جب دوسرے افراد کا خیال کرتا ہے۔ایک خاندان دوسرے خاندان کا خیال کرتا ہے۔ ایک ادارہ دوسرے ادارے کا خیال کرتا ہے۔
یہ عمل معاشرے میں خوبصورت روایات کو جنم دیتا ہے۔ رمضان المبارک دراصل مواخات کا مہینہ ہے۔ مواخات کا درس بھی نبی مہربان ﷺ کی زندگی میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ نبی مہربانﷺ کے فرمودات کو آگے بڑھانے والے افراد، ادارے ، خاندان یقیناً قابل قدر ہیں۔ انہی کی وجہ سے معاشرہ روز بروز سنور رہا ہے۔ پاکستان چونکہ اسلامی فلاحی ریاست ہے۔ خیرات میں پوری دنیا میں اس کا بڑا نام ہے۔ اس لئے چیرٹی کا کام کرنے والے ادارے بھی ہر نئے دن کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ مواخات کا فریضہ انجام دینے والے ادارے رمضان میں روزہ کھلوانے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کی سرگرمیاں غریبوں کی کفالت، ان کی تعلیم ان کی صحت سمیت دیگر ضروریات پوری کرنے سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ درجنوں ایسے ادارے جو لاہور سمیت ملک کے کونے کونے میں فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان میں ہسپتال، ایمبولینس پروگرام، کفالت پروگرام،تعلیمی پروگرامات، کنویں کھودنا سمیت غریب عوام کی بھوک مٹانے کے پروگرام شامل ہیں۔

الغزالی ٹرسٹ کے منصوبے مجھے بڑے ہی متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے غریب بچوں کو پڑھانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے اس میں ایسے علاقوں کا چناؤ کیا ہے جہاں حکومت نہیں پہنچ پاتی اور نہ نجی تعلیمی ادارے وہاں جاتے ہیں۔
الغزالی ٹرسٹ کے روح رواں عامر جعفری نے ملک بھر میں جاری منصوبوں کی تفصیل بیان کی تو مجھے بڑا حوصلہ ملا۔ الغزالی کا ہر منصوبہ بلا تفریق ہے۔ ان کے سکولوں میں عیسائی ہندو، مسلم تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے بچے محمدی استفادہ کر رہے ہیں۔ غزالی ٹرسٹ کے ترجمان نورالہدی کا جذبہ بھی قابل ستائش ہے۔ان کا جذبہ بھی متاثر کن ہے۔ ان کے منصوبوں کی برکت کے لئے دعا کے ساتھ ساتھ ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ نیکیوں کے موسم بہار میں الغزالی کے ساتھ تعاون کرکے ہزاروں غریب بچوں کو تعلیم کے زیور سے روشناس کرایا جا سکتا ہے جو اب تک حکومت کے کنٹرول سے بہت دور ہیں۔ الااحسان ویلفیئر آئی ہسپتال مغل پورہ کی تاریخ بھی مواخات مدینہ کی روایات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ الااحسان ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر مرد درویش حاجی ثناء اللہ نے اپنی زندگی نیک کاموں کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ 10بستروں سے شروع ہونے والا دروازہ 100بستروں کا ہسپتال بن چکا ہے۔ روزانہ 15سو مریض فری معائنہ کروا رہے ہیں۔
ایک اور ادارہ جو اہل لاہور کی ضرورت کے لئے 24گھنٹے خدمات دے رہا ہے اس کا نام ہے ثریا عظیم وقف ہسپتال چوک چوبرجی جماعت اسلامی لاہور کے زیرانتظام ثریا عظیم ہسپتال نے خدمت کا نیاریکارڈ بنایا ہے۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد کی زیر قیادت ثریا عظیم کے ایم ایس، چیف ایگزیکٹو بریگیڈیئر ڈاکٹر ارشد ضیاء نے ثریا عظیم کو نیا ویژن دیا ہے۔ 100 فیصد مخیر حضرات کے تعاون سے چلنے والے ادارے میں 100روپے کی پرچی میں تمام تر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ درد دل رکھنے والوں کے لئے ثریا عظیم ہسپتال بھی منتظر ہے اس کی بھی مدد کی جائے، رہنمائی کی جائے، اس کا مستقل معاون بنا جائے۔
لاہور میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی شخصیت اور اس کا بے روزگاروں کو روزگار دینے کا منصوبہ نئی تاریخ رقم کررہا ہے۔ہیلپ لائن کا تعلیم اور فلاحی پروگرام ہسپتالوں میں مریضوں کو صبح دوپہر شام مفت کھانے کی فراہمی قابل قدر خدمات ہیں۔ ہیلپ لائن کے روح رواں میاں اخلاق الرحمن نے اپنی تمام دنیاوی ضروریات خواہشات کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے حصول کے لئے فلاح انسانی کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ ہیلپ لائن کے منصوبوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔سارے منصوبے کار خیر سے چل رہے ہیں۔ ہیلپ لائن کا بازو بننے کی بھی ضرورت ہے۔ رمضان میں بالعموم اور پورا سال بالخصوص ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بڑا بجٹ درکار ہوتا ہے۔ہر مسلمان کو اس میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے منصوبے بھی ہمارے دوست احباب کے تعاون سے چل رہے ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن نے پاکستان میں نیار یکارڈ بنایا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر عبدالشکور نے الخدمت کو نئی جہت دی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں انہوں نے خدمت کا جال پھیلا دیا ہے۔پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز پر بھی لبیک کہا ہے اور تعمیر انسانیت فلاح انسانیت کے ساتھ ساتھ چھت کی فراہمی۔ غریب بچوں کی پرورش، تھر جیسے علاقوں میں کنویں لگوانا اور برما سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کو فوری پہنچنا ان کا مشن اول ہے۔

درجنوں ادارے ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جو ہماری توجہ کے منظر ہیں۔ الخدمت لاہور کے صدر عبدالعزیز عابد نے الخدمت لاہور کے نئے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے جدیدطرز پر استوار کئے ہیں۔ الخدمت کے لئے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔مواخات کے منصوبے اللہ سے کاروبار کا بہترین ذریعہ ہیں۔ آئیں مل کر ان کے لئے دعا کریں اور دوا بھی کریں۔ جتنا حصہ ڈال سکتے ہیں ضرور ڈالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں