43

تمام سکول اساتذہ کو نہ نکالنے اور تنخواہیں دینے کے پابند ہیں، وزیر تعلیم سندھ


کراچی: (ڈیلی پریس کانفرنس) وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ تمام سکول اساتذہ کو نہ نکالنے اور تنخواہیں دینے کے پابند ہیں۔ کورونا کی وجہ سے بیشتر کاروبار بند ہو چکے، جو ادارے تنخواہیں نہیں دے سکتے، سٹیٹ بینک انہیں بلاسود قرض دے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک سکیم کا اعلان کیا ہے کہ جو ادارے ملازمین کو تنخواہ نہیں دے پا رہے وہ سٹیٹ بینک سے قرض لے کر ملازمین کو تنخواہ ادا کر سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کو چاہیے کہ بلا سود قرض دیا جائے۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ تمام سکول اس بات کے پابند ہیں کہ ملازمین کو پوری تنخواہ ادا کریں گے اور نوکری سے نہیں نکالیں گے۔ فی الوقت سکولوں کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ فیسوں میں 20 فیصدرعایت دیں۔ والدین سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو سکول فیسوں میں 20 فیصد رعایت دے رہے ہیں وہ لیں، جو اسکول فیسوں میں نہیں دے رہے، عدالتی سٹے آرڈر تک ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس کا بجلی کا بل 4 ہزار سے کم ہے، اسے آئندہ 10 ماہ کی اقساط میں تقسیم کر دیا جائے۔ مدارس اور مساجد کے گیس اور بجلی کے بل معاف کیے جائیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاق سے درخواست ہے کہ رہائشی علاقوں میں جن کا بل 2 ہزار تک آتا ہے، انھیں معاف کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈرز سے رابطے میں ہیں۔ سندھ حکومت این سی او سی کے فیصلوں پر عمل کرے گی۔ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے۔
صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے معاملے پر سب کی متفقہ رائے ہونا چاہیے۔ یکم جون سے سکول کھولنے کا اعلان کیا تھا، اگلے پانچ سے چھ دنوں تک ایجوکیشن کے حوالے سے اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔ حالات کے تناظر میں شاید یکم جون سے سکول کھولنا مناسب نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں