16

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان … قسط نمبر 46

فتح جنگ کے سامنے سو سوارسرخ اطلس کے لباس پہنے،گھوڑوں کی پاکھروں پر سرخ پوشش ڈالے،کاندھوں پر زرنگار بیدقیں اٹھائے موجود تھے۔یہ دارا شکوہ کے خانہ زار تھے۔ ان کا صرف یہ کام تھاکہ میدان جنگ میں اس نے کونے سے اس کونے تک احکام پہنچائیں۔ان کا سردار نصرت خاں تھا۔اس کے زعفرانی پھر یرے پر سورج بنا تھااور ان سب کی نگاہیں داراشکوہ پر مرکوز تھیں۔پھر داراشکوہ نے رنبیر سنگھ کچھواہہ کو گردن کے اشارے سے قریب آنے کا حکم دیا۔رنبیر سنگھ گھوڑے سے اتر کر اس کی سیڑھی پر چڑھ گیاجو غلاموں نے لگا تھیں۔جب اس کا سر عماری کے قریب پہنچ گیاتو مدہم آواز میں حکم ملا کہ
’’تم برق انداز خاں کے سر پر مسلط رہو۔غداری محسوس کرتے ہی گردن اڑاداور توپ خانہ اپنی کمان میں لے لو۔‘‘
ابھی رنبیر سنگھ اپنے گھوڑے پر سوار بھی نہ ہو پایا تھاکہ درگاہ سنگھ ہاڑاحکم پا کر سیڑھی پر چڑھ گیا۔فرمان ملا۔
’’پچاس سورماؤں کے ساتھ امیر الامراء کے ہاتھی پر مستعد رہو۔نافرمانی پر مائی دیکھتے ہی بوٹیاں اڑادو۔‘‘
درگاہ سنگھ گرو کے بادل میں غروب ہو گیااور داراشکوہ عماری میں کھڑاہو گیا اور اب ہوا کہ یلغار کا حکم دینے والا ہے کہ دفعتہً غنیم کی توپیں گرجنے لگیں۔داراشکوہ نے ایک کا توقف کیاپھر نصرف خاں کو حکم دیا۔
برق انداز خاں کو حکم دیا جائے کہ دشمن پر آگ کی بارش کر دے۔نصرت خاں بذاتِ خود صفوں کو چیرتا نکلا اور ساتھ ہی نقاروں پر چوٹ پڑی اور جنگ کے آغاز کے اعلان ہو گیا۔
برق انداز خاں نے اپنے سرخ بھاری جھنڈے کو جو بندھا ہوا تھا،زمین پر گاڑھ دیااور توپیں جو بارو اور گولوں سے بھری انتظار کر رہی تھیں۔فلیتہ دیکھتے ہی داغنے لگیں۔ان کی بھیانک آوازوں سے آسمان ہلنے لگی۔ہاتھی چنگھاڑنے لگے،گھوڑے ایلیلیں کرنے لگے اور چشم زدن میں تمام آسمان سیاہ گاڑھے دھوئیں سے بھر گیا۔دھوئیں کے اس موٹے نقاب کے اس طرف سے دشمن کی توپوں کی ایک باڑھ سنائی دی۔پھر آوازیں گونجنے لگیں۔آدمیوں اور جانوروں کی سمجھ میں نہ آنے والی آوازوں کے حسب توفیق معنی پہنائے جانے لگے۔ابھی دارائی توپیںآگ برسا رہی تھی کہ نواب خلیل اللہ خاں گھوڑا اڑاتا آیا۔میدانِ جنگ کے آداب کے مطابق زمین پر بیٹھے بیٹھے کورنش ادا کی اور بلند آواز میں مبارک باد دی۔
’’مہین پور خلافت کو فتح مبارک ہو۔برق انداز خا ں کے توپ خانے نے غنیم کی صفوں میں حاشر برپا کر دیاہے۔قبل اس کے دشمن سنبھالا لے،ہم اپنی تلواروں پر اسے رکھ لیں اورکھڑے کھڑے میدان چھین لیں۔دارا نے نواب کو خود کے چھجے سے ملا خطہ کیا۔کچھ کہنے ہی والا تھا کہ رستم خاں فیروز جنگ نے تسلیم کے بعد گزارش کی۔
’’دشمن ہماری توپوں کی زد سے باہر ہے اس لئے نمک خواری کی رائے ہے کہ سامان جنگ کو برباد ہونے سے روکا جائے۔‘‘
نواب رستم خاں کی کاٹ کو ہڈیوں تک پہنچتا محسوس کیا اور زہر میں بجھے لہجے میں مخاطب ہوا،
’’خان اعظم کے خطاب کاکچھ تو بھر رکھو رستم خاں فیروز جنگ بہادر،دشمن کی صفیں درہم برہم ہو چکیں۔ آگ لگ گئی،دمدے غارت ہو چکے ۔دشمن پر شکست کاسایہ پڑنے لگااور تم کہتے ہو کہ دشمن ہماری توپوں کی زد سے باہر ہے۔اگر جنگ مغلوبہ کا خوف ایسا ہی طاری ہے تو فلک بارگزہ کی حفاظت کا انتظام سنبھال لو۔ہم میدان جنگ ہی میں بوڑھے ہوئے ہیں۔اس لڑائی کو بھی جھیل لیں گے‘‘
ایک ایک جملہ تیر کی طرح رستم خان کے کلیجے پر لگا۔ہاتھ قبضہ شمشیر پر کانپ گیااور خیال آیا کہ وہ دارا حضور میں ہے۔جو برق انداز خاں کی طرح ہر مسلمان امیر کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگاہے اور انتہائی ضبط سے ولی عہد کی موجودگی کے آداب کو برتا ۔تاہم گھوڑا ریلتا ہوا نواب کے سامنے پہنچ گیا۔قبل اس کے کہ وہ کچھ عرض کرے،حکم ملا۔
’’خان اعظم اپنے مقام پر جائیں اور دوسرے حکم کا نتظار کریں۔خان نے سر کوخم کیا اور اتنی زور سے گھوڑے کے مہمیز ماری کہ وہ پاکھر کے باوجود زخمی ہوتے ہوتے بچا۔اور چاروں پیروں پر اس طرح اچھلا جیسے ہرن تیر کھا کر اٹھتاہے ۔سواروں اور پیادوں کو پھاڑتا ہوا خاں اپنے لشکر میں آیا۔خدام رکاب تھامے لپکے لیکن وہ پھاند پڑا۔قبل اس کے کہ عماری سے سیڑھی اتار کرلگائی جائے،خان ہاتھی کے دانت پکڑ کر سوار ہو چکا تھا اور کھڑے کھڑے للکارا۔
’’ہم کہ شجاعت ہمارے نام سے زندہ اور دلاوری ہماری ذات سے قائم ہے۔دشمن پر چڑھ کر یلغار کرتے ہیں جس کو رستمی کرنا اور اسفند یاری دکھانا ہو وہ گھوڑے اٹھا دے نہیں تو تلواریں گلے سے اتار کر ڈھولک پہنا لے۔‘‘
خان کی رکاب میں اصیل گھوڑے تھے جو لگام سہنے کے عادی نہ تھے۔خاں نے تو کوڑے برسائے تھے۔بارہ ہزار زبانوں نے ان ایک زبان ہو کر خان اعظم رستم خان فیروز جنگ بہادر کے نعرہ جنگ کی تکرار کی۔ساتھ ہی فیلبان نے ایسی چوٹ کی کہ خان کا ہاتھی توپ کے گولے کی مانندصفوں سے نکلااور صف شکن خاں کے توپ خانے پر چلا۔صف شکن خان نے توپ خانے ہی میں بال سفید کئے تھے،بڑی بڑی لڑائیاں لڑی اور جتنی تھیں۔چیخ چیخ کرتوپیں بھرنے کا حکم دیا۔جان جو کھم میں ڈال کر توپوں کے دہانے رستم خاں کی طرف پھیر دیئے اور تجربہ کاری اور پامردی سے اپنا با زو بچائے بیٹھا رہااور ہر اول کے تیروں اور تفنگوں کے چھوٹے چھوٹے وار سہتا رہا۔جب رستم خان اپنے سارے لشکر کے ساتھ سو گز پر چڑھ آیاتو صف شکن خاں نے کلیجے کی ساری طاقت لگا کرآواز دی۔
’’ضرب‘‘
اور چھوٹی بڑی ڈیڑھ سو توپین ایک سر ہو گئیں۔سوار اور پیادے اور گھوڑے اور ہاتھی کٹے ہوئے درختوں کی طرح گرنے لگے۔کتنے ہی ہاتھ پیر چیتھڑوں کی طرح فضا میں بکھر گئے۔
(جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں