293

بِٹ کوائن کرنسی ,پاکستان کے مالیاتی مسائل کا حل


سترہویں صدی میں جب بارٹر سسٹم ختم ہوا اور بینک نوٹس کا آغاز ہوا تو لوگ ایک بڑے عرصے تک اُسے قبول نہ کرسکے حالانکہ نوٹ کی رقم کے پیچھے اُس کی حقیقی مالیت چاندی کی صورت میں موجود تھی۔ بہرحال یہ نوٹ بیسویں صدی تک چلتے رہے۔ لیکن آج استعمال ہونے والے نوٹ کی حقیقی قیمت موجود نہیں اس نوٹ کی حقیقی قدر صرف وہ اعتماد ہے جو ہم مالیاتی اداروں پر کرتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد بھی اسوقت پارہ پارہ ہوگیا جب 2008ءمیں عالمی مالیاتی بحران آیا، حکومتیں اور بینک مالی و معاشی مسائل میں مبتلا ہوگئے۔ خصوصاً امریکی و یورپی حکومتوں نے دھڑا دھڑ نوٹ چھاپے تاکہ بحران میں پھنسے مالیاتی اداروں کو سہارا دے سکیں۔ جس کے نتیجے میں کئی بینک اور ہزار ہا کاروباری ادارے دیوالیہ ہوئے۔یوں بینکوں پر سے عوام کا اعتماد جاتا رہا اور تجارت کی دنیا میں خلا آگیا جس نے اکیسویں صدی کی کرنسی کی ایک ایسی جہت سے روشناس کروایا جس کا تصورآج سے پہلے موجود نہیں تھا، اس کا نام کرپٹو کرنسی ہے جوکہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اور مالیاتی ادارے اور حکومتیں اس کے پیچھے کھڑی ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں لیکن مجھے اس امر میں کوئی شک نظرنہیں آتاکہ آئندہ دور ڈیجیٹل ایج ہے اور باقی ہرچیز کی طرح کرنسی بھی ڈیجیٹل ہی چلے گی، اگر پاکستان جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری سطح پر اس کے آغاز کے لیے اقدامات کرسکے تو عالمی میعیشت کو اپنی مٹھی میں کرسکتا ہے۔
تذبذب کا شکار لوگ پانامہ اور سوئٹزرلینڈ کی مثالیں سامنے رکھتے ہوئے سوچیں کیسے ان ممالک نے غیر قانونی پیسے کو قانونی شکل دے کر دنیا بھر سے کرپٹ لوگوں کا پیسہ اپنے بینکوں میں جمع کیا اوراس وقت دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس میں یوں بھی کشش ہے کہ بِٹ کوائن کا نااہل سیاست دانوں اور لالچی بینک کاروں سے کوئی تعلق نہیں جن کے باعث ہمارا ملک اور ہماری معیشت زوال پذیر ہے۔ مزید یہ کہ اس کی بدولت نہ صرف فراڈ سے بچاو ملے گا بلکہ افراط زر بھی جنم نہیں لے گا کیونکہ یہ ڈیجیٹل کرنسی معین وقت ہی میں جنم لیتی ہے اور اس کی تعداد بھی مقرر ہے۔
بِٹ کوائن دراصل ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی کے ایک بالکل نئے رخ کو اپنے ذہن میں اتارنا پڑتا ہے۔ مگر بنیادی طور پر کرپٹو کرنسیاں مکمل طور پر روایتی پیسے سے مختلف نہیں ہیں۔ فی الوقت یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جو کمپیوٹر کی مدد سے بنتی ہے۔ یہ کرنسی حسابی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہے، جو کہ کرپٹولوجی اور کرپٹو گرافیکل تکنیک سے تیار کی جاتی ہے اس لیے اس میں فراڈ اور جعلسازی کی گنجائش ہی موجود نہیں۔ جس کے لیے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے۔ جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہوتا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بِٹ کوائن بناتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہ 2009ءمیں متعارف ہوئی اور فروری 2011ءمیں ایک بِٹ کوائن کی مالیت ایک امریکی ڈالر کے برابر پہنچ گئی۔ پھر اس ابھرتی ڈیجیٹل کرنسی نے مڑکر نہ دیکھا اور چھلانگیں مارتی ترقی کرنے لگی۔ اواخر2013ءتک اس کی قدروقیمت اتنی بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ صرف ایک بِٹ کوائن (برابر 1151ڈالر) سے 25گرام سونا خریدنا جاسکے۔
دسمبر 2013ءتک بِٹ کوائن کی تعداد دس ہزار تھی اورانکی مالیت پاکستانی کرنسی کے حساب سے ایک ارب پچاس کروڑ روپے تک جاپہنچی۔ بِٹ کوائن کی مقبولیت میں باقاعدہ اضافہ اس وقت ہوا جب دکان دار وتاجر اسے بطور کرنسی قبول کرنے لگے۔ اور یہ تھوڑے ہی عرصے میں مقبولیت کی انتہاءکو پہنچ چکی ہے آج ایک بِٹ کوائن کی قیمت 19 لاکھ پاکستانی روپوں سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ فی الوقت تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ 78 ہزار بِٹ کوائن گردش میں ہیں اور ان کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر محدود اضافہ ہو رہا ہے۔
دسمبر 2017 میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن (زیرِ گردش کرنسی ضرب قدر) 600 ارب ڈالر تھی اورماہرین کے نزدیک یہ ایک کھرب ڈالر تک پہنچے گی۔ بِٹ کوائن کا حسابی ادارہ فی الوقت بلوک چین (block chain) ہے جو کہ ایک نئی طرح کا انٹرنیٹ ہے جس میں ڈیجیٹل معلومات ہر ایک دیکھ سکتا ہے مگر اسے کاپی نہیں کر سکتا۔ ہر دس منٹ میں ہونے والی لین دین (transaction) کا ریکارڈ چیک کر کے محفوظ کر دیا جاتا ہے جسے بلوک کہتے ہیں۔ سارا ڈیٹا نیٹ ورک پر ہوتا ہے اس لیے ہر ایک اسے دیکھ سکتا ہے۔
حال ہی میں امریکی فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کریں گے۔ چین نے شروع میں بِٹ کوائن کو فروغ دیا مگر پھر ایکسچینج کے ذریعے کوائن حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی جس سے کرپٹو کرنسی ایکسچینج میں ہلچل مچ گئی۔ پیپلز بینک آف چائنا نے دسمبر کے اختتام پر اعلان کیا کہ اس نے بھی اپنی خودمختار کرپٹو کرنسی ڈیزائن کرنے کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حکومتیں اور کارپوریشنز اپنی اپنی ڈیجیٹل کرنسیاں لانچ کرنا چاہتی ہیں اور اس میں شک نہیں کہ برقی پیسہ ایک بالکل نیا روپ لے گا۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان نے بھی بِٹ کوائن کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا باضابطہ م¶قف یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بِٹ کوائنز یا کرپٹو کرنسیوں کو قانونی قرار دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر اس کی وجہ سے پاکستان میں زیرِ زمین ایکسچینج کے پھلنے پھولنے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ آپ اب بھی فیس بک، واٹس ایپ، ویب سائٹس اور دیگر ذرائع سے بِٹ کوائنز کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔
بِٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں اس وقت تک کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں، یہ عالمی طاقتوں کی پابندیوں اور ورلڈ بینک کی اجارہ داری سے عاجز، پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ عالمی ساہوکاروں کی گرفت سے آزاد ہے۔ فی الوقت روایتی کرنسیوں کے برعکس کوئی بھی حکومت یا مرکزی بینک کرپٹو کرنسیاں جاری نہیں کرتا لیکن یہ صورتحال شاید زیادہ دیر نہیں رہے گی، پاکستان کے پاس اس کی ملکیت کا پہلا ملک بننے کا چانس موجود ہے وگرنہ جلد کوئی نہ کوئی ملک اسے اپنا کے یہ طاقت اپنے ہاتھ میں کرلے گا۔ اگرچہ جاپان کو اس حوالے سے استثناءحاصل ہے کیوں کہ وہاں بِٹ کوائن قانونی ہے لیکن ابھی تک حکومت نے اس اپنایا نہیں اور ریگولیٹرز اور حکومتیں اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور اس کو پہلے اپنانے والا ملک یا ادارہ بادشاہ گر بن سکتا ہے۔ پاکستان اسکو اپنا کر اگر ایشین بلاک کو ساتھ ملا لے تو کم از کم ایشین بلاک میں مغربی کرنسیوں کی اجارہ داری ختم کرنا ممکن ہوسکتا ہے اور بعد ازاں یہی ایشین کرنسی بلاک عالمی لیول پر ایک نئی معاشی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں