87

برطانیہ 47 سال بعد یورپی یونین سے الگ ہوگیا


لندن(ڈیلی پریس کانفرنس)برطانیہ 47 سال بعد یورپی یونین سے الگ ہوگیا جس پر برطانیہ میں اہم عمارتیں برطانوی پرچم کے رنگ میں رنگ گئیں۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی رہائش گاہ کے سامنے بریگزٹ کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے آ گئے، ممکنہ تصادم روکنے کے لیے سیکورٹی اہل کار موقع پر پہنچے گئے۔برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر روشن کی گئی گھڑی نے یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ بیلجیم میں برطانوی سفارتخانے سے یورپی یونین کا پرچم اتار دیا جبکہ برسلز سے یونین جیک بھی ہٹادیا گیا۔بریگزٹ پر عمل سے کچھ گھنٹے پہلے برطانوی کابینہ کا علامتی اجلاس ہوا جس کے بعد جاری بیان میں وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ بریگزٹ انکی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے، تاہم انہوں نےصحافی کی جانب سے پوچھے گئے ملک کو دوٹکڑے کرنے کے سوال کا جواب نہیں دیا۔برطانیہ کے قائد حزب اختلاف جریمی کوربن نے کہا کہ بریگزٹ ڈے جشن کا نہیں، سوچ بچار کا دن ہے، انہوں نے مستقبل کے حوالے سے اپنے خدشات کا بھی واضح اظہار کیا ہے۔جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں لارڈ طارق احمد کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی ملکی تاریخ کا اہم موڑ ہے، یورپی یونین چھوڑنے کے لیے دیگر ملکوں سے تجارت، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔اس موقع پر برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی پر خوشی نہیں، ساڑھے 3 سال کا وقت بہت مشکل تھا، اب غیریقینی صورتحال ختم ہوچکی ہے، چاہتے ہیں برطانیہ کے حق میں بہتری ہو، کم وقت میں بہت کام کرنا ہے۔ادھر امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے خوشی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین نے بریگزٹ پر اتفاق کیا، بریگزٹ ڈیل سے برطانوی عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہوئی، برطانیہ سے مضبوط اورتعمیری تعلقات جاری رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں