315

الگ صوبہ مانگنے والوں پر لعنت کیوں؟

جس کے منہ میں جو آتا ہے بول دیتا ہے، نہ سوچتا ہے اور نہ اپنے کہے کے اثرات پر غور کرتا ہے۔ اب کوئی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے پوچھے کہ انہیں یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ میں الگ صوبہ مانگنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔

آپ لعنت بھیجنے والے کون ہیں؟ یہ تو ایک سیاسی مطالبہ ہے، سیاسی بحث ہے، کوئی کسی کو گالی تھوڑی دے رہا ہے کہ آپ اس پر لعنت بھیجنا شروع کردیں اور یہ کون سی ملک دشمنی ہے، اگر عوام کے مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کا مطالبہ کیا جائے، اس سے ملک کو کیا نقصان پہنچنے کا احتمال ہے، جس کی وجہ سے آپ لعنت بھیجنے تک آجائیں۔ لعنت تو مراد علی شاہ کو اُن لوگوں پر بھیجنی چاہئے تھی، جنہوں نے سندھ کا برا حال کر دیا ہے۔
کراچی کے عوام کہنے کو ایک بڑے شہر میں رہ رہے ہیں، مگر اُن کی حالت کسی پسماندہ ترین شہر کے باشندوں جیسی ہے۔ بجلی، پانی، گیس، روزگار اور صفائی غرض کون سی بڑے شہر والی سہولت انہیں حاصل ہے۔

چلیں بلاول کی یہ بات تو گوارا ہے کہ’’ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘۔۔۔ مگر یہ لعنت کا لفظ تو ویسے ہی ناموزوں سا لگتا ہے اور وہ بھی صوبے کے وزیر اعلیٰ کی زبان پر اب وہ مختلف تاویلیں گھڑ رہے ہیں، لیکن اگر پہلے ہی جذبات پر قابو رکھتے تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔
جب سے مراد علی شاہ نے یہ بیان دیا ہے، پنجاب کے تختِ لاہوری حلقے سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اکسا رہے ہیں کہ وہ بھی پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجیں۔ ایسے عناصر کو اتنی عقل نہیں کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کیسے کروڑوں لوگوں کے مطالبے کو رد کرسکتی ہے، کیسے لعنت بھیج سکتی ہے۔

جو الگ صوبہ مانگ رہے ہیں، وہ کوئی غیر پاکستانی تھوڑی ہیں، ایک سیدھی سی بات کو اپنے مقاصد کے لئے منفی معنی کیسے پہنائے جاتے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ سندھ میں کوئی صوبہ مانگے تو کہا جاتا ہے، سندھ کو توڑنے کی بات کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیں گے، اسی طرح پنجاب میں الگ صوبہ مانگنے پر یہی کہا جاتا ہے کہ پنجاب کو توڑنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی کیا ان لوگوں کو اتنی عقل نہیں کہ توڑنے اور تقسیم کرنے میں کیا فرق ہے؟ کوئی صوبہ کبھی نہیں ٹوٹتا ملک ٹوٹتا ہے، جیسے 1971ء میں ٹوٹا تھا۔ کیا آج ستر برس بعد فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہورہا ہے، تو یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔
وقت کے ساتھ ضرورتیں بڑھتی ہیں، تو فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ تقسیم کے وقت پنجاب کی آبادی چار کروڑ تھی جو آج چودہ کروڑ ہے، سندھ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے، مسائل بڑھے ہیں، لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے سینکڑوں میل کا سفر کرکے دارالحکومت جانا پڑتا ہے، ایسے میں اگر لوگ ریلیف مانگتے ہیں تو انہیں اس کا مناسب جواب ملنا چاہئے، نہ کہ لعنت دے کر انہیں چپ کرانے کی کوشش کی جائے۔
سندھ کا ایشو الگ صوبے کے حوالے سے پنجاب کی نسبت تھوڑا مختلف ہے، وہاں کراچی کو الگ صوبہ نانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور وہ بھی ایم کیو ایم کرتی رہی ہے۔ اس کی ضرورت بھی اس لئے پیش آرہی ہے کہ کراچی مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے، گزشتہ دو دہائیوں میں نمائندگی کی تقسیم کچھ اس طرح رہی کہ کراچی میں ایم کیو ایم نے مہاجر ووٹ کے ذریعے کلی کامیابیاں حاصل کیں اور پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ کا ووٹ لیا، اس تقسیم کی وجہ سے کراچی بری طرح متاثر ہوا۔

سندھ حکومت اس کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر ڈالتی رہی اور ایم کیو ایم سندھ حکومت پر پیپلز پارٹی کے تسلط کی وجہ سے یہ کہتی رہی کہ سندھ حکومت نے کراچی کو نظر انداز کیا۔

شاید یہ سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا، تاکہ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا جواز پیدا کیا جاسکے، وگرنہ یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں تھی کہ کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم متحد ہو کر کوشش کریں۔شہری و دیہی نمائندگی کی اس تقسیم کے باعث لوٹ مار کا بازار بھی گرم رہا اور اربوں روپے لوٹ کر ملک سے باہر بھجوائے جاتے رہے۔

خود ایم کیو ایم کے تمام ارکانِ اسمبلی کروڑ پتی ہوگئے، حالانکہ وہ سفید پوش طبقے کی نمائندگی کے نام پر سیاست میں آئے تھے۔ آج بھی کراچی کے حالات کو بہتر بنادیا جائے، اس میں شہری سہولتوں کا جومہیب خلاء نظر آتا ہے، اسے پُر کردیا جائے، تو کسی کو یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کہ سندھ سے کراچی کو الگ کرکے صوبہ بنادیا جائے۔ آج کل ایم کیو ایم ایک بحران سے دوچار ہے۔

اس کے لئے اس مطالبے کو دوبارہ زندہ کرنا انہونی بات نہیں، حالانکہ وہ گزشتہ 25سال سے اس شہر کی سیاست اور وسائل سے کھلواڑ کرتی رہی ہے، اس نے امن و امان کے حوالے سے بھی شہر کو برباد کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا، اب بدلے ہوئے حالات میں وہ اس نعرے کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہے کہ کراچی کو الگ صوبہ بنایا جائے، تاہم اس مطالبے کا وہ جواب نہیں جو وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے دیا، بلکہ اس کا اصل جواب کراچی کے حالات کو بہتر بناکر دیا جانا چاہئے۔

جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو یہاں الگ صوبے کی باتیں پچھلی کئی دہائیوں سے کی جارہی ہیں۔ مرحوم تاج محمد خان لنگاہ نے سرائیکی پارٹی بناکر اس مطالبے کو ہوا دی، پھر یہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ پنجاب کے کسی حکمران نے کبھی یہ نہیں کہا کہ الگ صوبہ مانگنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں، بلکہ ہمیشہ کوشش یہی کی گئی کہ صوبہ مانگنے والوں کو مختلف انتظامی اقدامات کے ذریعے مطمئن کیا جائے۔

اب یہ برسوں کی جدوجہد یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مطالبے کی نفی نہیں کر رہی۔ وہ پیپلز پارٹی جو سندھ میں الگ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجتی ہے، وہ یہاں آکر عوام کو یقین دلاتی ہے کہ جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنایا جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری تو جب بھی ملتان یا جنوبی پنجاب کے کسی شہر میں آتے ہیں تو الگ صوبے کا پہاڑہ پڑھنے لگتے ہیں، سو ہر بات کو سوچ سمجھ کر کہا جائے تو عزت بھی رہ جاتی ہے اور مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ پنجاب کو توڑنے کا مطالبہ کرنے والے ملک دشمن ہیں، تو ان کی سوچ پر رحم آتا ہے۔

پنجاب کو کون توڑ رہا ہے، یہ تو ایک انتظامی تقسیم ہے جو بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے ضروری ہوگئی ہے، اس کا مطالبہ کوئی اور نہیں، بلکہ خطے کے عوام کررہے ہیں۔ کروڑوں عوام کے اس جائز مطالبے کو کیسے پس پشت ڈالا جاسکتا ہے؟ اس بار انتخابات سے پہلے جو واقعات رونما ہورہے ہیں، وہ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ صوبہ پنجاب کی دو انتظامی صوبائی یونٹوں میں تقسیم پر اب اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔ پہلے مسلم لیگ (ن) کے نو ارکان اسمبلی نے پارٹی سے الگ ہو کر علیحدہ صوبے کو صوبہ محاذ بنایا، پھر وہ نئے صوبے کی حمایت کا وعدہ لے کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔

تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کے قیام کو اپنے پہلے سو دن کے پروگرام میں بھی شامل کرلیا۔ اب کل بھی ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی کہ بہاولپور صوبے کے داعی نواب صلاح الدین عباسی نے بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات کی اور اپنی پارٹی تحریک انصاف میں ضم کردی۔

اس کی اہمیت اس لئے بہت زیادہ ہے کہ جب بھی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بات ہوتی تھی تو نواب صلاح الدین عباسی کی قیادت میں یہ مطالبہ داغ دیا جاتا تھا کہ ہم ریاست بہاولپور کے وارث ہیں، جنوبی پنجاب کا حصہ نہیں بنیں گے، ہمارا بہاولپور صوبہ ریاست بہاولپور کی حدود کے مطابق بحال کیا جائے۔

گزشتہ دورِ حکومت میں جب پیپلز پارٹی نے الگ صوبے کے لئے اسمبلی میں قرار داد پیش کی تو وہ اسی لئے منڈھے نہ چڑھ سکی کہ بہاولپورصوبہ محاذ نے اس کی مخالفت شروع کردی تھی۔ اس تناظر سے نواب صلاح الدین عباسی کی تحریک انصاف میں شمولیت جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے،جو ملک فیڈریشن کی بنیاد پر چل رہا ہو، اس میں ایسے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں، انہیں طاقت کے ذریعے دبانے کی بجائے سیاسی طور پر ہینڈل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے،الگ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجنا تو بالکل ہی نامناسب ہے، وہ کوئی ملک سے علیحدگی نہیں مانگ رہے، نہ ہی آزادی کا مطالبہ کررہے ہیں، وہ تو اپنے مسائل کے حل، اپنی زبان و ثقافت کی پہچان اور پسماندگی کے خاتمے کی خاطر مطالبہ کررہے ہیں یا تو آپ صوبہ بنائے بغیر انہیں یہ سب حقوق دے دیں یا پھر ان کے لئے الگ صوبہ بنادیں، اس سے احساس محرومی میں کمی، قومی یکجہتی میں اضافہ اور گڈ گورننس آئے گی۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ سب کچھ ہو چکا ہے۔

پنجاب کے حالات کہا جاتا ہے بہت بہتر ہیں، ہاں لاہور کو دیکھا جائے تو کوئی مقابلہ ہی نظر نہیں آتا، مگر جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو دیکھ کر یہ ساری ترقی اُلٹا الزام بن جاتی ہے کہ صوبائی حکومت نے سب وسائل لاہور اور اپر پنجاب پر خرچ کردیئے، جنوبی پنجاب کے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑدیا۔

اس بیانیہ پر نظر ثانی ہونی چاہئے کہ جو اپنا حق مانگے، اس پر لعنت بھیج دی جائے، یہ مسئلے کا کوئی حل نہیں، بلکہ مسائل کو پیدا کرنے کا ایک عمل ہے، جس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں