319

اقتدار کا آخری قطرہ: زرداری چُپ؟

امر واقع تو یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی موجودہ وفاقی حکومت اقتدار کے ہر قطرے کو چوسنے کا عزم رکھتی ہے اور اسی بنا پر صوبائی حکومتیں بھی اپنا اپنا حصہ وصول کر رہی ہیں، جہاں تک وفاق اور پنجاب کی حکومتوں کا تعلق ہے تو آج کل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے پاؤں گردش میں ہیں، وہ ہر روز مکمل یا نامکمل منصوبوں کا افتتاح کر کے تختیوں کی نقاب کشائی کرتے چلے جا رہے ہیں، بعض منصوبے ابھی تکمیل کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور ان کے افتتاح بھی ہو گئے، بلاشبہ جن منصوبوں پر موجودہ وفاقی یا صوبائی حکومتوں نے کام شروع کیا تھا وہ ان ہی کے کریڈٹ میں جائیں گے، کوئی دوسرا یہ حق نہیں جتا سکتا، تاہم یہ تو لازم ہے کہ ترقیاتی کام مکمل ہو جائیں تاکہ بعد میں شکایات کے دفتر کھلیں نہ خبریں بنیں،لیکن انتخابات کی آمد آمد ہے اِس لئے یہ بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

جیسے لاہور میں اورنج میٹرو ٹرین کا معاملہ ہے یہ منصوبہ کتنا مفید ہے، کتنا نہیں یہ ترجیح ہونا چاہئے تھا یا نہیں۔ یہ بالکل الگ بحث ہے اور اس پر بات بھی ہوتی رہے گی،لیکن تکمیل کے بعد میٹرو چلی تو میٹرو بس کی طرح اس کی بھی اپنی افادیت ہو گی تاہم گذارش یہ ہے کہ کریڈٹ کے معاملے میں اس کا کوئی اور دعویدار ہو ہی نہیں سکتا۔ حزب مخالف والوں کو اعتراض تو کرنا آتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ منصوبہ ان کا تھا اور مہر محمد شہباز شریف کی لگ گئی، لیکن اِس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ میٹرو اورنج لائن ٹرین کے پورے روٹ پر ابھی بہت زیادہ ترقیاتی کام ہونے والے ہیں اور اب تک جن ریلوے سٹیشنوں کے مکمل ہو جانے کی رپورٹیں کی گئی ہیں ان کے بھی بہت سے کام باقی ہیں، اسی طرح ریلوے ٹریک(پُلوں) کے اردگرد سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی حالت بہت پتلی ہے، حالانکہ یہ کام بھی ساتھ ساتھ ہونا چاہئیں تھے، اِس لئے ضروری ہے کہ جلدی میں ایسے کام نہ چھوڑے جائیں، اگر عبوری حکومت سے پہلے مکمل ہو کر روٹ پورا نہیں ہوتا تو نہ سہی دعویٰ تو آپ ہی کا رہے گا اِس لئے ادھر بھی توجہ فرمائیں۔
یہ جو اقتدار کا آخری لمحہ بھی رکھنے کی بات ہے تو یہ دو بار وزیراعظم نے کہی اسے فاٹا انضمام بل کی منظوری کے بعد پھر دہرایا کہ31مئی تک حکومت برقرار ر ہے گی۔ وہ تو کہتے ہیں کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ ہو جائے گا،لیکن قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے مایوسی کا اظہار کر دیا اور کہا کہ وزیراعظم اپنی بات سے پھر گئے ہیں اور اتفاق رائے ممکن نہیں،انہوں نے اپنی طرف سے شیری رحمن اور نوید قمر کو نامزد بھی کر دیا ہے کہ اب ملاقات نہیں ہو گی، فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔

وزیراعظم کو بھی دو ارکان نامزد کرنا ہوں گے اور پھر یہ پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی نہ ہونے کی صورت میں بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں ہو گی، اب بعض ستم ظریف جن کا تعلق یقیناًتحریک انصاف سے ہو گا، کہتے ہیں کہ یہ فریقین کی ملی بھگت ہے وہ آخری وقت میں فیصلہ چاہتے ہیں اور تحریک انصاف کو الگ رکھ کراپنی پسند سے وزیراعظم نامزد کریں گے کہ زیادہ احتجاج نہ ہو، ہم کسی کی نیت پر تو شبہ نہیں کرتے،لیکن ایک حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ارادہ مستحکم ہو تو پھر ہر رکاوٹ دور ہوجاتی ہے جیسے فاٹا انضمام بل پر ہوا۔
یہ بہت بڑا مسئلہ تھا جو حل ہوا، نگران وزیراعظم کے حوالے سے تو ایسا نہیں ہے، پھر بھی اگر بات بڑھائی جا رہی ہے تو یقیناًشکوک کا سبب بنے گی، اِسی لئے اعترض ہوا ہے، ویسے ایک تجربہ یہ دونوں رہنما (وزیراعظم+ قائد حزبِ اختلاف) پہلے بھی کر چکے، جو چیئرمین نیب والاہے۔

اب دونوں اطراف کو اعتراض ہے اور تنقید ہو رہی ہے کسی طرف سے زیادہ اور دوسری طرف سے کم! اِس لئے بہتر یہی ہے کہ دونوں پھر سے مل بیٹھیں اور ایک ایسے نام پر متفق ہو جائیں جو عمومی طور پر سب کو قابلِ قبول ہو جائے کہ ابھی تو انتخابی عمل شروع ہونا ہے اور ماحول سخت گرم ہے۔ یہ تاخیر اس تلخی میں اضافے کا سبب بنے گی۔
بات آصف علی زرداری کے بارے میں کرنا تھی،لیکن وہ اس وقت تک تو خاموش ہیں،حالانکہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اب تو کھل کر کہہ دیا کہ پیغام لانے والے کو آصف علی زرداری ساتھ لے کر آئے تھے، اس سے پہلے وہ جنرل(ر) پرویز مشرف کے اقدامات کو پارلیمانی تحفظ دینے کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں، پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے تو جواب دیا تاہم خود سابق صدرِ مملکت تاحال چُپ ہیں اور انہوں نے یہ روزہ نہیں توڑا، حالانکہ جمہوری اقدار کے حوالے سے یہ سنگین الزام ہے اور جواب لازم بنتا ہے۔

جہاں تک آصف علی زرداری کا تعلق ہے تو وہ جوڑ توڑ میں لگے ہوئے ہیں، حال ہی وہ ایک روز کے لئے اپنے چند دوستوں کو لے کر خصوصی طیارے سے دبئی گئے اور ایک ہی رات کے بعد واپس لاہور آئے اور یہاں سے اسلام آباد پہنچ کر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی، اب ہم ان ستم ظریفوں کا کیا کریں، جو کہتے ہیں کہ اتنی افراتفری خاص مشن کے لئے تھی اور آصف علی زرداری نے وہاں ایک اہم شخصیت سے ملاقات کی جو وہیں تھی، اس کے علاوہ انہوں نے اپنے عرب دوستوں سے بھی مشاورت کی ہے۔ اس کا جواب بھی وہ خود ہی دے سکتے ہیں، ویسے ابھی تک بضد ہیں کہ مسلم لیگ(ن) سے پنجاب چھین لیں گے، کیسے؟ یہ انہی کو علم ہے، کیونکہ برسر زمین تو حالات میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار نہیں ہیں، اگرچہ بلاول بھٹو کو ایک حد تک پذیرائی ملنا شروع ہو گئی اور اب تو بہت سے پارٹی رہنما الیکشن میں حصہ لینے کے لئے آمادہ بھی ہو گئے ہیں، لاہور کے صدر الحاج عزیز الرحمن چن کا نام سامنے نہیں آیا، ممکن ہے وہ اپنے صاحبزادے کو آگے بڑھائیں،لیکن یہ بھی علم نہیں ہو سکا ان پر بھی وضاحت لازم ہے۔
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرف سے احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسوں کی سماعت مکمل ہونے کے قریب اور انتخابی مہم شروع ہو جانے کے وقت بہت کچھ کہا جا رہا ہے وہ ہر روز بات آگے بڑھا دیتے ہیں، لوٹ کر پھر آصف علی زرداری کی طرف آتے ہیں کہ وہ جواب کیوں نہیں دیتے؟آخری بات یہ کہ تحریک انصاف کے چیئرمین محترم عمران خان بہت ہی پُرامید اور خود کو جیتا ہوا جان کر وزیراعظم بھی بنے بیٹھے ہیں، اپنے سونامی کو70 والے بھٹو انقلاب سے تشبیہہ دیتے ہیں،لیکن معروضی حالات ایسے نہیں، یہاں مقابلہ سخت اور وقت کم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں